सोमवार, 20 जून 2011

خواجہ اجمیری کا مشن اور ہمارا کردار



سب سے محبت،سب کی خدمت یہ ہے خواجئہ اجمیری کی تعلیمات و فرمودات کا وہ نقتہ جس کے سبب اپنے اور بیگانے خواجہ کی عظمت اور رفعت کے گیت گاتے نظر آتے ہیں۔ سلطان الہند،عطائے رسول، غریب نواز جیسے اعزازات سے معزز خواجئہ اجمیری کی بلند پایہ اور عبقری شخصیت کی یہ سحر انگیزی ہی ہے کہ اکناف عالم سے نہ صرف خوش عقیدہ مُسلمان و مومنات بلکہ بزرگانِ دین سے عقیدہ رکھنے والے دیگر مذاہب ومکاتبِ فکر کےحاملین بھی بارگاہ خواجہ غریب نواز اجمیری میں حاضری کو باعث سعادت خیال کرتے ہیں،اجمیر کی مُقدّس دھرتی پر زیرِ زمیں محواستراحت اس صاحبِ دل اور عاشقِ صادق کی بارگاہ تقدیس و تطہیر مین اپنی اپنی عقیدتوں کا خراج پیش کرنے کے لئے غلام حاضر ہیں۔
خواجہ اجمیری اپنے وطن عزیز کو خیرآباد کہہ کرعازم ہندوستان ہوتے ہیں۔ کیونکہ ان کےمولیٰ وکریم رسول عظیم ﷺ کا یہی حکم ہے،جاو! دارالکفروالشرک کو دارلتوحید ورسالت میں تبدیل کرنے،مظلوموں کی گردنوں سے ظلم کا طوق اتارنے ، انھیں غیرانسانی نظام زندگی سے آزاد کرانے اور ایک خدا کی بارگاہ میں سر جھکانے کے لئے کوشیشیں کرو۔ خواجہ اجمیری نہیں ، نہیں ایک نورانی پیکر، قدسی صفت،ریش دراز بزرگ ہندوستان کو اپنے قدوم میمنت لزوم سے مُشرّف کرتا ہے، ذرا اس وقت کے ہندوستان پر بھی ایک نظر ڈالتے چلیں۔ بڑاہی پر آشوب عہد تھا،کفر اور شرک کی خیرات ہول سیل میں گھر گھر مین بٹ رہی تھی،بدعات وخرافات کے سیاہ بادل پورے ملک پر چھائے ہوئے تھے، حیاسوز و انسانیت کوش رسوم کا بول بالا تھا، دکھیاری عورت کی حیثیت پَیر کی جوتی سے بھی بدتر تھی،شراب و شباب کی محفلیں آراستہ و پیراستہ تھیں، غربت و افلاس سماج کی سب سے بڑی لعنت تھی، غریب کا حسن، حسن نی تھا،اس کا وصف وصف نی تھا، امیر کا عیب بھی حسن تھا، اس کا شر بھی خیر تھا ۔ سماج مین دوہرا معیار قائم تھا، برہمن کو سات خون معاف تھے تو بیچارے شودر کو برہمن کے آنگن میں تھوکنے پر اپنی زبان کٹوانے پر ہی امان ملتی تھی۔برہمن کی کنیا کو ایک نظر دیکھنے پر شودر کی آنکھیں پھوڑنے کی سزا منو جی کے آئین نے تجویز کی تھی، شودر کی جورو کو اگر کوئی برہمن اپنی حوس کا نشانہ بناتا تو یہ اس کا حق مالکانہ تھا،شودر کو اس کے خلاف زبان کھولنے کابھی حق نہ تھا، بلکہ اس کی مُکتی(نجات) کے لئے یہی کافی تھا کہ کسی برہمن کی نظر انتخاب اس کی شریک سفر پر پڑی اور اس جنم کےپوتر نے اس ناپاک شودرانی کوپوتر کر دیا۔ ایسا اس دبے کچلے سماج کا ماننا تھا۔غرض یہ کی منوجی کا غیر انسانی نظام حیات پر مشتمل آئین عملی طور پر نافذ تھا۔ایسے میں خواجہ اجمیری کا ورودِ مسعود ہندوستان کے ان دکھیون کے لئے نعمتِ غیر مترقبہ سے کم نہ تھا۔ اپنے چند ایک خادموں کے ساتھ ایک پھتے پرانے ٹات پربیٹھ کر توحید و رسالت کے اسرار ورموز،مودت و اخوت اور سماجی برادری کے آفاقی نظریات ، انہی کی زبان اور انہی کے انداز میں بیان کرنے والے خواجہ اجمیری کی من کو بھانے والی بتیاں ہی کچھ ایسی تھی کہ جو ان کی خدمت میں ایک بار آیا انہی کا ہو رہا، دین چھوڑا، سماج چھوڑا ، ریت چھوڑی،رواج چھوڑے۔ غرض یہ کہ سب کُچھ چھوڑ کر خواجہ اجمیری کے چرنوں میں حیاتِ جاودانی تلاش کرنے لگا۔ خواجہ اجمیری کی زبان سے فیض ترجمان سے نکلے ان کلمات نے سب کو محو کر کے رکھ دیا۔
’’لوگو! تمھارے پالنہارا ایک ہے، اس کا کوئی ساجھی نہیں ،نہ اس کو کسی نے جنا اور نہ وھ کیسی کو جنتا ہے۔ اسی نے تم کو پیدا لیا، وہی تم کو کھانے،پینے کو دیتا ہے، وہی زندگی دیتا ہے، وہی موت دیتا ہے، بیٹابیٹی وہی دیتا ہے، یہ بیجان پتھر جن کو تم پوجتے ہو اپنی مکھی بھی نہیں اڑا سکتے تو تمھاری حاجت روائی کیا خاک کرینگے۔ اور سُنو! یہ سر بڑاہی باعظمت ہے، یہ عظمت والا سر کسی عظمت والے ہی کے در پر جھکنا چاہئے، ہر ایرے غیرے کے مٹھ پر نہیں، ورنہ یہ سر کی توہین ہے،اسکے بنانے والے کی توہین ہے۔لوگو! ایک خدا کو پوجو، اور اسی سے اپنی حاجتیں طلب کرو، اسی کے آگے سروں کو جھکائو،باقی سب سے منہہ موڑ لو، اپنے خالقِ حقیقی سے رشتہ جوڑ لو‘‘
ہند کے ان نامرادوں کے کانوں میں یہ صدائے دلنواز پڑی ہی تھی کہ ان کا خون خشک ہونے لگا، انہیں سمجھ نہیں آرہا تھا کہ ایسا کیسے ہو سکتا ہے کہ اس عظیم کائنات کا نظام ایک ہی شکتی کے ہاتھ میں ہو اور وہی اس کی چالک ہو، ان کی تو سمجھتوشرک و بت پرستی کی نجات سے کنداور کھٹل ہو چکی تھی۔یہ تو خواجہ اجمیری کی ہی ذات تھی کہ ان کی نجاست کو طہارت مین تبدیل کر دیا۔ آپ نے فرمایا’’اے لوگو! تمھارے مالک نے تمھیں یک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا، تم سب آدم علیہ السلام کی اولاد ہو، اور آدم علیہ السلام مٹی سے پیدا کیئے گئے،نہ تم میں کوئی اعلیٰ ہے،نہ کوئی ادنا،نہ اونچ ہے نہ نیچ،نہ کوئی شریف ہے نہ کوئی ذلیل۔ ہاں ،ہاں ،سُنو،غور سے سُنو! تم میں بہتر اور اعلیٰ وہ ہے جس کے کرم اچھّے ہیں، بحیثیت انسان تم سب آپس میں بھائی بھائی ہو۔ ارے بھائی! شریف اور ذلیل،اونچاور نیچ،اعلیٰ اور ادناہے تو کرم سے نہ کہ جنم سے۔ جنم سے تم سب یکساں ہو، اچھا یا برا،شریف یا ذلیل تمھیں تمھارے کرم بناتے ہیں نہ کہ جنم۔ خواجہ اجمیری کے جنم و کرم کے فلسفے کو سمجھنا اتنا آسان تو نہ تھا، جو لوگ برسہا برس سے منوجی کے حیوانی نظام حیات میں حیوانی زندگی گزار رہے تھے،پہلی مرتبہ یہ سماجی برابری کی بات ان کے کانوں میں پڑی تھی، وہ تو یہ سن کر ہکّا بکّا رہ گئے بھلا ایک شودر کا بچّہ برہمن کے بچّےکے برابر ہو سکتا ہے؟انھیں اپنی سماعتوں پر یقین نہیں آرہا تھا کہ ایسی ناممکن اور عقل سے پرے بات بھلا کیسے سہی ہو سکتی ہے۔ مگر قربان جائے خواجہ اجمیری کی فراست پر، ان کے طریقئہ تبلیغ پر کہ انھونےصرف اپدیش ہی نہیں دئے بلکہ عملاً ایسا سلوک اور ویوہار ان جنم کے نیچ اور کمین کہلانے والوں کے ساتھ کیا کہ سرزمینِ ہند پر ایسے سماجی برابری،محبت واخوت اورموت و مروت کے ایمان افروز مناظر چشم فلک نے اس سے پہلے کبھی نہیں دیکھے تھے۔ خواجہ اجمیری ان نامرادوں کو اپنے دسترخوان پر اپنے ساتھ بٹھاکر اپنے ہی برتنوں میں کھلا رہےہیں،اپنے سینے سے لگا رہے ہیں،ان کی نزریں قبول کر کے خود بھی کھا رہے ہیںاور اپنے خدّام کو بھی کھلا رہے ہیں،ایسا کرنےسے ان کا دھرم ناپاک نہیں ہوتا،ان کے برتن ناپاک نہیں ہوتے، وہ خود اپوتر نہیں ہوتے۔ بس پھر کیا تھا ان سب کو اپنی سماعتوں پر یقین ہونے لگا کیونکہ یہان قول و عمل میں تضاد نہ تھا، جو زبان سے کہاوہ عملاً کر کے دکھایا۔یہ تھا خواجہ اجمیری کا وہ اصف جو ہمیشہ ارباب تصوف کا طرہ امتیاز رہا ہے اور اسی سبب سے آج اسلام کا پرچم ہر سو لہرا رہا ہے۔ ابھی تو پیلا ہی سبق خواجہ نے پڑھایا تھا کہ ایک ہنگامہ برپا ہو گیا، برہمنوں اور جنم کے پوتروں کو اپنے پائوں تلے سے اقتدار کا سنگھاسن کھسکتا نظر آنے لگا، وہ تلملا اٹھے، غضب میں آگئے، اور خواجہ اجمیری کو طرح طرح کی اذیتیں دینے لگے،کبھی ان پر پانی بند کیا گیا،کبھی ین کے خیمے اکھاڑے گئے،کبھی انھیں فریضہ تبلیغ سے روکا گیا، مگر وہ مردِ مجاہد ڈٹا رہا،اسے اپنے آقا و مولیٰ ﷺ کاحکم یاد تھا،کیونکہ وہ فرستادہ نبی تھا،اپنی مرضی سے تو آیا نہیں تھا،جس نے بھیجا تھا اسی کا فیض تھا کہ خواجہ اجمیری اپنی بے لوث خدمات اور عظیم تعلیمات سے امر ہو گئے،ایسےامر ہوئے کہ آج تک ان کا آستانہ پاک مرجع خلائق بنا ہوا ہے۔
خواجہ ہند وہ دربار ہے اعلیٰ تیرا
کبھی محروم نہیں مانگنے والا تیرا
خواجہ اجمیری کے دربار کی علویت ،رفعت، عظمت کو تو ہم سر کی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں۔ ان کی بارگاہ میں عالیہ میں دست سوال دراز کرنے والا کبھی محروم نہیں۔ یہ بات کچھ ہضم نہیں ہوتی کیونکہ یہ شان تو خالقِ کاینات کی ہے جو اپنے بندوں کو دیتا ہے اور بہت دیتا ہے، مانگنےپر بھی دیتا ہے اور کبھی کبھی تو اس کی جود و عطا کا یہ عالم ہوتا ہے کہ بن مانگے دیتا ہے۔کیا اس کے سوا بھی کسی ایسی ہستی کا وجود ہے جو اس کے بندوں اور بندیوں کی حاجت روائی اور مشکل کشائی کا فریضہ انجام دے ۔۔۔۔ہاں ہے خدا کے ایسے نیک بندے جنھونے اپنے آپ کو خدا کی وحدانیئت میں اپنےآپ کو فنا کر دیا ایسے بندوں کو خداوندِ عالم یہ اختےار دیتا ہے کہ وہ مشکل کشائی،حاجت روائی کر سکیں۔ خواجہ اجمیری بھی خداوندِ عالم کے ایسے ہی نیک بندے ہیں جو خدا کی عطا سے اس کے بندوں کی حاجت روائی اور مُشکل کُشائی کرتے ہیں ۔۔۔لیکن خواجہ اجمیری کی بارگاہ میں حاضری دینے والے عقیدت مندوں کو یہ بات یاد رکھنی چاہئے کہ وہ ادب کا دامن نہ چھوڑیں اور درگاہ میں بے حرمتی اور بے ادبی سے بچیں۔اعلیٰ حضرت امامِ اہلِ سنّت امام احمد رضا فاضلِ بریلوی نے صاف لفظوں میں اہلاللّٰہ کے آستانوں پر انجام دی جانے والی غیر شرعی رسوماتکی اپنے مخصوص انداز میں بیخ کنی کی ہے۔ مزارات پر عورتوں کی حاضری سے متعلق تو انھونے باقاعدہ ایک رسالہ تصنیف کیا ہے، خواجہ اجمیری کے دیوانو! خواجہ اجمیری کے مشن کو پہچانو اور اس کو پورا کرنے کے لئے کوشاں رہو۔

عطائے رسول خواجہ غریب نواز (رضی اللہ عنہ) کا مختصراً تعارف

عطائے رسول خواجہ غریب نواز (رضی اللہ عنہ) کا مختصراً تعارف
نام ۔۔۔ معین الدین حسن
ولادت ۔۔۔ موضع سنجر شہر خراساں میں 537ھ میں پیدا ہوئے۔
مخصوص خطابات ۔۔۔ نائب رسول فی الہند، سلطان الہند، عطائے رسول، غریب نواز، ہندالولی، خواجہ خواجگان، خواجہ اجمیر، سلطان سنجر
وصال ۔۔۔ 6/ رجب 633ھ
مدفن ۔۔۔ اجمیر شریف
والد ماجد ۔۔۔ حضرت سید غیاث الدین حسن
والدہ محترمہ ۔۔۔ بی بی ام الورع (مگر بی بی ماہ نور سے مشہور تھیں)
ولادت : سلطان الہند، عطاء رسول، خواجہ خواجگان حضرت معین الدین حسن چشتی سنجری رضی اللہ تعالٰی عنہ موضع سنجر خراسان 537ھ میں پیدا ہوئے۔ آپ کے والد ماجد کا اسم گرامی حضرت غیاث الدین حسن ہے۔ یہ آٹھویں پشت میں عارف حق موسٰی کاظم علیہ الرحمۃ کے پوتے ہوتے ہیں۔
والدہ محترمہ کا نام بی بی ام الورع ہے اور بی بی ماہ نور سے مشہور تھیں جو چند واسطوں سے حضرت امام حسن رضی اللہ تعالٰی عنہ کی پوتی تھیں۔ اس لئے آپ والدہ کی طرف سے حسینی اور والدہ کی طرف سے حسنی سید ہیں۔
نسب نامہ پدری یہ ہے : حضرت خواجہ معین الدین حسن چشتی بن خواجہ غیاث الدین بن خواجہ نجم الدین طاہر بن خواجہ سید ابراہیم بن سید ادریس بن امام موسٰی کاظم بن جعفر صادق بن محمد باقر بن زین العابدین بن سیدنا امام حسین بن امیر المومنین حضرت مولٰی علی کرم اللہ وجہہ الکریم رضی اللہ تعالٰی عنہ
نسب نامہ مادری یہ ہے : بی بی ام الورع بنت حضرت سید داؤد بن عبداللہ جنبل بن زاہد بن محمد موسٰی بن سید عبداللہ مخفی بن حسن مثنٰی بن سیدنا امام حسین بن امیر المومنین حضرت سیدنا علی رضی اللہ تعالٰی عنہ
تعلیم و تربیت : ابتدائی تعلیم گھر پر ہوئی۔ آپ کے والد بزرگوار حضرت غیاث الدین حسن ایک بڑے جید عالم تھے۔ خواجہ صاحب نے نو سال کی عمر میں قرآن مجید حفظ فرما لیا اور اس کے بعد سنجر کے ایک مکتب میں داخلہ ہوا۔ آپ نے یہاں ابتدائی طور سے تفسیر، فقہ اور حدیث کی تعلیم پائی اور تھوڑی ہی عرصے میں آپ نے تمام علوم میں مہارت حاصل کرلیا۔
سیدنا غوث اعظم سے آپ کا تعلق : مسالک السالکین سے پتہ چلتا ہے کہ خواجہ غریب نواز اور سیدنا غوث اعظم رضی اللہ تعالٰی عنہما آپس میں خالہ زاد بھائی ہیں۔ اور سیرالاقطاب سے معلوم ہوتا ہے کہ خواجہ غریب نواز ایک رشتے سے حضرت غوث پاک کے ماموں ہوتے ہیں۔ (مسالک السالکین صفحہ 271، 272، سیر الاقطاب صفحہ107)
خطابات و القاب : مخصوص اور مشہور خطاب یہ ہیں:۔ نائب رسول فی الہند، سلطان الہند، عطائے رسول، غریب نواز، ہندالولی، خواجہ خواجگان، خواجہء اجمیر، سلطان سنجر۔ اور القاب یہ ہیں :۔ قدوۃ الاولیاء، مخزن معرفت، دلیل العارفین، برہان الواصلین، تاج العاشقین، سید العادین، تاج المقربین، سلطان العارفین، قطب دوراں، معین الملت والدین، امما شریعت و طریقت، واقف اسرار، صوری و معنوی، معین الحق۔
شجرہء بیعت : پندرہ واسطوں سے امام الاولیاء حضرت مولٰی کرم اللہ وجہہ الکریم تک آپ کا شجرہ ملتا ہے۔ معین الدین از خواجہ عثمان ہارونی از حاجی شریف خدندنی چشتی از قطب الدین مودور چشتی از خواجہ ناصر الدین ابو یوسف چشتی از خواجہ ابو محمد چشتی از خواجہ ابدال چشتی از خواجہ ابو اسحاق چشتی از خواجہ ممشاد علادنیوری از شیخ امین الدین بصری از شیخ سدید الدین حذلقۃ المرعشی از سلطان ابراہیم ادہم بلخی از خواجہ فضیل بن عیاض از خواجہ عبدالواحد بن زید از حضرت حسن بصری از شہنشاہ ولایت حضرت علی۔ (رضی اللہ تعالٰی عنہ)
چشتی کی وجہ تسمیہ : حضرت خواجہ ابو اسحاق شامی بیعت کرنے کی غرض سے گئے۔ خواجہ ممشاد دنیوری نے آپ کو بیعت ارادت سے مشرف کرنے کے بعد فرمایا؛۔ تیرا نام کیا ہے ؟ عرض کیا۔ اس عاجز کو ابو اسحاق کہتے ہیں۔ یہ سن کر خواجہ ممشاد علاد دینوری نے فرمایا۔ آج سے ہم تجھے ابو اسحاق چشتی کہیں گے اور جو تیرے سلسلہء ارادت میں قیامت تک داخل ہوگا وہ چشتی کہلائے گا۔
ابو اسحاق شامی اپنے پیر کے فرمان کے مطابق “چشت“ تشریف لاکر رشد و ہدایت میں مصروف ہوگئے۔ چنانچہ خواجہ معین الدین کے پیران عظام میں سے ہیں اس وجہ سے حضرت خواجہ بھی چشتی مشہور ہوئے۔ (احسن السیر و مسالک السالکین)
ازواج و اولاد : سرکار دو عالم نے خواب میں فرمایا۔ اے معین الدین ! تو ہمارے دین کا معین ہے۔ تجھے شادی کرنا چاہئیے۔ اس فرمان نبوی کے مطابق پہلی شادی بی بی امتہ اللہ سے کی۔ 590ھ میں جن کے بطن سے خواجہ فخرالدین، خواجہ حسام الدین اور بی بی حافظ جمال پیدا ہوئیں۔ دوسری شادی سید وجیہہ الدین شہدی کی صاحبزادی عصمت اللہ سے ہوئی۔ 620ھ میں آپ کے بچن سے شیخ ابو سعید پیدا
خواجہ فخر الدین ابو الخیر : خواجہ صاحب کے سب سے بڑے صاحبزادے 591ھ میں پیدا ہوئے۔ ذریعہ معاش زراعت تھی۔ آپ نے علوم ظاہری و باطنی حاصل کیا۔ بتاریخ 5 شعبان المعظم 661ھ میں واصل بحق ہوئے۔ مزار شریف سرواڑ شریف میں ہے۔ ہر سال عُرس ہوتا ہے۔
خواجہ حسام الدین ابو صالح : آپ خواجہ صاحب کے دوسرے صاحبزادے ہیں۔ زندگی ہی میں لوگوں کی نظروں سے غائب ہوکر ابدالوں میں شامل ہوگئے۔
بی بی حافظ جمال : خواجہ صاحب کی اکلوتی صاحبزادی ہیں۔ آپ کی شادی قاضی حمیدالدین ناگوری کے صاحبزادے شیخ رضی الدین عرف عبداللہ سے ہوئی۔ مزارِ مبارک خواجہ صاحب کے پائیں میں واقع ہے۔
خواجہ ضیاء الدین ابو سعید : خواجہ صاحب کے سب سے چھوٹے صاحبزادے تھے۔ آپ کی عُمر پچاس سال ہوئی۔ آپ کا مزار اپنے والد کی درگاہ میں لب جھالرہ سایہ گھاٹ پر زیارت گاہ خاص و عام ہے۔

خواجہ صاحب کی زندگی
نہادت سادی تھی۔ آپ نے صفات بشری ترک فرما کر روحانیت میں کمال حاصل کیا۔ آپ کے پیرو مُرشد خواجہ عثمان ہارونی کو آپ کی مُریدی پر بڑا ناز تھا۔ وہ فرمایا کرتے تھے۔
ہمارا معین خدا کا محبوب ہے۔ مجھے اس کی مُریدی پر فخر ہے۔ آپ نے سرکار دو عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کے نقش قدم پر چلنا اپنا اُصول بنا رکھا تھا۔ سنت رسول کے پابند تھے۔ آپ فنافی الرسول کے درجہ پر تھے۔ آپ کا کُل وقت ریاضت و مجاہدہ اور عبادت میں گزرتا تھا۔ آپ اکثر باوضو رہتے تھے۔ اور عشاء کے وضو سے فکر کی نماز ادا کرتے تھے۔ دن رات میں قرآن پاک ختم کرتے تھے۔
آپ کی مُرید نوازی بہت مشہور ہے۔ مُریدوں کا خیال بے حد رکھتے تھے۔ آپ کا فرمان اعلٰی ہے کہ معین الدین اس وقت تک جنت میں قدم نہیں رکھے گا جب تک اپنے مُریدوں اور مُریدوں کے مُریدوں کو جو قیامت تک سلسلے میں ہوں گے جنت میں نہ لے جائے گا۔ آپ پر استغراق کی کیفیت رہتی۔ آنکھیں بند رکھتے۔ جب نماز کا وقت ہوتا آنکھیں کھولتے۔ اس وقت آپ کی یہ حالت ہوتی کہ جس شخص پر بھی نظر پڑتی وہ ولی کامل ہو جاتا۔ آپ قطب وحدت پر فائز تھے۔ آپ مرتبہ محبوبیت پر پہنچ گئے تھے۔ احدیت میں فنا ہوکر آپ دوست کے ساتھ ایک رنگ ہو گئے تھے۔

اخلاق و عادات
نہایت تحمل و برباد تھے۔ خطا معاف فرما دیتے۔ بے حد سخی تھے۔ غریبوں اور محتاجوں کی ہر طرح سے امداد کرتے۔ بھوکوں کو کھانا کھلاتے بیماریوں کی خبر گیری کرتے۔ مظلوموں کو ظالم کے پھندے سے نکالتے۔ آپ حلیم اور منکسر المزاج تھے۔

لباس اور کھانا
لباس سادہ تھا کپڑا پر خود پیوند لگا لیتے تھے۔ آپ کی خوراک بہت کم تھی۔

علمی شغل
آپ ایک خدا رسیدہ بزرگ ہونے کے ساتھ ساتھ ایک باکمال مبلغ و مصلح، صاحب طرز مصنف اور خوش گو شاعر تھے۔ مندرجہ ذیل تصنیفات آپ کے ذوق علمی پر شاہد ہیں:۔
(1) انیس الارواح (2) کشف الاسرار (3) گنج الاسرار (4) رسالہ تصوف منظوم (5) رسالہ آفاق و انفس (6) حدیث المعارف (7) رسالہ موجودیہ ( 8 ) دیوان معین۔



حضرت شداد بن اوس سے روایت ہے کہ" موت دنیا کی اور آخرت کی ہولناکیوں میں سب سے زائد ہولناک ہے یہ آروں کے چیرنے سے، قینچیوں کے کاٹنے سے، ہانڈیوں کے ابالنے سے زائد ہے۔ اگر مردہ زندہ ہوکر موت کی سختی لوگوں کو بتادیتا تو ان کا عیش اور نیند سب کچھ ختم ہوجانا"۔ (ابن ابی الدنیا) شرح الصدور ص35)

مدینہ تجھے سلام