शुक्रवार, 15 अप्रैल 2011

امریکی ’’مفادات‘‘ کے لئے بحرین میں قتل عام جائز؟


امریکی ’’مفادات‘‘ کے لئے بحرین میں قتل عام جائز؟


محمد احمد کاظمی 
شمالی افریقہ اور مشرقی وسطیٰ میں حالات بدستور کشیدہ ہیں۔ تیونیشیا اور مصر میں عوامی انقلاب کی کامیابی کے بعد لیبیا ،بحرین، یمن، اومان، اردن اور کسی حد تک سعودی عرب میں عوام حکمرانوں کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔ عوامی بیداری کے نتیجہ میں سب سے زیادہ متاثر ہونے والے حکمرانوں اور ان کے سیاسی آقاؤں امریکہ اور اسرائیل کی کوشش ہے کہ حکومتوں کی تبدیلی کا عمل ان ممالک میں کامیاب ہو جہاں وہ چاہتے ہیں یا جہاں کے حالات اب قابو سے باہر ہو چلے ہیں۔ لیبیا میں امریکہ اور اس کے اتحادی ناٹو ممالک نے معمر قذافی حکومت کے خلاف بمباری جاری رکھی ہوئی ہے جبکہ بحرین اور یمن میں عوامی انقلابات کو دبانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ بحرین اور یمن میں امریکہ اور اسرائیل کی اس خواہش کو پورا کرنے میں سعودی عرب تعاون دے رہا ہے۔ بحرین میں سعودی افواج براہ راست عوامی انقلاب کچلنے میں الخلیفہ حکومت کا ساتھ دے رہی ہیں جبکہ یمن میں سعودی خفیہ ایجنسیاں اور ماہرین علی عبد اللہ صالح حکومت کو بچانے کی جی توڑ کوششیں کر رہے ہیں۔
لندن سے شائع ہونے والے اخبار ٹیلی گراف نے امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان ہوئے ایک حالیہ سمجھوتے کا انکشاف کیا ہے جس کے تحت وہ لیبیا اور بحرین میں عوامی قتل عام میں ایک دوسرے کا تعاون کر رہے ہیں۔ اس کے تحت سعودی عرب لیبیا میں امریکہ اور اس کے اتحادی ممالک کے ذریعہ کئے جا رہے حملوں کی حمایت کرے گا۔اس کے بدلے میں امریکہ اور اس کے اتحادی ممالک بحرین میں الخلیفہ حکومت اور خلیجی تعاون کونسل اراکین کے ذریعہ عوامی انقلاب کو کچلنے کی کارروائیوں پر خاموش رہیں گے۔ اخبار نے سعودی حکام کے ذرائع سے لکھا ہے کہ انھوں نے مغربی ممالک کی لیبیا پر کی جا رہی کارروائی کی حمایت اس شرط پر کی ہے کہ وہ بحرین حکومت کے ذریعہ عوامی اطلاعات کے مطابق کویت میں بھی تین وزراء کے خلاف بدعنوانی کے الزامات کے نتیجہ میں سیاسی بحران پیدا ہو گیا ہے اور حکومت کو استعفیٰ دیناپڑا ہے۔
میں نے اس خطہ میں اکثر ممالک کے ایک سے زیادہ سفر کئے ہیں۔ عوام کے جذبات کو نزدیک سے سمجھنے کا موقع ملا ہے۔ عراق اور افغانستان میں امریکی جارحیت، اسی کی حمایت کے نتیجہ میں اسرائیلی مظالم کے جاری رہنے اور ان تمام واقعات سے پر اپنی حکومتوں کی خاموش حمایت کی وجہ سے عوام میں بے حد غصہ ہے۔ شمالی افریقہ اور اکثر عرب حکومتوں نے اپنے قومی مسائل کو امریکہ اور ان کے اتحادیوں کے دربار میں گروی رکھا ہوا ہے۔وہ اپنی شرائط پر ان ممالک کے قدرتی وسائل کا استحصال کرتے ہیں۔عوام کو غریب اور جاہل سازشی طور پر رکھا گیا ہے۔ یہ ممالک مغربی اشیاء کے لئے محض بازار بن کر رہ گئے ہیں۔ ان ممالک میں جو تعلیم یافتہ طبقے کے لوگ ہوتے ہیں انہیں خطے میں کشیدگی پھیلا کر اپنے ممالک میں پناہ لینے پر مجبور کیا جاتا ہے۔ یعنی ان ممالک کے قدرتی اور انسانی وسائل کا مغربی ممالک پوری طرح سے استحصال کرتے ہیں۔
بہرحال اب اکثر ممالک میں اپنے حقوق کے تئیں بیداری پیدا ہو رہی ہے۔ انقلاب کی اس چنگاری کو ختم کرنا فی الحال نا ممکن نظر آ رہا ہے۔ صرف فرق یہ ہے کہ جن ممالک میں بھی امریکہ کو تبدیلی اپنے حق میں نظر آ رہی ہے وہاں مخالفین کی حمایت کی جا رہی ہے۔ جہاں مغربی ممالک انقلابیوں کی مدد نہیں کر رہے وہاں انسانی اور مالی نقصان زیادہ ہوگا۔ آخر کار ظالم اور سازشی طاقتوں کو ناکام ہونا ہے اور عوام کو ان کے حقوق مل کر رہیں گے۔ انقلاب کے خلاف کی جا رہی کارروائیوں پر خاموش رہے سعودی عرب نے بحرین میں حکومت مخالف احتجاجیوں کو کچلنے کے لئے 1000مسلح فوجی بھیجے ہوئے ہیں جبکہ کویت ، اومان اور متحدہ عرب امارات نے بھی بحرین کو فوجی امداد دی ہوئی ہے۔ لیبیا پر امریکہ اور اس کے اتحادی یوروپی ممالک فضائی پابندیاں عائد کرنے کے لئے 350جنگی جہازوں سے حملے کر رہے ہیں۔ لیبیا کی معمر قذافی حکومت نے ان ممالک پر شہریوں کے خلاف حملوں کا الزام لگایا ہے۔ حالانکہ امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے ذریعہ شروع کئے گئے ہوائی حملوں سے پہلے قذافی حکومت نے کم از کم 10ہزار شہریوں کا قتل کیا ہے۔ بین الاقوامی سیاسی ماہرین کا کہنا ہے کہ لیبیا پر ہوائی حملوں کے پیچھے امریکہ کا مقصد وہاں کے تیل ذخائر پر قبضہ کرنا ہے۔
بحرین میں14فروری کو شروع ہوئے الخلیفہ حکومت کے خلاف احتجاجوں میں اب تک درجنوں افراد قتل کئے جا چکے ہیں جبکہ سینکڑوں زخمی اور لاپتہ ہیں۔ جب سے سعودی اور دیگر عرب ممالک کی افواج بحرین پہنچی ہیں تب سے تمام گائوں اور قصبوں تک میں مخالفین کو ایک ایک کر کے زد و کوب کیا جا رہا ہے۔ بحرین میں سب سے بڑی شیعہ جماعت الوفاق کے پاس 112ایسے افراد کی فہرست موجود ہے جو سیکورٹی دستوں کے ہاتھوں غائب ہوئے ہیں اور ان کا شمار مارے جانے والوں یا زخمیوں میں نہیں کیا گیا ہے۔ ان کے علاوہ تقریباً 100افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔
بحرین میں امریکہ کا پانچواں فوجی بیڑا موجود ہے جو کہ اس خطے میں امریکہ کے تمام عزائم کو پورا کرنے میں مدد فراہم کرتا ہے۔ حال ہی میں واشنگٹن میں واقع خلیجی امور کے ادارہ کے سربراہ علی احمد نے ایک ٹیلی ویژن انٹر ویو کے دوران اعتراف کیا تھا کہ اگر بحرین میں عوامی انقلاب کامیاب ہوا تو امریکہ کو یہ فوجی مرکز چھوڑنا پڑے گا کیونکہ اس نے الخلیفہ حکومت کی حمایت کی ہے۔
اس وقت حال یہ ہے کہ بحرین حکومت نے احتجاج کو دبانے کے لئے فوجی طیارے تیار رکھے ہیں۔ جمعہ کو تمام پابندیوں کے باوجود عوام کئی مقامات پر بڑے احتجاج منعقد کر رہے ہیں۔ البتہ منا ما کے پرل اسکوائر پر حکومت نے فوج اور پولس تعینات کی ہوئی ہے تاکہ یہاں مخالفین اکھٹے نہ ہو سکیں۔ لندن میں مقیم بحرین فریڈیم مومنٹ کے رہنماسعیدشہابی نے حال ہی میں کہا تھا کہ اس وقت بحرین میں فوجی حکومت ہے جو احتجاجیوں کو کچلنے کے لئے ہر ممکنہ قدم اٹھا رہی ہے۔ ان کے مطابق بحرین کی فوج اس وقت ملک بھر میں اسپتالوں اور میڈیا پر قابض ہے اور غیر معمولی قانونی پابندیاں نافذ کئے ہوئے ہے۔
ادھر بحرین میں سعودی عرب کی فوجیں بھیجنے کے خلاف سعودی عرب میں ہی مخالفت میں تیزی آ رہی ہے۔ مشرقی صوبے میں شیعہ اکثریتی شہروں قطیف، احساء اور کئی دیگر مقامات پر سیاسی قیدیوں کی رہائی اور بحرین سے فوجیں واپس بلانے کے مطالبے کے حق میں ہونے والے احتجاجوں میں بڑی تعداد میں لوگ شریک ہو رہے ہیں۔
ادھر لیبیا میں امریکہ اور اس کے اتحادی ناٹو ممالک کے ذریعہ کئے جا رہے حملوں کی مدد سے انقلابیوں نے اجدابیہ،بریگہ اور کئی دیگر شہروں پر قبضہ کر لیا ہے۔ تیل کے لئے مشہور شہر راس النوف کئی بار معمر قذافی اور انقلابیوں کے قبضہ میں آ چکا ہے اور وہاںسب سے شدید جنگ جا ری ہے۔ البتہ یہ طے ہے کہ اب معمر قذافی حکومت کے جاری رہنے کے امکانات ختم ہو چکے ہیں۔ ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ ابھی تک لیبیا میں قذافی مخالف رہنمائوں نے امریکہ اور اس کے اتحادی ممالک سے اس احسان کے بدلے میں کوئی خاص وعدہ نہیں کیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ راس لنوف تیل مرکز پر مخالفین کا قبضہ ہونے کے بعد بھی قذافی کے فوجیوں کا پھر سے قبضہ ہونے دیا گیا۔ ورنہ یہ ممکن نہیں ہے کہ اگر زمینی جنگ میں شامل انقلابیوں کو فضائی حمایت مسلسل ملے پھر بھی شہر پر پھر سے قذافی کے فوجی پھر سے قابض ہو سکیں۔
میرا تجزیہ ہے کہ امریکی حکام مصر میں حسنی مبارک مخالف قوتوں کی حمایت کر کے پچھتا رہے ہیں۔ انہیں یہ محسوس ہو گیا ہے کہ خطے کے ممالک میں اٹھنے والی تحریکوں کی کامیابی کے نتیجہ میں ان کے ’’مفادات‘‘ کو نقصان پہنچے گا۔ مصر میں ابھی کوئی جمہوری حکومت قائم نہیں ہوئی ہے پھر بھی وہاں کی عبوری حکومت نے عوام کی مرضی کے مطابق ایرانی فوجی جہازوں کو سوینر نہر سے گزرنے کی اجازت دے کر اور غزہ اور مصر کے درمیان سرحدی چوکی کھول کر یہ واضح اشارہ دیا ہے کہ وہ اب اسرائیل اور امریکہ کی مرضی کے مطابق فیصلے نہیں کریں گے۔ لیبیا کے معمر قذافی 2003سے پہلے تک امریکہ کے شدید مخالف سمجھے جاتے تھے۔قذافی صدام حسین کی حکومت کا تختہ پلٹتے ہی خوفزدہ ہو کر امریکہ پر ایمان لے آئے تھے اور اپنے جوہری پروجیکٹ کا تمام ساز و سامان پانی کے جہاز میں لاد کر امریکہ کے لئے روانہ کر دیا تھا۔ اس کے بعد امریکہ اور اس کے اتحادی ممالک نے لیبیا کے تیل پر ایک طرح سے قبضہ کر لیا۔ لیبیا میں معمر قذافی کے خلاف احتجاجات کے شروع میں امریکہ نے قذافی مظالم پر طویل خاموشی رکھی جس کے نتیجہ میں تقریباً 10ہزار افراد لقمۂ اجل بن گئے۔ اب تک لیبیا کی حکومت سے کم از کم ایک درجن ممالک میں سفراء نے علیحدگی اختیار کر لی ہے۔ حال ہی میں لیبیا کی وزیر خارجہ موسیٰ کو سانے برطانیہ میں پناہ لی ہے۔ حالات روزبروز خراب ہو رہے ہیں۔ اکثر شہر مخالفین کے زیر کنٹرول ہیں اور کئی شہروں میں دونوں طرف سے جنگ جاری ہے لیکن اب بھی مخالفین کو پوری طرح مغربی حمایت نہیں مل رہی ۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو تیل سے مالامال شہر راس النوف دوبارہ حکومت کے فوجیوں کے قبضہ میں نہیں جاتا۔
یمن میں فوج کے کئی بڑے حکام اور قبائلی رہنمائوں نے علی عبد اللہ صالح کی حکومت سے علیحدگی اختیار کر کے انقلابیوں کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔ امریکہ کا اتحادی سعودی عرب یمن کی حکومت بچانے کے لئے عوام مخالف کارروائیوں کی حمایت کر رہا ہے۔ میرا تجزیہ ہے کہ بحرین اور یمن میں امریکہ کی خاموشی کی وجہ سے انقلاب کی کامیابی سے پہلے بڑی تعداد میں لوگ مارے جائیں گے۔ ان ممالک میں عوامی کامیابی کے بعد سعودی عرب اور دیگر عرب ممالک میں بھی انقلاب پھیلے گا۔
) بشکریہ  چوتھی دنیا ) (مضمون نگار میڈیا اسٹارنیوز اینڈ فیچرس کے چیف ایڈیٹر ہیں)

कोई टिप्पणी नहीं:

एक टिप्पणी भेजें