جون کا مہینہ آتے ہی اسکول کھلنے کی دھوم مچ جاتی ہے۔ اسکولی طالب علم جہاں اسکول جانے کیلئے بیتاب ہوتے ہیں‘ اس سے بھی زیادہ انہیں نئی کاپیاں‘ کتابیں اور اسکول بیگ وغیرہ خریدنے کی خوشی رہتی ہے۔کیونکہ تعلیمی سال کے آغاز میں بچوں کی اصلی خوشی یہی ہوتی ہے۔ وہ نیا اسکول ڈریس‘ نئے بستے ‘ واٹر باٹل ‘ کمپاس وغیرہ پاکر خوش ہوجاتے ہیں۔ اور یہ خوشی کیا ہوتی ہے‘ اس کے بارے میں ان کے والدین بھی جانتے ہیں۔ کیونکہ کسی زمانے میں وہ بھی تعلیمی سال کے آغاز کے وقت ایسے ہی خوش ہوجایا کرتے تھے۔ لیکن کچھ سال پہلے تک اسٹیشنری کی دکانوں پر اس طرح کی نت نئی چیزیں نہیں سجی ہوتی تھیں۔ کچھ عرصہ پہلے مشترکہ خاندان یعنی جوائنٹ فیملی کا چلن عام تھا اسلئے کئی طالب علموں کو تو نئی کتابیں ملتی ہی نہیں تھیں۔ انہیں ان کے بڑے بھائیوں کی پرانی کتابیں ہی ملتی تھیں۔ لیکن یہ لوگ نئی کاپیاں ‘ کمپاس اور بستہ پاکر خوش ہوجاتے تھے۔ اس وقت ماں باپ بچوں کی کاپیاں اور کتابیں بھی خود ہی لا لیتے تھے۔ بچوں کی پسند ناپسند کو ملحوظ نہیں رکھا جاتا تھا۔ اور بچے بھی ماں باپ کی لائی ہوئی نئی چیزیں پاکر خوش ہوجاتے تھے۔
لیکن آج کل زمانہ بدل گیا ہے۔ جوائنٹ فیملی کا نظام ختم ہوتا جارہا ہے اسلئے اب بچوںکو ہر سال سبھی چیزیں نئی ہی مل جاتی ہیں۔ اسکے علاوہ اب ماں باپ بچوں کے بغیر جاکر اسکول کی چیزیں اب نہیں خریدتے ۔ کیونکہ اب اسٹیشنری کی دکانوں پر بھانت بھانت کی چیزیںموجود ہیں۔ اسلئے ماں باپ اگر کوئی چیز اپنی پسند سے لا بھی لیں‘ تو اکثر بچوںکو وہ چیزیں پسند نہیں آتیں۔ اسلئے اب اسکول کا کوئی بھی سامان خریدنا ہو‘ بچے ماں باپ کے ساتھ ہی دکانوں پر آتے ہیں اور اپنی من پسند چیز خریدتے ہیں۔ اگر ماں باپ انہیں کوئی چیز خریدنے سے منع بھی کردیں تو ضد کرکے وہ اپنی من پسند چیز حاصل کرلیتے ہیں۔ فی الحال اسٹیشنری کی دکانوں پر بچوں کی پسند پر جو چیزیںکھری اتر رہی ہیں وہ ہیں ’ہانا مونٹانا ‘ اسپائڈر مین‘ ہیری پاٹر اور پوکے مان کے اسکول بیگ‘ واٹر باٹل‘ اسٹیکر وغیرہ ہیں۔ اگر آپ اپنے بچے کو سادہ بیگ خریدنے کیلئے کہیں گے‘ یا کوئی ایسا بیگ خریدنے کیلئے کہیں گے جو مضبوط اور عمدہ ہو‘ لیکن اس پر کوئی تصویر نا ہو‘ تو ہو سکتا ہے کہ آپ کا لاڈلا یا لاڈلی فوراً نا کردے ۔ اگر انہیںڈانٹا جائے تو پھروہیں پر رونا بھی شروع ہوجاتا ہے ۔ اسلئے ماں باپ بھی بچوں کی ضد کی وجہ سے مجبور ہوکر انہیں بیکار کیوں نا ہو‘ لیکن ان کا من پسند بیگ اور دیگر چیزیں دلا ہی دیتے ہیں۔
اسکول کا سامان خریدتے وقت بچے جس طرح سے مغربی کارٹونوں سے متاثر نظر آرہے ہیں اس سے صاف ظاہر ہورہا ہے کہ‘ آہستہ آہستہ مغربیت نے ہماری زندگی میں کتنی جگہ بنالی ہے۔ ہمارے لاڈلوں کے دلوںمیں ان بیکار قسم کے کارٹون کیرکٹروں کے لئے کتنی محبت اورجنون ہے۔ ٹی وی کے ذریعے کیسے ہمارے نونہالوں کے ذہنوں کو دھیرے دھیرے کیسے متاثر کیا جارہا ہے۔ آج کے دورمیں کسی عام بچے سے اسپائڈر مین یا ہیری پاٹر کے بارے میں پوچھیں گے تو وہ اسکے بارے میں بہت کچھ بتائے گا ۔ لیکن اس سے ڈاکٹر ذاکر حسین اور سوامی وویکانند کے کے بارے میں پوچھیں گے تو شائد ہی وہ کچھ خاص بتا سکے۔ مغربی تہذیب ہمارے بچوں کو بری طرح متاثر کررہی ہے ۔ ہمارے عظیم رہنما جو ان خیالی کارٹون نما ہیرئووں سے لاکھ درجہ بہتر ہیں اور انہوں نے کئی عظیم کارنامے انجام دیئے تھے۔ لیکن بچوں کو ان کے بارے میںکچھ پتہ نہیں ۔ بچوں کے بستوں سے جو کاپیاں اوررجسٹر بھی برامد ہورہے ہیں تو ان کے اوپر شاہ رخ خان‘ ایشوریہ رائے اورنا جانے کون کونسے فلمی ستارے نظر آتے ہیں۔ اوراکثر فلمی ستارے بیحد واہیات لباس میں نظرآتے ہیں۔ لیکن ہماری نئی نسل ان فلمی ہیرو ‘ ہیروئنوں کی پرستار بنتی جارہی ہے۔ ان کی نقالی کرنے میں ہماری نئی نسل فخر محسوس کرتی ہے۔ ایسا کیوں ہورہا ہے؟
دراصل اس سست رفتار بدلائو کیلئے سب سے زیادہ ذمہ دار ہم ہی ہیں! اس میں کوئی شک نہیں کہ‘ اسکول میں اساتذہ بھی اسکے لئے ذمہ دار ہیں۔ کیونکہ ہماری نوجوان نسل یہ نہیں جانتی کہ ہمارے بزرگوں نے کیسے کیسے عظیم کارنامے انجام دیئے ہیں۔ انہیں اس بات کی جانکاری اور احساس دلانا ضروری ہے۔ یہ صرف اسکول کے اساتذہ کا ہی کام نہیں ہے بلکہ گھرمیں طالب علموں کے سرپرست اور والدین کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ بچوں کو جھوٹی کہانیوں اور قصوں کے اثر سے بچائیں اور بالی وڈ کی بے شرم دنیا کا اثر اپنے لاڈلوں پر نا پڑنے دیں۔ کیونکہ اگر بچے کم لباس کی فلمی ہیروئن اور بغیر شرٹ کے ہیرو وکو اپنا آئیڈیل ماننے لگے تو پھر ہوچکی پڑھائی! (م۔ع۔رحیم)


















