सोमवार, 20 जून 2011

خواجہ اجمیری کا مشن اور ہمارا کردار



سب سے محبت،سب کی خدمت یہ ہے خواجئہ اجمیری کی تعلیمات و فرمودات کا وہ نقتہ جس کے سبب اپنے اور بیگانے خواجہ کی عظمت اور رفعت کے گیت گاتے نظر آتے ہیں۔ سلطان الہند،عطائے رسول، غریب نواز جیسے اعزازات سے معزز خواجئہ اجمیری کی بلند پایہ اور عبقری شخصیت کی یہ سحر انگیزی ہی ہے کہ اکناف عالم سے نہ صرف خوش عقیدہ مُسلمان و مومنات بلکہ بزرگانِ دین سے عقیدہ رکھنے والے دیگر مذاہب ومکاتبِ فکر کےحاملین بھی بارگاہ خواجہ غریب نواز اجمیری میں حاضری کو باعث سعادت خیال کرتے ہیں،اجمیر کی مُقدّس دھرتی پر زیرِ زمیں محواستراحت اس صاحبِ دل اور عاشقِ صادق کی بارگاہ تقدیس و تطہیر مین اپنی اپنی عقیدتوں کا خراج پیش کرنے کے لئے غلام حاضر ہیں۔
خواجہ اجمیری اپنے وطن عزیز کو خیرآباد کہہ کرعازم ہندوستان ہوتے ہیں۔ کیونکہ ان کےمولیٰ وکریم رسول عظیم ﷺ کا یہی حکم ہے،جاو! دارالکفروالشرک کو دارلتوحید ورسالت میں تبدیل کرنے،مظلوموں کی گردنوں سے ظلم کا طوق اتارنے ، انھیں غیرانسانی نظام زندگی سے آزاد کرانے اور ایک خدا کی بارگاہ میں سر جھکانے کے لئے کوشیشیں کرو۔ خواجہ اجمیری نہیں ، نہیں ایک نورانی پیکر، قدسی صفت،ریش دراز بزرگ ہندوستان کو اپنے قدوم میمنت لزوم سے مُشرّف کرتا ہے، ذرا اس وقت کے ہندوستان پر بھی ایک نظر ڈالتے چلیں۔ بڑاہی پر آشوب عہد تھا،کفر اور شرک کی خیرات ہول سیل میں گھر گھر مین بٹ رہی تھی،بدعات وخرافات کے سیاہ بادل پورے ملک پر چھائے ہوئے تھے، حیاسوز و انسانیت کوش رسوم کا بول بالا تھا، دکھیاری عورت کی حیثیت پَیر کی جوتی سے بھی بدتر تھی،شراب و شباب کی محفلیں آراستہ و پیراستہ تھیں، غربت و افلاس سماج کی سب سے بڑی لعنت تھی، غریب کا حسن، حسن نی تھا،اس کا وصف وصف نی تھا، امیر کا عیب بھی حسن تھا، اس کا شر بھی خیر تھا ۔ سماج مین دوہرا معیار قائم تھا، برہمن کو سات خون معاف تھے تو بیچارے شودر کو برہمن کے آنگن میں تھوکنے پر اپنی زبان کٹوانے پر ہی امان ملتی تھی۔برہمن کی کنیا کو ایک نظر دیکھنے پر شودر کی آنکھیں پھوڑنے کی سزا منو جی کے آئین نے تجویز کی تھی، شودر کی جورو کو اگر کوئی برہمن اپنی حوس کا نشانہ بناتا تو یہ اس کا حق مالکانہ تھا،شودر کو اس کے خلاف زبان کھولنے کابھی حق نہ تھا، بلکہ اس کی مُکتی(نجات) کے لئے یہی کافی تھا کہ کسی برہمن کی نظر انتخاب اس کی شریک سفر پر پڑی اور اس جنم کےپوتر نے اس ناپاک شودرانی کوپوتر کر دیا۔ ایسا اس دبے کچلے سماج کا ماننا تھا۔غرض یہ کی منوجی کا غیر انسانی نظام حیات پر مشتمل آئین عملی طور پر نافذ تھا۔ایسے میں خواجہ اجمیری کا ورودِ مسعود ہندوستان کے ان دکھیون کے لئے نعمتِ غیر مترقبہ سے کم نہ تھا۔ اپنے چند ایک خادموں کے ساتھ ایک پھتے پرانے ٹات پربیٹھ کر توحید و رسالت کے اسرار ورموز،مودت و اخوت اور سماجی برادری کے آفاقی نظریات ، انہی کی زبان اور انہی کے انداز میں بیان کرنے والے خواجہ اجمیری کی من کو بھانے والی بتیاں ہی کچھ ایسی تھی کہ جو ان کی خدمت میں ایک بار آیا انہی کا ہو رہا، دین چھوڑا، سماج چھوڑا ، ریت چھوڑی،رواج چھوڑے۔ غرض یہ کہ سب کُچھ چھوڑ کر خواجہ اجمیری کے چرنوں میں حیاتِ جاودانی تلاش کرنے لگا۔ خواجہ اجمیری کی زبان سے فیض ترجمان سے نکلے ان کلمات نے سب کو محو کر کے رکھ دیا۔
’’لوگو! تمھارے پالنہارا ایک ہے، اس کا کوئی ساجھی نہیں ،نہ اس کو کسی نے جنا اور نہ وھ کیسی کو جنتا ہے۔ اسی نے تم کو پیدا لیا، وہی تم کو کھانے،پینے کو دیتا ہے، وہی زندگی دیتا ہے، وہی موت دیتا ہے، بیٹابیٹی وہی دیتا ہے، یہ بیجان پتھر جن کو تم پوجتے ہو اپنی مکھی بھی نہیں اڑا سکتے تو تمھاری حاجت روائی کیا خاک کرینگے۔ اور سُنو! یہ سر بڑاہی باعظمت ہے، یہ عظمت والا سر کسی عظمت والے ہی کے در پر جھکنا چاہئے، ہر ایرے غیرے کے مٹھ پر نہیں، ورنہ یہ سر کی توہین ہے،اسکے بنانے والے کی توہین ہے۔لوگو! ایک خدا کو پوجو، اور اسی سے اپنی حاجتیں طلب کرو، اسی کے آگے سروں کو جھکائو،باقی سب سے منہہ موڑ لو، اپنے خالقِ حقیقی سے رشتہ جوڑ لو‘‘
ہند کے ان نامرادوں کے کانوں میں یہ صدائے دلنواز پڑی ہی تھی کہ ان کا خون خشک ہونے لگا، انہیں سمجھ نہیں آرہا تھا کہ ایسا کیسے ہو سکتا ہے کہ اس عظیم کائنات کا نظام ایک ہی شکتی کے ہاتھ میں ہو اور وہی اس کی چالک ہو، ان کی تو سمجھتوشرک و بت پرستی کی نجات سے کنداور کھٹل ہو چکی تھی۔یہ تو خواجہ اجمیری کی ہی ذات تھی کہ ان کی نجاست کو طہارت مین تبدیل کر دیا۔ آپ نے فرمایا’’اے لوگو! تمھارے مالک نے تمھیں یک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا، تم سب آدم علیہ السلام کی اولاد ہو، اور آدم علیہ السلام مٹی سے پیدا کیئے گئے،نہ تم میں کوئی اعلیٰ ہے،نہ کوئی ادنا،نہ اونچ ہے نہ نیچ،نہ کوئی شریف ہے نہ کوئی ذلیل۔ ہاں ،ہاں ،سُنو،غور سے سُنو! تم میں بہتر اور اعلیٰ وہ ہے جس کے کرم اچھّے ہیں، بحیثیت انسان تم سب آپس میں بھائی بھائی ہو۔ ارے بھائی! شریف اور ذلیل،اونچاور نیچ،اعلیٰ اور ادناہے تو کرم سے نہ کہ جنم سے۔ جنم سے تم سب یکساں ہو، اچھا یا برا،شریف یا ذلیل تمھیں تمھارے کرم بناتے ہیں نہ کہ جنم۔ خواجہ اجمیری کے جنم و کرم کے فلسفے کو سمجھنا اتنا آسان تو نہ تھا، جو لوگ برسہا برس سے منوجی کے حیوانی نظام حیات میں حیوانی زندگی گزار رہے تھے،پہلی مرتبہ یہ سماجی برابری کی بات ان کے کانوں میں پڑی تھی، وہ تو یہ سن کر ہکّا بکّا رہ گئے بھلا ایک شودر کا بچّہ برہمن کے بچّےکے برابر ہو سکتا ہے؟انھیں اپنی سماعتوں پر یقین نہیں آرہا تھا کہ ایسی ناممکن اور عقل سے پرے بات بھلا کیسے سہی ہو سکتی ہے۔ مگر قربان جائے خواجہ اجمیری کی فراست پر، ان کے طریقئہ تبلیغ پر کہ انھونےصرف اپدیش ہی نہیں دئے بلکہ عملاً ایسا سلوک اور ویوہار ان جنم کے نیچ اور کمین کہلانے والوں کے ساتھ کیا کہ سرزمینِ ہند پر ایسے سماجی برابری،محبت واخوت اورموت و مروت کے ایمان افروز مناظر چشم فلک نے اس سے پہلے کبھی نہیں دیکھے تھے۔ خواجہ اجمیری ان نامرادوں کو اپنے دسترخوان پر اپنے ساتھ بٹھاکر اپنے ہی برتنوں میں کھلا رہےہیں،اپنے سینے سے لگا رہے ہیں،ان کی نزریں قبول کر کے خود بھی کھا رہے ہیںاور اپنے خدّام کو بھی کھلا رہے ہیں،ایسا کرنےسے ان کا دھرم ناپاک نہیں ہوتا،ان کے برتن ناپاک نہیں ہوتے، وہ خود اپوتر نہیں ہوتے۔ بس پھر کیا تھا ان سب کو اپنی سماعتوں پر یقین ہونے لگا کیونکہ یہان قول و عمل میں تضاد نہ تھا، جو زبان سے کہاوہ عملاً کر کے دکھایا۔یہ تھا خواجہ اجمیری کا وہ اصف جو ہمیشہ ارباب تصوف کا طرہ امتیاز رہا ہے اور اسی سبب سے آج اسلام کا پرچم ہر سو لہرا رہا ہے۔ ابھی تو پیلا ہی سبق خواجہ نے پڑھایا تھا کہ ایک ہنگامہ برپا ہو گیا، برہمنوں اور جنم کے پوتروں کو اپنے پائوں تلے سے اقتدار کا سنگھاسن کھسکتا نظر آنے لگا، وہ تلملا اٹھے، غضب میں آگئے، اور خواجہ اجمیری کو طرح طرح کی اذیتیں دینے لگے،کبھی ان پر پانی بند کیا گیا،کبھی ین کے خیمے اکھاڑے گئے،کبھی انھیں فریضہ تبلیغ سے روکا گیا، مگر وہ مردِ مجاہد ڈٹا رہا،اسے اپنے آقا و مولیٰ ﷺ کاحکم یاد تھا،کیونکہ وہ فرستادہ نبی تھا،اپنی مرضی سے تو آیا نہیں تھا،جس نے بھیجا تھا اسی کا فیض تھا کہ خواجہ اجمیری اپنی بے لوث خدمات اور عظیم تعلیمات سے امر ہو گئے،ایسےامر ہوئے کہ آج تک ان کا آستانہ پاک مرجع خلائق بنا ہوا ہے۔
خواجہ ہند وہ دربار ہے اعلیٰ تیرا
کبھی محروم نہیں مانگنے والا تیرا
خواجہ اجمیری کے دربار کی علویت ،رفعت، عظمت کو تو ہم سر کی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں۔ ان کی بارگاہ میں عالیہ میں دست سوال دراز کرنے والا کبھی محروم نہیں۔ یہ بات کچھ ہضم نہیں ہوتی کیونکہ یہ شان تو خالقِ کاینات کی ہے جو اپنے بندوں کو دیتا ہے اور بہت دیتا ہے، مانگنےپر بھی دیتا ہے اور کبھی کبھی تو اس کی جود و عطا کا یہ عالم ہوتا ہے کہ بن مانگے دیتا ہے۔کیا اس کے سوا بھی کسی ایسی ہستی کا وجود ہے جو اس کے بندوں اور بندیوں کی حاجت روائی اور مشکل کشائی کا فریضہ انجام دے ۔۔۔۔ہاں ہے خدا کے ایسے نیک بندے جنھونے اپنے آپ کو خدا کی وحدانیئت میں اپنےآپ کو فنا کر دیا ایسے بندوں کو خداوندِ عالم یہ اختےار دیتا ہے کہ وہ مشکل کشائی،حاجت روائی کر سکیں۔ خواجہ اجمیری بھی خداوندِ عالم کے ایسے ہی نیک بندے ہیں جو خدا کی عطا سے اس کے بندوں کی حاجت روائی اور مُشکل کُشائی کرتے ہیں ۔۔۔لیکن خواجہ اجمیری کی بارگاہ میں حاضری دینے والے عقیدت مندوں کو یہ بات یاد رکھنی چاہئے کہ وہ ادب کا دامن نہ چھوڑیں اور درگاہ میں بے حرمتی اور بے ادبی سے بچیں۔اعلیٰ حضرت امامِ اہلِ سنّت امام احمد رضا فاضلِ بریلوی نے صاف لفظوں میں اہلاللّٰہ کے آستانوں پر انجام دی جانے والی غیر شرعی رسوماتکی اپنے مخصوص انداز میں بیخ کنی کی ہے۔ مزارات پر عورتوں کی حاضری سے متعلق تو انھونے باقاعدہ ایک رسالہ تصنیف کیا ہے، خواجہ اجمیری کے دیوانو! خواجہ اجمیری کے مشن کو پہچانو اور اس کو پورا کرنے کے لئے کوشاں رہو۔

कोई टिप्पणी नहीं:

एक टिप्पणी भेजें