सोमवार, 8 अगस्त 2011

اسکولی طالب علموں پر چھا رہا ہے بالی وڈ اور مغربیت کا اثر




جون کا مہینہ آتے ہی اسکول کھلنے کی دھوم مچ جاتی ہے۔ اسکولی طالب علم جہاں اسکول جانے کیلئے بیتاب ہوتے ہیں‘ اس سے بھی زیادہ انہیں نئی کاپیاں‘ کتابیں اور اسکول بیگ وغیرہ خریدنے کی خوشی رہتی ہے۔کیونکہ تعلیمی سال کے آغاز میں بچوں کی اصلی خوشی یہی ہوتی ہے۔ وہ نیا اسکول ڈریس‘ نئے بستے ‘ واٹر باٹل ‘ کمپاس وغیرہ پاکر خوش ہوجاتے ہیں۔ اور یہ خوشی کیا ہوتی ہے‘ اس کے بارے میں ان کے والدین بھی جانتے ہیں۔ کیونکہ کسی زمانے میں وہ بھی تعلیمی سال کے آغاز کے وقت ایسے ہی خوش ہوجایا کرتے تھے۔ لیکن کچھ سال پہلے تک اسٹیشنری کی دکانوں پر اس طرح کی نت نئی چیزیں نہیں سجی ہوتی تھیں۔ کچھ عرصہ پہلے مشترکہ خاندان یعنی جوائنٹ فیملی کا چلن عام تھا اسلئے کئی طالب علموں کو تو نئی کتابیں ملتی ہی نہیں تھیں۔ انہیں ان کے بڑے بھائیوں کی پرانی کتابیں ہی ملتی تھیں۔ لیکن یہ لوگ نئی کاپیاں ‘ کمپاس اور بستہ پاکر خوش ہوجاتے تھے۔ اس وقت ماں باپ بچوں کی کاپیاں اور کتابیں بھی خود ہی لا لیتے تھے۔ بچوں کی پسند ناپسند کو ملحوظ نہیں رکھا جاتا تھا۔ اور بچے بھی ماں باپ کی لائی ہوئی نئی چیزیں پاکر خوش ہوجاتے تھے۔
لیکن آج کل زمانہ بدل گیا ہے۔ جوائنٹ فیملی کا نظام ختم ہوتا جارہا ہے اسلئے اب بچوںکو ہر سال سبھی چیزیں نئی ہی مل جاتی ہیں۔ اسکے علاوہ اب ماں باپ بچوں کے بغیر جاکر اسکول کی چیزیں اب نہیں خریدتے ۔ کیونکہ اب اسٹیشنری کی دکانوں پر بھانت بھانت کی چیزیںموجود ہیں۔ اسلئے ماں باپ اگر کوئی چیز اپنی پسند سے لا بھی لیں‘ تو اکثر بچوںکو وہ چیزیں پسند نہیں آتیں۔ اسلئے اب اسکول کا کوئی بھی سامان خریدنا ہو‘ بچے ماں باپ کے ساتھ ہی دکانوں پر آتے ہیں اور اپنی من پسند چیز خریدتے ہیں۔ اگر ماں باپ انہیں کوئی چیز خریدنے سے منع بھی کردیں تو ضد کرکے وہ اپنی من پسند چیز حاصل کرلیتے ہیں۔ فی الحال اسٹیشنری کی دکانوں پر بچوں کی پسند پر جو چیزیںکھری اتر رہی ہیں وہ ہیں ’ہانا مونٹانا ‘ اسپائڈر مین‘ ہیری پاٹر اور پوکے مان کے اسکول بیگ‘ واٹر باٹل‘ اسٹیکر وغیرہ ہیں۔ اگر آپ اپنے بچے کو سادہ بیگ خریدنے کیلئے کہیں گے‘ یا کوئی ایسا بیگ خریدنے کیلئے کہیں گے جو مضبوط اور عمدہ ہو‘ لیکن اس پر کوئی تصویر نا ہو‘ تو ہو سکتا ہے کہ آپ کا لاڈلا یا لاڈلی فوراً نا کردے ۔ اگر انہیںڈانٹا جائے تو پھروہیں پر رونا بھی شروع ہوجاتا ہے ۔ اسلئے ماں باپ بھی بچوں کی ضد کی وجہ سے مجبور ہوکر انہیں بیکار کیوں نا ہو‘ لیکن ان کا من پسند بیگ اور دیگر چیزیں دلا ہی دیتے ہیں۔
اسکول کا سامان خریدتے وقت بچے جس طرح سے مغربی کارٹونوں سے متاثر نظر آرہے ہیں اس سے صاف ظاہر ہورہا ہے کہ‘ آہستہ آہستہ مغربیت نے ہماری زندگی میں کتنی جگہ بنالی ہے۔ ہمارے لاڈلوں کے دلوںمیں ان بیکار قسم کے کارٹون کیرکٹروں کے لئے کتنی محبت اورجنون ہے۔ ٹی وی کے ذریعے کیسے ہمارے نونہالوں کے ذہنوں کو دھیرے دھیرے کیسے متاثر کیا جارہا ہے۔ آج کے دورمیں کسی عام بچے سے اسپائڈر مین یا ہیری پاٹر کے بارے میں پوچھیں گے تو وہ اسکے بارے میں بہت کچھ بتائے گا ۔ لیکن اس سے ڈاکٹر ذاکر حسین اور سوامی وویکانند کے کے بارے میں پوچھیں گے تو شائد ہی وہ کچھ خاص بتا سکے۔ مغربی تہذیب ہمارے بچوں کو بری طرح متاثر کررہی ہے ۔ ہمارے عظیم رہنما جو ان خیالی کارٹون نما ہیرئووں سے لاکھ درجہ بہتر ہیں اور انہوں نے کئی عظیم کارنامے انجام دیئے تھے۔ لیکن بچوں کو ان کے بارے میںکچھ پتہ نہیں ۔ بچوں کے بستوں سے جو کاپیاں اوررجسٹر بھی برامد ہورہے ہیں تو ان کے اوپر شاہ رخ خان‘ ایشوریہ رائے اورنا جانے کون کونسے فلمی ستارے نظر آتے ہیں۔ اوراکثر فلمی ستارے  بیحد واہیات لباس میں نظرآتے ہیں۔ لیکن ہماری نئی نسل ان فلمی ہیرو ‘ ہیروئنوں کی پرستار بنتی جارہی ہے۔ ان کی نقالی کرنے میں ہماری نئی نسل فخر محسوس کرتی ہے۔ ایسا کیوں ہورہا ہے؟
دراصل اس سست رفتار بدلائو کیلئے سب سے زیادہ ذمہ دار ہم ہی ہیں! اس میں کوئی شک نہیں کہ‘ اسکول میں اساتذہ بھی اسکے لئے ذمہ دار ہیں۔ کیونکہ ہماری نوجوان نسل یہ نہیں جانتی کہ ہمارے بزرگوں نے کیسے کیسے عظیم کارنامے انجام دیئے ہیں۔ انہیں اس بات کی جانکاری اور احساس دلانا ضروری ہے۔ یہ صرف اسکول کے اساتذہ کا ہی کام نہیں ہے بلکہ گھرمیں طالب علموں کے سرپرست اور والدین کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ بچوں کو جھوٹی کہانیوں اور قصوں کے اثر سے بچائیں اور بالی وڈ کی بے شرم دنیا کا اثر اپنے لاڈلوں پر نا پڑنے دیں۔ کیونکہ اگر بچے کم لباس کی فلمی ہیروئن اور بغیر شرٹ کے ہیرو وکو اپنا آئیڈیل ماننے لگے تو پھر ہوچکی پڑھائی! (م۔ع۔رحیم)

शनिवार, 16 जुलाई 2011

Qayadat July 2011 issue

Qaumi Qayadat Jadeed July 2011-Front

शुक्रवार, 15 जुलाई 2011

شب برات کی حقیقت ،فضیلت اور عبادت

       شب برات کی حقیقت ،فضیلت اور عبادت
                                                                ترتیب  ۔ محّمد شاہد علی حبیبی 
شب ِ برات کے بارے میں یہ کہنا بالکل غلط ہے کہ اس کی کوئی فضیلت حدیث سے ثابت نہیں ، حقیقت یہ ہے کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے احادیث مروی ہیں جن میں نبی کریم ﷺ نے اس رات کی فضیلت بیان فرمائی ۔ ام المومنین حضرت  عائشہ صدّیقہ فرماتی ہیں کہ نبی کریم ؑﷺ کو شعبان سے زیادہ کسی مہینے میں روزہ  رکھتے ہوئے نہیں دیکھا۔ نبی کریم ﷺ  فرماتے ہیںمجھے جبرئیل  علیہ السلا م نے خبر دی کہ ماہ شعبان میں اﷲ تعالیٰ رحمت کے ۳۰۰ دروازے کھول دیتا ہے۔ حضرت انس نے بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ سے سوال کیا گیا کہ سب سے افضل نفلی روزے کون سے ماہ کے ہیں؟ آپﷺ نے فرمایا شعبان کے، فرمایا جو شخص شعبان میں تین روزے رکھتا ہے اور پھر مجھ پر صلوٰۃ و سلام پڑھتا ہے اﷲ تعالیٰ اس کے تمام پچھلے گُناہ معاف کر دیتا ہےاور اس کے رزق میں برکت عطا فرماتا ہے۔
شب برات میں عبادت :۔امت مسلمہ کے جو خیرالقرون ہیں یعنی صحابہ کرام کا دور ، تابعین کا دور، تبع تابعین کادور، اس میں بھی اس رات کی فضیلت سے فائدہ اٹھانے کا اہتمام کیا جاتا رہا ہے،لوگ اس رات میں عبادت کا خصوصی اہتمام کرتے رہے ہیں، لہٰذا اس کو بدعت کہنا، یا بے بنیاد اور بے اصل کہنا درست نہیں ، صحیح بات یہی ہے کہ یہ فضیلت والی رات ہے، اس رات میں عبادت کرنا باعث ِ اجر و ثواب ہے اور اسکی خصوصی اہمیت ہے۔ کچھ خوصوصی عبادات حسب ذیل ہیں:(۱)  بعد نماز مغرب  ۶ رکعت نماز نفل ۲۔۲ رکعت کر کے پڑھیں ،ہر ۲ رکعت کے بعد سورہ یٰسین شریف کی تلاوت کریںاس کی برکت سے انشاء اﷲ پورے سال صحت اور کاروبار،روزی مین برکت رہیگی
(۲)  ۱۲ رکعت نفل نماز اس طرح  پڑھیں کہ ہر رکعت میں سورہ فاتحہ ایک بار، سورہ اخلاص ۱۰ بار نماز سے فراغت کے بعد  تیسرا کلمہ ۱۰ بار، چوتھا کلمہ ۱۰ بار، درود شریف ۱۰۰بار پڑھیں۔(۳)  ۸ رکعت نماز اس طرح پڑھیں کہ ہر رکعت میں سورہ فاتحہ کے بعد سورہ اخلاص ۱۱ بار پڑھیں۔  جو شخص ماہ شعبان کے مکمل روزے رکھتا ہےاﷲ تعالیٰ اسے سکرات موت سے اسے نجات دیتا ہےاور وہ شخص قبر کی تاریکی اورمنکر نکیر کی دہشت و ہیبت سے محفوظ ہو جاتا ہے۔ البتہ یہ بات درست ہے کہ اس رات میں عبادت کا کوئی خاص طریقہ مقرر نہیں کہ فلاں طریقے سے عبادت کی جائے ،  بلکہ نفلی عبادت جس قدر ہوسکے وہ اس رات میں انجام دی جائے، نفل نماز پڑھیں ، قرآن کریم کی تلاوت کریں ، ذکرکریں ، تسبیح پڑھیں ، دعائیں کریں ، یہ ساری عبادتیں اس رات میں کی جاسکتی ہیں لیکن کوئی خاص طریقہ ثابت نہیں۔
شبِ برات میں قبرستان جانا:۔ اس رات میں ایک اور عمل ہے جو ایک روایت سے ثابت ہے وہ یہ ہے کہ حضور نبی کریم ﷺ جنت البقیع میں تشریف لے گئے، اب چونکہ حضور ﷺ اس رات میں جنت البقیع میں تشریف لے گئے اس لئے مسلمان اس بات کا اہتمام کرنے لگے کہ شبِ برات میں قبرستان جائیں ، ایک مسئلہ شب برات کے بعد والے دن یعنی پندرہ شعبان کے روزے کاہے، کہ شب برات کے بعد والے دن روزہ رکھو  پورے شعبان کے مہینے میں روزہ رکھنے کی فضیلت ثابت ہے لیکن 28اور29 شعبان کو حضور ﷺ نے روزہ رکھنے سے منع فرمایا ہے، کہ رمضان سے ایک دو روز پہلے روزہ مت رکھو، تاکہ رمضان کے روزوں کےلئے انسان نشاط کے ساتھ تیا ر رہے۔

बुधवार, 13 जुलाई 2011

اسلام اور دہشت گردی




دہشت گردی ایک ایسا فعل یا عمل ہےجس سے معاشرہ میں دہشت و بد امنی کا راج ہو اور لوگ خوف زدہ ہوں،وہ دہشت گردی کہلاتی ہے۔ دہشت گردی کو قرآن کریم کی زبان میں فساد فی الارض کہتے ہیں۔ دہشت گردی لوگ چھوٹے اور بڑےمقا صد کےلئے کرتے ہیں۔ اسے کوئی فرد واحد بھی انجام دے سکتا ہے اور کوئی گروہ اور تنظیم بھی۔
یہ حقیقت ا ظہر من الشمس ہے کہ دہشت گردی اور اسلام دو متضاد چیزیں ہیں۔ جس طرح رات اور دن ایک نہیں ہو سکتے، اسی طرح دہشت گردی اور اسلام کا ایک جگہ اور ایک ہونا، نا ممکنات میں سے ہے۔ لھذا جہاں دہشت گردی ہو گی وہاں اسلام نہیں ہو گا اور جہاں اسلام ہو گا وہاں دہشت گردی نہیں ہو گی۔
اسلام کے معنی ہیں سلامتی کے۔ چونکہ ہم مسلمان ہین اور امن اور سلامتی کی بات کرتے ہین۔ ‘ ہمارا دین ہمیں امن اور سلامتی کا درس دیتا ہے‘ ہم چاہتے ہیں کہ دنیا بھر کے لوگوں کو امن اور سلامتی نصیب ہو اور امن اور چین کی بنسری بجے۔ آ نحضرت صلعم دنیا میں رحمت العالمین بن کر آ ئے۔
یہ امر شک اور شبہے سے بالا ہےکہ اس وقت دنیا کا سب سے بڑا مسئلہ دہشت گردی ہے اور پاکستان دہشت گردوں کے نشانے پر ہے‘ جس کی وجہ سے پاکستان عرصہ سے دہشت گردوں کا شکار بنا ہوا ہے‘ پاکستان میں دہشت گردی کی وجہ سے بہت سارے مالی و جانی نقصانات ہوئے ہیں‘ اور ترقی کے میدان میں ہم بہت پیچہے رہ گئے ہیں۔ میرے خیال کے مطابق دہشت گردی کے عمل کو کسی بھی مذہب یا قوم کے ساتھ منسلک کرنا درست نہیں ہے۔
اسلام امن وسلامتی کا دین ہے اور اس حد تک سلامتی کا داعی ہے کہ اپنے ماننے والے کو تو امن دیتا ہی ہے نہ ماننے والے کے لیے بھی ایسے حق حقوق رکھے ہیں کہ جن کے ساتھ اس کی جان ،مال اور عزت محفوظ رہتی ہے۔طالبان اور القائدہ دہشت گردوں کا ایک گروہ ہے جو اسلام کے نفاز کے نام پر اور شریعتِ محمدی کے نام پر، لوگوں کی املاک جلا رہا ہے اورقتل و غارت کا ارتکاب کر رہا ہے۔
کسی بھی حکومت کی بنیادی ذمہ داری ملک میں امن و امان قائم رکھنا اور شہریوں کی جان و املاک کی حفاظت کرنا ہوتی ہے۔دہشت گرد، دہشت گردی کے ذریعے ملک میں امن و امان کی صورتحال پیدا کر کے اور شہریوں کے جان و مال کو نقصان پہنچا کر خوف و ہراس کی صورتحال پیدا کر دیتے ہیں تاکہ حکو مت کو دباو میں لا کرحکومت سےاپنے مطالبات منوا لیں۔
اسلام خود کشی کو حرام قرار دیتا ہے جو کہ دہشت گردی کی ایک شکل ہے۔ یہ گمراہ گروہ اسلام کے نام پر خود کش حملہ آور کی فوج تیار کر رہا ہے۔اسلام دوسروں کی جان و مال کی حفاظت کا حکم دیتا ہے یہ دوسروں کا مال لوٹنے اور بے گناہوں کی جان سے کھیلنے کو ثواب کا نام دیتے ہیں۔اسلام خواتین کا احترام سکھاتا ہے یہ دہشت گرد ،عورتوں کو بھیڑ بکریوں سے بھی برا سمجھتے ہیں۔بچیوں کے اسکول جلاتے ہیں۔
کسی بھی انسا ن کی نا حق جان لینا اسلام میں حرام ہے۔ دہشت گردی قابل مذمت ہے، اس میں دو آراء نہیں ہو سکتیں۔دہشت گردی کا کوئی مذہب نہیں یہ بھی مسلم ہے۔ اور نہ ہی کوئی مذہب اس کی اجازت دے سکتا ہے۔
اس وقت دنیا کو سب سے بڑا درپیش چیلنج دہشت گردی ہے اس پر سب متفق ہیں۔ دہشت گردی کا اسلام سے کوئی تعلق نہ ہے اور یہ قابل مذمت ہے۔ اسلام میں دہشت گردی اور خودکش حملوں کی کوئی گنجائش نہیں اور طالبان اور القاعدہ دہشت گرد تنظیمیں ہولناک جرائم کے ذریعہ اسلام کے چہرے کو مسخ کررہی ہیں۔ برصغیرسمیت پُوری دنیا میں اسلام طاقت سے نہیں،بلکہ تبلیغ اور نیک سیرتی سے پھیلاجبکہ دہشت گرد طاقت کے ذریعے اسلام کا چہرہ مسخ کررہے ہیں۔
ایک مُسلم معاشرے اور مُلک میں ایک مُسلمان دوسرے مُسلمان کی جان کا دُشمن ۔مُسلمانیت تو درکنار انسا نیت بھی اسکی متحمل نہیں ہو سکتی کہ کسی بھی بے گناہ کا خون کیا جائے۔
چند برسوں سے وطن عزیز پاکستان مسلسل خود کش حملوں کی زد میں ہے۔ بے گناہ لوگوں کا قتل اور املاک کی بے دریغ تباہی ہو رہی ہے۔ الللہ کے فرامین کو پس پشت ڈال دیا جائے اور احکام قرانی کا اتباع نہ کیا جائےتو ایسے حالات پیدا ہو جاتے ہیں کہ مسلمان آپس میں ایک دوسرے کو قتل کرنا شروع کر دیں، یہ عذاب الہی کی ایک شکل ہے۔ اللہ تعالہ فرماتاہے:  ’’جس نے کسی شخص کو بغیر قصاص کے یا زمین میں فساد (پھیلانے کی سزا) کے (بغیر، ناحق) قتل کر دیا تو گویا اس نے (معاشرے کے) تمام لوگوں کو قتل کر ڈالا۔‘‘) المائدة، 5 : 32(
کہو، وہ (اللہ) اس پر قادر ہے کہ تم پر کوئی عذاب اوپر سے نازل کر دے، یا تمہارے قدموں کے نیچے سے برپا کر دے، یا تمہیں گروہوں میں تقسیم کر کے ایک گروہ کو دوسرے گروہ کی طاقت کا مزہ چکھوا دے۔(سورۃ الانعام ۶۵)
وہ شخص جو کسی مومن کو جان بوجھ کر قتل کرے تو اس کی سزا جہنم ہے جس میں وہ ہمیشہ رہے گا۔ اس پر اللہ کا غضب اور لعنت ہے اور الللہ نے اُسکے لیے سخت عذاب مہیا کر رکھا ہے۔(سورۃ النساء۔۹۳)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے خطبہ حجۃ الوداع میں فرمایا۔
تم (مسلمانوں) کے خون، اموال اور عزتیں ایکدوسرے پر حرام ہیں، اِس دن (عرفہ)، اس شہر (ذوالحجۃ) اور اس شہر(مکہ) کی حرمت کی مانند۔ کیا میں نے تم تک بات پہنچا دی؟ صحابہ نے کہا ”جی ہاں۔
”مسلمان کو گالی دینا فسق ہے اور اس سے قتال کرنا کفر ہے۔”
مسلمان کو قتل کر دینا جہنم میں داخلے کا سبب ہے لیکن اس کا مصمم ارادہ بھی آگ میں داخل کر سکتا ہے۔
” جب دو مسلمان اپنی تلواریں لے کر ایک دوسرے سے لڑ پڑیں تو وہ دونوں جہنم میں جائیں گے۔” صحابہ نے دریافت کیا کہ اے اللہ کے رسول! ایک تو قاتل ہے (اس لیے جہنم میں جائے گا) لیکن مقتول کا کیا قصور؟ فرمایا ” اس لیے کہ اس نے اپنے (مسلمان) ساتھی کے قتل کا ارادہ کیا تھا۔”
مندرجہ آیت اور احادیث کی روشنی میں کسی مسلمان کو شک نہیں ہونا چاہیے کہ  مسلمانوں اور بے گناہ لوگوں پر خود کش حملے کرنے والے گمراہ لوگ ہیں جن کا دین اسلام کے ساتھ کوئی تعلق اور واسطہ نہیں ہے۔ ان کی یہ حرکت دشمنان اسلام اور کے لیے خوشیاں لے کر آئی ہے۔ اسلام کے دشمن چاہتے ہیں کہ جہاں کا امن تباہ کر دیا جائے اور بدامنی کی آگ بڑھکا کرمُسلمانوںکو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا جائے۔ یہ لوگ پوری انسانیت کے قاتل ہیں اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے۔ جس نے کسی انسان کو خون کے بدلے یا زمین میں فساد پھیلانے کے سوا کسی اور وجہ سے قتل کیا گویا اس نے سارے انسانوں کو قتل کر دیا اور جس نے کسی کی جان بچائی اس نے گویا تمام انسانوں کو زندگی بخش دی۔(المائدۃ۔۳۲)
تمام اہل دانش اور علمائے کرام کی ذمے داری ہے کہ وہ لوگوں کو اسلام اور جہاد کے صحیح اسلامی عقیدے سے آگاہ کریں اور انہیں طالبان اور القائدہ کے ہاتھوں میں کھلونا بننے سے بچائیں جو نہ کسی حرمت کا لحاظ کر رہے ہیں نہ قرآن و حدیث کے واضح فرامین کا پاس رکھتے ہیں ۔ قرآن و حدیث کی ان نصوص پر غور کر کے ہمیں اپنی آخرت کی فکر کرنی چاہیے۔ دُشمنوں کے ہاتھوں کھلونا بننے والوں کو بھی، اور جوش انتقام میں اندھا ہو جانے والوں کو بھی۔
ہمیں روم کے نیرو کی طرح، بنسری بجاتے ہوئے اپنے مذہبکو جلتا اور تباہ ہوتا نہیں دیکھنا چاہیے بلکہ آ گے بڑہ کر مردانہ وار اسلام کے دشمنوں کا مقابلہ کرنا چاہیے۔
سید مُحمد شاہد علی حبیبی

गुरुवार, 7 जुलाई 2011

Qaumi Qayadat Jadeed July 2011 Issue

Qayadat June-July 2011-3-4th Issue

نئے سعودی قانون کے چلتے سعودی شہریوں کیلئے غیر ملکی خواتین سے شادی کرنا ہوا مشکل ہماری دوشیزائوں کو غیر ملکی عیاشوں سے بچانے کیلئے کب بنے گا قانون؟ م۔ع۔رحیم ۔ اورنگاباد

نئے سعودی قانون کے چلتے
سعودی شہریوں کیلئے غیر ملکی خواتین سے شادی کرنا ہوا مشکل
ہماری دوشیزائوں کو غیر ملکی عیاشوں سے بچانے کیلئے کب بنے گا قانون؟
    شادیوں کو لیکرآج کل کے نوجوان کافی حساس ہوچکے ہیں۔ وہ جب تک اپنے پیروں پر کھڑے نہیں ہوتے‘تب تک شادی کے بارے میں سوچتے بھی نہیں۔ اور مقابلہ آرائی کے اس دور میں اپنے پیروں پرکھڑا رہنا بھی کوئی آسان کام نہیں۔ اب ’سیٹ ‘ ہونے کیلئے جوانی کا کافی بڑا حصہ خرچ ہونے لگا ہے اسلئے نوجوانوں میں عموماً شادیاں بھی دیر سے ہونے لگی ہے۔ سچ کہیں تو اب زیادہ تر شادیاں ’نوجوانی‘ نہیں نہیں بلکہ جوانی میں ہورہی ہے کیونکہ اپنے پیروں پرکھڑے رہتے رہتے عمر کے ۲۸؍ سے ۳۰؍ سال نکل جاتے ہیں۔ اسکے علاوہ لڑکیوں کی شادیاں بھی ’جہیز ‘ کی لعنت کے چلتے دیر سے ہورہی ہیں۔ ہمارے ہندوستان میں جہاں لڑکیوں سے جہیز لیا جاتا ہے اسکے برعکس سعودی میں شادی کیلئے لڑکوں کو ایک کثیر رقم لڑکی کے ماں باپ کو دینی ہوتی ہے۔ ان دونوں ہی معاملات میں نوجوانوں کا نقصان ہورہا ہے اور ان کی شادیاں جہاں تاخیر سے ہورہی ہیں وہیں ان کی ’گولڈن ایج‘ کے کئی سال یونہی برباد ہورہے ہیں۔
     اسلئے سعودی عرب میں بیرون ملک سے لڑکی بیاہ کر لانے کا چلن کافی بڑھ گیا تھا۔ اس سلسلے میں سعودی کے شہریوں کی پہلی پسند ہندوستان تھی جہاں کی لڑکیاں وفاداری کے معاملے میں ساری دنیا میں مشہور ہیں۔ اسلئے ہندوستان میں سعودی عرب کے کئی شہری آکر یہاں کی لڑکیوں سے شادیاں رچا لیتے تھے۔ سعودی کے باشندوں کیلئے یہاں پر شادی کرنا اسلئے بھی بیحد آسان اور سستا تھا کیونکہ یہاںپر کئی گھرانوں میں لڑکیوں کو جہیز کی لعنت کی وجہ سے بوجھ سمجھا جاتا ہے اور ان سے جلد از جلد چھٹکارہ پانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ ایسے میں کوئی غیر ملکی شخص بغیر کسی جہیز کے لڑکی سے شادی کیلئے تیار ہو‘ بلکہ کئی بار تو کچھ پیسے بھی لڑکی والوں کو دینے کیلئے تیارہو تو پھر ایسی ’آفر‘کو کون ٹھکرائے؟ اسلئے یہاںپر آکر شادی رچانے والے بھی کثیر تعداد میں موجود تھے اور شادیوں کیلئے لڑکیاں بھی بکثرت مل جاتی تھیں۔ حیدرآباد شہر تو اس معاملے میں سارے ہندوستان میں مشہور تھا۔ کئی عیاش قسم کے سعودی بوڑھے یہاں آکر شادی جیسے مقدس رشتے کو بدنام بھی کرتے رہتے تھے اور اکثر و بیشتر اخبارات میں اس قسم کے واقعات پڑھنے کو ملتے تھے۔ غیر ممالک سے دلہنیں بیاہ کر لانے کا چلن بڑھنے کی وجہ سے سعودی میں ایک نیا سماجی مسئلہ پیدا ہوگیا تھا ۔
     کیونکہ یہاںپر شادی کے قابل لڑکیاں موجود ہونے کے باوجود سعودی شہری بیرون ملک جاکر شادی کرنا چاہتے تھے۔ اسلئے اس نئے مسئلے کوحل کرنے کیلئے سعودی حکومت نے نیا قانون تشکیل دیا جس کی رو سے سعودی شہریوں کو غیر ملکی خواتین سے شادی پر پابندی عائد کردی گئی۔ اس قانون کی خلاف ورزی کرنے پر انہیں ایک لاکھ سعودی ریال بطور جرمانہ ادا کرنے ہونگے ۔ سعودی حکومت جہاں معاشرے میں شادی کے قابل لڑکیوں کی بڑھتی تعداد سے پریشان تھی‘ وہیں غیر ملکی خواتین جنہوں نے سعودی شہریوں سے شادی کی ‘ ان کی شہریت کی مانگ کو لیکر بھی نالاں تھی۔ اکثر سعودی شہریوں کی جائز بیویاں شہریت نا ہونے کے باعث اپنے شوہر سے ہزاروں میل دور اپنے اپنے ممالک میںرہنے پر مجبور ہیں۔ ایسی خواتین مطالبہ کررہی ہیں کہ انہیںسعودی کی شہریت دی جائے تاکہ وہ اپنے شوہروں کے ساتھ زندگی گذار سکیں۔اسکے علاوہ ایسی خواتین اپنے بچوں کو بھی سعودی کی شہریت دلوانے کیلئے کوشاں ہیں۔
    عیاش اور دولتمند بوڑھوں کی عیاشیوں پر روک لگانے کیلئے سعودی حکومت نے قانون میں ایک شق یہ بھی جوڑ دی ہے کہ‘ شادی کے وقت دولہا اور دولہن کی عمروں میں ۲۵؍ سال سے زیادہ کا فرق نا ہو۔ حالانکہ پچیس سال کا فرق بھی کوئی کم نہیں ‘ لیکن پھر بھی غنیمت ہے۔کیونکہ حیدرآباد میںایسے کئی واقعات گذر چکے ہیں جن میں عمر دراز عیاش اور دولتمند غیر ملکی بوڑھوں نے اپنی پوتیوں کے برابر عمر والی لڑکیوں سے شادیاں کیں اور محض چند دن‘ چند ہفتے عیاشی کرنے کے بعد انہیںطلاق دیکر ہمیشہ کیلئے چھوڑگئے۔ موجودہ قانون کا مقصد سعودی شہریوںکو بیرون ملک میںشادی کرنے سے روکنا ہے۔ لیکن اگر کوئی سعودی شہری شادی کرکے چند ہفتوں میں طلاق دیدے تو ایسے شخص کے خلاف قانون میں کسی قسم کی کاروائی نہیں کی جاسکتی۔ چونکہ سعودی حکومت آئے دن کے شہریت کے مطالبوں سے تنگ آچکی ہے اسلئے اس نے جو قانون بنایا ہے ‘اس کابنیادی مقصد شہریت کیلئے درخواستوںمیں کمی لانا ہے۔لیکن عیاش دولتمندوں کی عیاشی پر روک لگانے کیلئے بھی حکومت کو اس قانون میں گنجائش رکھنی چاہئے تھی۔شادی اور کچھ وقفے کے بعد طلاق کی وجہ سے کوئی لڑکی سعودی حکومت کو شہریت کی عرضی نہیںدے سکتی‘ اسلئے ایسا کرنے والوں کو چھوٹ مل رہی ہے۔ لیکن ایسے عیاش افراد کو ہمارے ملک کی دوشیزائوں سے کھیلنے کی اجازت نہیں ملنی چاہئے۔ اگر سعودی حکومت اپنے شہریوں کے حقوق کی حفاظت کیلئے قانون بنا سکتی ہے تو ہماری حکومت کو بھی چاہئے کہ وہ ایسا کوئی قانون بنائے جس کے چلتے ہمارے ملک کی خواتین غیر ممالک کے عیاشوں کیلئے ترنوالہ نا ثابت ہوسکیں۔
                                              (م۔ع۔رحیم ۔  اورنگاباد)