मंगलवार, 26 अप्रैल 2011
बुधवार, 20 अप्रैल 2011
اب مجھے ہجر بھی یاروں کی طرح لگتا ہے
جھلملاتے ہوئے تاروں کی طرح لگتا ہے
تو مجھے اجلے نظاروں کی طرح لگتا ہے
ڈال دیتے ہیں کئی درد کٹاؤ اس میں
دل بھی دریا کے کناروں کی طرح لگتا ہے
بے یقینی ہے کہ رہتے ہیں سراب آنکھوں میں
فائدہ مجھ کو خساروں کی طرح لگتا ہے
زندگی جس نے گزاری ہو خوشی میں ساری
اسکو اک غم بھی ہزاروں کی طرح لگتا ہے
بعض اوقات محبت کی تپش میں مجھ کو
عشق بھی جلتے چناروں کی طرح لگتا ہے
مل گئی قرب مسلسل میں طبیعت اس سے
اب مجھے ہجر بھی یاروں کی طرح لگتا ہے
اعجاز توکّل
शुक्रवार, 15 अप्रैल 2011
امریکی ’’مفادات‘‘ کے لئے بحرین میں قتل عام جائز؟
امریکی ’’مفادات‘‘ کے لئے بحرین میں قتل عام جائز؟ |
محمد احمد کاظمی 
شمالی افریقہ اور مشرقی وسطیٰ میں حالات بدستور کشیدہ ہیں۔ تیونیشیا اور مصر میں عوامی انقلاب کی کامیابی کے بعد لیبیا ،بحرین، یمن، اومان، اردن اور کسی حد تک سعودی عرب میں عوام حکمرانوں کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔ عوامی بیداری کے نتیجہ میں سب سے زیادہ متاثر ہونے والے حکمرانوں اور ان کے سیاسی آقاؤں امریکہ اور اسرائیل کی کوشش ہے کہ حکومتوں کی تبدیلی کا عمل ان ممالک میں کامیاب ہو جہاں وہ چاہتے ہیں یا جہاں کے حالات اب قابو سے باہر ہو چلے ہیں۔ لیبیا میں امریکہ اور اس کے اتحادی ناٹو ممالک نے معمر قذافی حکومت کے خلاف بمباری جاری رکھی ہوئی ہے جبکہ بحرین اور یمن میں عوامی انقلابات کو دبانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ بحرین اور یمن میں امریکہ اور اسرائیل کی اس خواہش کو پورا کرنے میں سعودی عرب تعاون دے رہا ہے۔ بحرین میں سعودی افواج براہ راست عوامی انقلاب کچلنے میں الخلیفہ حکومت کا ساتھ دے رہی ہیں جبکہ یمن میں سعودی خفیہ ایجنسیاں اور ماہرین علی عبد اللہ صالح حکومت کو بچانے کی جی توڑ کوششیں کر رہے ہیں۔
لندن سے شائع ہونے والے اخبار ٹیلی گراف نے امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان ہوئے ایک حالیہ سمجھوتے کا انکشاف کیا ہے جس کے تحت وہ لیبیا اور بحرین میں عوامی قتل عام میں ایک دوسرے کا تعاون کر رہے ہیں۔ اس کے تحت سعودی عرب لیبیا میں امریکہ اور اس کے اتحادی ممالک کے ذریعہ کئے جا رہے حملوں کی حمایت کرے گا۔اس کے بدلے میں امریکہ اور اس کے اتحادی ممالک بحرین میں الخلیفہ حکومت اور خلیجی تعاون کونسل اراکین کے ذریعہ عوامی انقلاب کو کچلنے کی کارروائیوں پر خاموش رہیں گے۔ اخبار نے سعودی حکام کے ذرائع سے لکھا ہے کہ انھوں نے مغربی ممالک کی لیبیا پر کی جا رہی کارروائی کی حمایت اس شرط پر کی ہے کہ وہ بحرین حکومت کے ذریعہ عوامی اطلاعات کے مطابق کویت میں بھی تین وزراء کے خلاف بدعنوانی کے الزامات کے نتیجہ میں سیاسی بحران پیدا ہو گیا ہے اور حکومت کو استعفیٰ دیناپڑا ہے۔
میں نے اس خطہ میں اکثر ممالک کے ایک سے زیادہ سفر کئے ہیں۔ عوام کے جذبات کو نزدیک سے سمجھنے کا موقع ملا ہے۔ عراق اور افغانستان میں امریکی جارحیت، اسی کی حمایت کے نتیجہ میں اسرائیلی مظالم کے جاری رہنے اور ان تمام واقعات سے پر اپنی حکومتوں کی خاموش حمایت کی وجہ سے عوام میں بے حد غصہ ہے۔ شمالی افریقہ اور اکثر عرب حکومتوں نے اپنے قومی مسائل کو امریکہ اور ان کے اتحادیوں کے دربار میں گروی رکھا ہوا ہے۔وہ اپنی شرائط پر ان ممالک کے قدرتی وسائل کا استحصال کرتے ہیں۔عوام کو غریب اور جاہل سازشی طور پر رکھا گیا ہے۔ یہ ممالک مغربی اشیاء کے لئے محض بازار بن کر رہ گئے ہیں۔ ان ممالک میں جو تعلیم یافتہ طبقے کے لوگ ہوتے ہیں انہیں خطے میں کشیدگی پھیلا کر اپنے ممالک میں پناہ لینے پر مجبور کیا جاتا ہے۔ یعنی ان ممالک کے قدرتی اور انسانی وسائل کا مغربی ممالک پوری طرح سے استحصال کرتے ہیں۔
بہرحال اب اکثر ممالک میں اپنے حقوق کے تئیں بیداری پیدا ہو رہی ہے۔ انقلاب کی اس چنگاری کو ختم کرنا فی الحال نا ممکن نظر آ رہا ہے۔ صرف فرق یہ ہے کہ جن ممالک میں بھی امریکہ کو تبدیلی اپنے حق میں نظر آ رہی ہے وہاں مخالفین کی حمایت کی جا رہی ہے۔ جہاں مغربی ممالک انقلابیوں کی مدد نہیں کر رہے وہاں انسانی اور مالی نقصان زیادہ ہوگا۔ آخر کار ظالم اور سازشی طاقتوں کو ناکام ہونا ہے اور عوام کو ان کے حقوق مل کر رہیں گے۔ انقلاب کے خلاف کی جا رہی کارروائیوں پر خاموش رہے سعودی عرب نے بحرین میں حکومت مخالف احتجاجیوں کو کچلنے کے لئے 1000مسلح فوجی بھیجے ہوئے ہیں جبکہ کویت ، اومان اور متحدہ عرب امارات نے بھی بحرین کو فوجی امداد دی ہوئی ہے۔ لیبیا پر امریکہ اور اس کے اتحادی یوروپی ممالک فضائی پابندیاں عائد کرنے کے لئے 350جنگی جہازوں سے حملے کر رہے ہیں۔ لیبیا کی معمر قذافی حکومت نے ان ممالک پر شہریوں کے خلاف حملوں کا الزام لگایا ہے۔ حالانکہ امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے ذریعہ شروع کئے گئے ہوائی حملوں سے پہلے قذافی حکومت نے کم از کم 10ہزار شہریوں کا قتل کیا ہے۔ بین الاقوامی سیاسی ماہرین کا کہنا ہے کہ لیبیا پر ہوائی حملوں کے پیچھے امریکہ کا مقصد وہاں کے تیل ذخائر پر قبضہ کرنا ہے۔
بحرین میں14فروری کو شروع ہوئے الخلیفہ حکومت کے خلاف احتجاجوں میں اب تک درجنوں افراد قتل کئے جا چکے ہیں جبکہ سینکڑوں زخمی اور لاپتہ ہیں۔ جب سے سعودی اور دیگر عرب ممالک کی افواج بحرین پہنچی ہیں تب سے تمام گائوں اور قصبوں تک میں مخالفین کو ایک ایک کر کے زد و کوب کیا جا رہا ہے۔ بحرین میں سب سے بڑی شیعہ جماعت الوفاق کے پاس 112ایسے افراد کی فہرست موجود ہے جو سیکورٹی دستوں کے ہاتھوں غائب ہوئے ہیں اور ان کا شمار مارے جانے والوں یا زخمیوں میں نہیں کیا گیا ہے۔ ان کے علاوہ تقریباً 100افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔
بحرین میں امریکہ کا پانچواں فوجی بیڑا موجود ہے جو کہ اس خطے میں امریکہ کے تمام عزائم کو پورا کرنے میں مدد فراہم کرتا ہے۔ حال ہی میں واشنگٹن میں واقع خلیجی امور کے ادارہ کے سربراہ علی احمد نے ایک ٹیلی ویژن انٹر ویو کے دوران اعتراف کیا تھا کہ اگر بحرین میں عوامی انقلاب کامیاب ہوا تو امریکہ کو یہ فوجی مرکز چھوڑنا پڑے گا کیونکہ اس نے الخلیفہ حکومت کی حمایت کی ہے۔
اس وقت حال یہ ہے کہ بحرین حکومت نے احتجاج کو دبانے کے لئے فوجی طیارے تیار رکھے ہیں۔ جمعہ کو تمام پابندیوں کے باوجود عوام کئی مقامات پر بڑے احتجاج منعقد کر رہے ہیں۔ البتہ منا ما کے پرل اسکوائر پر حکومت نے فوج اور پولس تعینات کی ہوئی ہے تاکہ یہاں مخالفین اکھٹے نہ ہو سکیں۔ لندن میں مقیم بحرین فریڈیم مومنٹ کے رہنماسعیدشہابی نے حال ہی میں کہا تھا کہ اس وقت بحرین میں فوجی حکومت ہے جو احتجاجیوں کو کچلنے کے لئے ہر ممکنہ قدم اٹھا رہی ہے۔ ان کے مطابق بحرین کی فوج اس وقت ملک بھر میں اسپتالوں اور میڈیا پر قابض ہے اور غیر معمولی قانونی پابندیاں نافذ کئے ہوئے ہے۔
ادھر بحرین میں سعودی عرب کی فوجیں بھیجنے کے خلاف سعودی عرب میں ہی مخالفت میں تیزی آ رہی ہے۔ مشرقی صوبے میں شیعہ اکثریتی شہروں قطیف، احساء اور کئی دیگر مقامات پر سیاسی قیدیوں کی رہائی اور بحرین سے فوجیں واپس بلانے کے مطالبے کے حق میں ہونے والے احتجاجوں میں بڑی تعداد میں لوگ شریک ہو رہے ہیں۔
ادھر لیبیا میں امریکہ اور اس کے اتحادی ناٹو ممالک کے ذریعہ کئے جا رہے حملوں کی مدد سے انقلابیوں نے اجدابیہ،بریگہ اور کئی دیگر شہروں پر قبضہ کر لیا ہے۔ تیل کے لئے مشہور شہر راس النوف کئی بار معمر قذافی اور انقلابیوں کے قبضہ میں آ چکا ہے اور وہاںسب سے شدید جنگ جا ری ہے۔ البتہ یہ طے ہے کہ اب معمر قذافی حکومت کے جاری رہنے کے امکانات ختم ہو چکے ہیں۔ ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ ابھی تک لیبیا میں قذافی مخالف رہنمائوں نے امریکہ اور اس کے اتحادی ممالک سے اس احسان کے بدلے میں کوئی خاص وعدہ نہیں کیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ راس لنوف تیل مرکز پر مخالفین کا قبضہ ہونے کے بعد بھی قذافی کے فوجیوں کا پھر سے قبضہ ہونے دیا گیا۔ ورنہ یہ ممکن نہیں ہے کہ اگر زمینی جنگ میں شامل انقلابیوں کو فضائی حمایت مسلسل ملے پھر بھی شہر پر پھر سے قذافی کے فوجی پھر سے قابض ہو سکیں۔
میرا تجزیہ ہے کہ امریکی حکام مصر میں حسنی مبارک مخالف قوتوں کی حمایت کر کے پچھتا رہے ہیں۔ انہیں یہ محسوس ہو گیا ہے کہ خطے کے ممالک میں اٹھنے والی تحریکوں کی کامیابی کے نتیجہ میں ان کے ’’مفادات‘‘ کو نقصان پہنچے گا۔ مصر میں ابھی کوئی جمہوری حکومت قائم نہیں ہوئی ہے پھر بھی وہاں کی عبوری حکومت نے عوام کی مرضی کے مطابق ایرانی فوجی جہازوں کو سوینر نہر سے گزرنے کی اجازت دے کر اور غزہ اور مصر کے درمیان سرحدی چوکی کھول کر یہ واضح اشارہ دیا ہے کہ وہ اب اسرائیل اور امریکہ کی مرضی کے مطابق فیصلے نہیں کریں گے۔ لیبیا کے معمر قذافی 2003سے پہلے تک امریکہ کے شدید مخالف سمجھے جاتے تھے۔قذافی صدام حسین کی حکومت کا تختہ پلٹتے ہی خوفزدہ ہو کر امریکہ پر ایمان لے آئے تھے اور اپنے جوہری پروجیکٹ کا تمام ساز و سامان پانی کے جہاز میں لاد کر امریکہ کے لئے روانہ کر دیا تھا۔ اس کے بعد امریکہ اور اس کے اتحادی ممالک نے لیبیا کے تیل پر ایک طرح سے قبضہ کر لیا۔ لیبیا میں معمر قذافی کے خلاف احتجاجات کے شروع میں امریکہ نے قذافی مظالم پر طویل خاموشی رکھی جس کے نتیجہ میں تقریباً 10ہزار افراد لقمۂ اجل بن گئے۔ اب تک لیبیا کی حکومت سے کم از کم ایک درجن ممالک میں سفراء نے علیحدگی اختیار کر لی ہے۔ حال ہی میں لیبیا کی وزیر خارجہ موسیٰ کو سانے برطانیہ میں پناہ لی ہے۔ حالات روزبروز خراب ہو رہے ہیں۔ اکثر شہر مخالفین کے زیر کنٹرول ہیں اور کئی شہروں میں دونوں طرف سے جنگ جاری ہے لیکن اب بھی مخالفین کو پوری طرح مغربی حمایت نہیں مل رہی ۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو تیل سے مالامال شہر راس النوف دوبارہ حکومت کے فوجیوں کے قبضہ میں نہیں جاتا۔
یمن میں فوج کے کئی بڑے حکام اور قبائلی رہنمائوں نے علی عبد اللہ صالح کی حکومت سے علیحدگی اختیار کر کے انقلابیوں کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔ امریکہ کا اتحادی سعودی عرب یمن کی حکومت بچانے کے لئے عوام مخالف کارروائیوں کی حمایت کر رہا ہے۔ میرا تجزیہ ہے کہ بحرین اور یمن میں امریکہ کی خاموشی کی وجہ سے انقلاب کی کامیابی سے پہلے بڑی تعداد میں لوگ مارے جائیں گے۔ ان ممالک میں عوامی کامیابی کے بعد سعودی عرب اور دیگر عرب ممالک میں بھی انقلاب پھیلے گا۔
) بشکریہ چوتھی دنیا ) (مضمون نگار میڈیا اسٹارنیوز اینڈ فیچرس کے چیف ایڈیٹر ہیں)
شمالی افریقہ اور مشرقی وسطیٰ میں حالات بدستور کشیدہ ہیں۔ تیونیشیا اور مصر میں عوامی انقلاب کی کامیابی کے بعد لیبیا ،بحرین، یمن، اومان، اردن اور کسی حد تک سعودی عرب میں عوام حکمرانوں کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔ عوامی بیداری کے نتیجہ میں سب سے زیادہ متاثر ہونے والے حکمرانوں اور ان کے سیاسی آقاؤں امریکہ اور اسرائیل کی کوشش ہے کہ حکومتوں کی تبدیلی کا عمل ان ممالک میں کامیاب ہو جہاں وہ چاہتے ہیں یا جہاں کے حالات اب قابو سے باہر ہو چلے ہیں۔ لیبیا میں امریکہ اور اس کے اتحادی ناٹو ممالک نے معمر قذافی حکومت کے خلاف بمباری جاری رکھی ہوئی ہے جبکہ بحرین اور یمن میں عوامی انقلابات کو دبانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ بحرین اور یمن میں امریکہ اور اسرائیل کی اس خواہش کو پورا کرنے میں سعودی عرب تعاون دے رہا ہے۔ بحرین میں سعودی افواج براہ راست عوامی انقلاب کچلنے میں الخلیفہ حکومت کا ساتھ دے رہی ہیں جبکہ یمن میں سعودی خفیہ ایجنسیاں اور ماہرین علی عبد اللہ صالح حکومت کو بچانے کی جی توڑ کوششیں کر رہے ہیں۔
لندن سے شائع ہونے والے اخبار ٹیلی گراف نے امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان ہوئے ایک حالیہ سمجھوتے کا انکشاف کیا ہے جس کے تحت وہ لیبیا اور بحرین میں عوامی قتل عام میں ایک دوسرے کا تعاون کر رہے ہیں۔ اس کے تحت سعودی عرب لیبیا میں امریکہ اور اس کے اتحادی ممالک کے ذریعہ کئے جا رہے حملوں کی حمایت کرے گا۔اس کے بدلے میں امریکہ اور اس کے اتحادی ممالک بحرین میں الخلیفہ حکومت اور خلیجی تعاون کونسل اراکین کے ذریعہ عوامی انقلاب کو کچلنے کی کارروائیوں پر خاموش رہیں گے۔ اخبار نے سعودی حکام کے ذرائع سے لکھا ہے کہ انھوں نے مغربی ممالک کی لیبیا پر کی جا رہی کارروائی کی حمایت اس شرط پر کی ہے کہ وہ بحرین حکومت کے ذریعہ عوامی اطلاعات کے مطابق کویت میں بھی تین وزراء کے خلاف بدعنوانی کے الزامات کے نتیجہ میں سیاسی بحران پیدا ہو گیا ہے اور حکومت کو استعفیٰ دیناپڑا ہے۔
میں نے اس خطہ میں اکثر ممالک کے ایک سے زیادہ سفر کئے ہیں۔ عوام کے جذبات کو نزدیک سے سمجھنے کا موقع ملا ہے۔ عراق اور افغانستان میں امریکی جارحیت، اسی کی حمایت کے نتیجہ میں اسرائیلی مظالم کے جاری رہنے اور ان تمام واقعات سے پر اپنی حکومتوں کی خاموش حمایت کی وجہ سے عوام میں بے حد غصہ ہے۔ شمالی افریقہ اور اکثر عرب حکومتوں نے اپنے قومی مسائل کو امریکہ اور ان کے اتحادیوں کے دربار میں گروی رکھا ہوا ہے۔وہ اپنی شرائط پر ان ممالک کے قدرتی وسائل کا استحصال کرتے ہیں۔عوام کو غریب اور جاہل سازشی طور پر رکھا گیا ہے۔ یہ ممالک مغربی اشیاء کے لئے محض بازار بن کر رہ گئے ہیں۔ ان ممالک میں جو تعلیم یافتہ طبقے کے لوگ ہوتے ہیں انہیں خطے میں کشیدگی پھیلا کر اپنے ممالک میں پناہ لینے پر مجبور کیا جاتا ہے۔ یعنی ان ممالک کے قدرتی اور انسانی وسائل کا مغربی ممالک پوری طرح سے استحصال کرتے ہیں۔
بہرحال اب اکثر ممالک میں اپنے حقوق کے تئیں بیداری پیدا ہو رہی ہے۔ انقلاب کی اس چنگاری کو ختم کرنا فی الحال نا ممکن نظر آ رہا ہے۔ صرف فرق یہ ہے کہ جن ممالک میں بھی امریکہ کو تبدیلی اپنے حق میں نظر آ رہی ہے وہاں مخالفین کی حمایت کی جا رہی ہے۔ جہاں مغربی ممالک انقلابیوں کی مدد نہیں کر رہے وہاں انسانی اور مالی نقصان زیادہ ہوگا۔ آخر کار ظالم اور سازشی طاقتوں کو ناکام ہونا ہے اور عوام کو ان کے حقوق مل کر رہیں گے۔ انقلاب کے خلاف کی جا رہی کارروائیوں پر خاموش رہے سعودی عرب نے بحرین میں حکومت مخالف احتجاجیوں کو کچلنے کے لئے 1000مسلح فوجی بھیجے ہوئے ہیں جبکہ کویت ، اومان اور متحدہ عرب امارات نے بھی بحرین کو فوجی امداد دی ہوئی ہے۔ لیبیا پر امریکہ اور اس کے اتحادی یوروپی ممالک فضائی پابندیاں عائد کرنے کے لئے 350جنگی جہازوں سے حملے کر رہے ہیں۔ لیبیا کی معمر قذافی حکومت نے ان ممالک پر شہریوں کے خلاف حملوں کا الزام لگایا ہے۔ حالانکہ امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے ذریعہ شروع کئے گئے ہوائی حملوں سے پہلے قذافی حکومت نے کم از کم 10ہزار شہریوں کا قتل کیا ہے۔ بین الاقوامی سیاسی ماہرین کا کہنا ہے کہ لیبیا پر ہوائی حملوں کے پیچھے امریکہ کا مقصد وہاں کے تیل ذخائر پر قبضہ کرنا ہے۔
بحرین میں14فروری کو شروع ہوئے الخلیفہ حکومت کے خلاف احتجاجوں میں اب تک درجنوں افراد قتل کئے جا چکے ہیں جبکہ سینکڑوں زخمی اور لاپتہ ہیں۔ جب سے سعودی اور دیگر عرب ممالک کی افواج بحرین پہنچی ہیں تب سے تمام گائوں اور قصبوں تک میں مخالفین کو ایک ایک کر کے زد و کوب کیا جا رہا ہے۔ بحرین میں سب سے بڑی شیعہ جماعت الوفاق کے پاس 112ایسے افراد کی فہرست موجود ہے جو سیکورٹی دستوں کے ہاتھوں غائب ہوئے ہیں اور ان کا شمار مارے جانے والوں یا زخمیوں میں نہیں کیا گیا ہے۔ ان کے علاوہ تقریباً 100افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔
بحرین میں امریکہ کا پانچواں فوجی بیڑا موجود ہے جو کہ اس خطے میں امریکہ کے تمام عزائم کو پورا کرنے میں مدد فراہم کرتا ہے۔ حال ہی میں واشنگٹن میں واقع خلیجی امور کے ادارہ کے سربراہ علی احمد نے ایک ٹیلی ویژن انٹر ویو کے دوران اعتراف کیا تھا کہ اگر بحرین میں عوامی انقلاب کامیاب ہوا تو امریکہ کو یہ فوجی مرکز چھوڑنا پڑے گا کیونکہ اس نے الخلیفہ حکومت کی حمایت کی ہے۔
اس وقت حال یہ ہے کہ بحرین حکومت نے احتجاج کو دبانے کے لئے فوجی طیارے تیار رکھے ہیں۔ جمعہ کو تمام پابندیوں کے باوجود عوام کئی مقامات پر بڑے احتجاج منعقد کر رہے ہیں۔ البتہ منا ما کے پرل اسکوائر پر حکومت نے فوج اور پولس تعینات کی ہوئی ہے تاکہ یہاں مخالفین اکھٹے نہ ہو سکیں۔ لندن میں مقیم بحرین فریڈیم مومنٹ کے رہنماسعیدشہابی نے حال ہی میں کہا تھا کہ اس وقت بحرین میں فوجی حکومت ہے جو احتجاجیوں کو کچلنے کے لئے ہر ممکنہ قدم اٹھا رہی ہے۔ ان کے مطابق بحرین کی فوج اس وقت ملک بھر میں اسپتالوں اور میڈیا پر قابض ہے اور غیر معمولی قانونی پابندیاں نافذ کئے ہوئے ہے۔
ادھر بحرین میں سعودی عرب کی فوجیں بھیجنے کے خلاف سعودی عرب میں ہی مخالفت میں تیزی آ رہی ہے۔ مشرقی صوبے میں شیعہ اکثریتی شہروں قطیف، احساء اور کئی دیگر مقامات پر سیاسی قیدیوں کی رہائی اور بحرین سے فوجیں واپس بلانے کے مطالبے کے حق میں ہونے والے احتجاجوں میں بڑی تعداد میں لوگ شریک ہو رہے ہیں۔
ادھر لیبیا میں امریکہ اور اس کے اتحادی ناٹو ممالک کے ذریعہ کئے جا رہے حملوں کی مدد سے انقلابیوں نے اجدابیہ،بریگہ اور کئی دیگر شہروں پر قبضہ کر لیا ہے۔ تیل کے لئے مشہور شہر راس النوف کئی بار معمر قذافی اور انقلابیوں کے قبضہ میں آ چکا ہے اور وہاںسب سے شدید جنگ جا ری ہے۔ البتہ یہ طے ہے کہ اب معمر قذافی حکومت کے جاری رہنے کے امکانات ختم ہو چکے ہیں۔ ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ ابھی تک لیبیا میں قذافی مخالف رہنمائوں نے امریکہ اور اس کے اتحادی ممالک سے اس احسان کے بدلے میں کوئی خاص وعدہ نہیں کیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ راس لنوف تیل مرکز پر مخالفین کا قبضہ ہونے کے بعد بھی قذافی کے فوجیوں کا پھر سے قبضہ ہونے دیا گیا۔ ورنہ یہ ممکن نہیں ہے کہ اگر زمینی جنگ میں شامل انقلابیوں کو فضائی حمایت مسلسل ملے پھر بھی شہر پر پھر سے قذافی کے فوجی پھر سے قابض ہو سکیں۔
میرا تجزیہ ہے کہ امریکی حکام مصر میں حسنی مبارک مخالف قوتوں کی حمایت کر کے پچھتا رہے ہیں۔ انہیں یہ محسوس ہو گیا ہے کہ خطے کے ممالک میں اٹھنے والی تحریکوں کی کامیابی کے نتیجہ میں ان کے ’’مفادات‘‘ کو نقصان پہنچے گا۔ مصر میں ابھی کوئی جمہوری حکومت قائم نہیں ہوئی ہے پھر بھی وہاں کی عبوری حکومت نے عوام کی مرضی کے مطابق ایرانی فوجی جہازوں کو سوینر نہر سے گزرنے کی اجازت دے کر اور غزہ اور مصر کے درمیان سرحدی چوکی کھول کر یہ واضح اشارہ دیا ہے کہ وہ اب اسرائیل اور امریکہ کی مرضی کے مطابق فیصلے نہیں کریں گے۔ لیبیا کے معمر قذافی 2003سے پہلے تک امریکہ کے شدید مخالف سمجھے جاتے تھے۔قذافی صدام حسین کی حکومت کا تختہ پلٹتے ہی خوفزدہ ہو کر امریکہ پر ایمان لے آئے تھے اور اپنے جوہری پروجیکٹ کا تمام ساز و سامان پانی کے جہاز میں لاد کر امریکہ کے لئے روانہ کر دیا تھا۔ اس کے بعد امریکہ اور اس کے اتحادی ممالک نے لیبیا کے تیل پر ایک طرح سے قبضہ کر لیا۔ لیبیا میں معمر قذافی کے خلاف احتجاجات کے شروع میں امریکہ نے قذافی مظالم پر طویل خاموشی رکھی جس کے نتیجہ میں تقریباً 10ہزار افراد لقمۂ اجل بن گئے۔ اب تک لیبیا کی حکومت سے کم از کم ایک درجن ممالک میں سفراء نے علیحدگی اختیار کر لی ہے۔ حال ہی میں لیبیا کی وزیر خارجہ موسیٰ کو سانے برطانیہ میں پناہ لی ہے۔ حالات روزبروز خراب ہو رہے ہیں۔ اکثر شہر مخالفین کے زیر کنٹرول ہیں اور کئی شہروں میں دونوں طرف سے جنگ جاری ہے لیکن اب بھی مخالفین کو پوری طرح مغربی حمایت نہیں مل رہی ۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو تیل سے مالامال شہر راس النوف دوبارہ حکومت کے فوجیوں کے قبضہ میں نہیں جاتا۔
یمن میں فوج کے کئی بڑے حکام اور قبائلی رہنمائوں نے علی عبد اللہ صالح کی حکومت سے علیحدگی اختیار کر کے انقلابیوں کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔ امریکہ کا اتحادی سعودی عرب یمن کی حکومت بچانے کے لئے عوام مخالف کارروائیوں کی حمایت کر رہا ہے۔ میرا تجزیہ ہے کہ بحرین اور یمن میں امریکہ کی خاموشی کی وجہ سے انقلاب کی کامیابی سے پہلے بڑی تعداد میں لوگ مارے جائیں گے۔ ان ممالک میں عوامی کامیابی کے بعد سعودی عرب اور دیگر عرب ممالک میں بھی انقلاب پھیلے گا۔
) بشکریہ چوتھی دنیا ) (مضمون نگار میڈیا اسٹارنیوز اینڈ فیچرس کے چیف ایڈیٹر ہیں)
गुरुवार, 14 अप्रैल 2011
बुधवार, 13 अप्रैल 2011
بیت المقدس …کسی ایوبی کے انتظار میں

آج جس فلسطین کے لئے خیر وشر اور حق و باطل کی قوتیں باہم ستیزہ کار ہیں،یہ کوئی نئی بات نہیں ہے اس مقدس شہر کی تاریخ ایسی ہنگامہ آرائی اور معرکہ خیزیوں سے بھری پڑی ہے جس میں تین آسمانی مذاہب کے مقدس مقامات و آثار پائے جاتے ہیں۔ اسی متبرک سرزمین کی با بت اس کے صحیح حقداروں اور اس کے جھوٹے دعویداروں کے درمیان ایک مستقل آویزش اور کشمکش چل رہی ہے۔ طاغوتی قوتیں شب و روز اسے نقصان پہنچانے پر تلی ہوئی ہیں۔ انہوں نے اسرائیل کو اپنا آلۂ کار بنا کراسلام کی مقدس ترین مسجد ’’مسجد اقصیٰ ‘‘ کو نذر آتش کیا۔ جس کا مقصد سوائے اس کے اور کچھ نہیں ہے کہ بتد ریج اس مقدس سرزمین سے اسلام اور مسلمانوں کا نام و نشان مٹادیا جائے۔ اس مقدس سرزمین کا تعارف بیان کرتے ہوئے فاتح اعظم سلطان صلاح الدین ایوبی ‘‘ اپنے سپاہیوں سے کہتے ہیں :’’ اے میرے رفیقو!16ہجری کا ربیع الاول یادکرو جب عمر و بن العاص اور ان کے ساتھیوں نے بیت المقدس کو کفار سے آزاد کرایا تھا۔ حضرت عمر ? اس وقت خلیفہ تھے ، وہ بیت المقدس گئے۔حضرت بلال ? ان کے ساتھ تھے۔ حضرت بلال ? رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد ایسے خاموش ہوئے تھے کہ لوگ ان کی پر سوز آواز کو ترس گئے ، انہوں نے اذان دینی چھوڑدی تھی۔ لیکن مسجد اقصیٰ میں آکر حضرت عمر ? نے انہیں کہا کہ بلا ل! مسجد اقصیٰ اور بیت المقدس کے درودیوار نے بڑی لمبی مدت سے اذان نہیں سنی۔ آزادی کی پہلی اذان تم نہ دو گے ؟‘‘
حضور اکرم ? کی وفات کے بعد پہلی با حضرت بلا ل ? نے اذان دی ، اور جب انہوں نے کہا کہ اشھد ان محمد رسول اللہ۔تو مسجد اقصیٰ میں سب کی دھا ڑیں نکل گئی تھیں۔ ہمارے دور میں ایک بار پھر مسجد اقصیٰ اذان کو ترس رہی ہے۔ 90برسوں سے اس عظیم مسجد کے دوردیوار کسی مؤذن کی راہ دیکھ رہے ہیں۔یاد رکھو۔مسجد اقصیٰ کی اذانیں ساری دنیا میں سنائی دیتی ہیں۔ صلیبی ان اذانوں کو گلا گھونٹ رہے ہیں ، اس عظیم مقصد کو سامنے رکھو۔ ہم کوئی عام سی جنگ لڑنے نہیں جارہے ہیں ،ہم اپنے خون سے تاریخ کا وہ باب پھرلکھنے جارہے ہیں جو عمروبن العاص ? اور ان کے ساتھیوں نے لکھا تھا اور ان کے بعد آنے والوں نے اس درخشاں باب پر سیاہی پھیر دی تھی۔ اگر چاہتے ہوکہ خدا کے حضور ماتھوں پرروشنی لے کر جاؤ ،اور اگر چاہتے ہو کہ آنے والی نسلیں تمہاری قبروں پر آکر پھول چڑھا یا کریں تو تمہیں بیت المقدس میں یہ منبر رکھنا ہوگا جو بیس سال گزرے نورالدین زنگی ? و مغفور نے وہاں رکھنے کے لئے بنوایا تھا۔‘‘ بیت المقدس آج بھی ایک بہترین یا دگار کے طور پر موجود ہے۔قرون اولیٰ میں بھی وہ ایک قدیم شہر تھا۔ یہاں حضرت دادؤ علیہ السلام کی محراب اور حضرت سلیمان علیہ السلام کا تخت تھا ، اور اس میں وہ عظیم مسجد بھی تھی جس کا ذکر قرآن مقدس کے اندر موجود ہے اور جس میںامام الا نبیا ئ صلی اللہ علیہ وسلم اس رات کو تشریف لے گئے جس رات کو معراج ہوئی تھی۔ اسی مسجد کانام مسجد اقصیٰ (بیت المقدس ) ہے۔ جہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمام پیغمبروں کی امامت فرمائی۔اللہ رب العزت قرآن کریم میں اس واقعہ کو اس طرح بیان فرماتا ہے کہ :’’ پاکی ہے اسے جو اپنے بندے کوراتوں رات لے گیا، مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ تک ‘‘ آج اسی بیت المقدس پر یہودی قابض ہیں، مسجد اقصیٰ کے دروازے مسلمانوں کے لئے بند ہیں۔ محراب و منبر کی بے حرمتی ہورہی ہے۔ مسجد عمر فاروق ? کے بلند و بالا مینار ان کی آواز کو ترس رہے ہیں۔مقامات مقدسہ کا احترام ختم ہو چکا ہے ہے۔ بیت المقدس کے صحن میں ظالم یہودی خون خرابہ کررہے ہیں۔مسلمانوں کے قبلہ اول میںداخل ہونے والے مسلمانوں کو گولیوں سے چھلنی کیا جا رہاہے۔ اور آج فلسطین ،بیت المقدس کے دوردیوار ایک نئے صلاح الدین ایوبی‘‘ کا انتظار کررہے ہیں۔ بیت المقدس کو یہودیوں کے ناپاک تسلط سے رہا کرنے کے لئے حضرت خالد بن ولید ? نے سب سے پہلی جنگ کی تھی ،یہ جنگ آج بھی جاری ہے اور اس وقت تک جاری رہے گی جب تک دنیا سے ظلم و ستم اور بے انصافی کا خاتمہ نہ ہوجائے گا۔ الحاد اور بے دینی ختم نہ ہوجائے گی۔ اور طاغوتی طاقتیں اپنی شکست نہ تسلیم نہ کرلیں گی۔ آخر فلسطینیوںکا صبر و تحمل ، ایثار و قربانی رنگ لایا اور فلسطین کی سرزمین سے ناپاک یہودی بستیوں کا اجاڑ اور یہودیوں کا انخلا ئ شروع ہو گیا ہے۔ فلسطینیوں کی جس زمین پر یہودی اپنا پیدائشی دعویٰ سمجھتے تھے اب اس زمین سے خود اسرائیل کی فوجییںہی انہیں نکال رہی ہیں۔ اسرائیل نے 1961میں غز ہ کی پٹی پر قبضہ کیا تھا۔ اب وہاں جو حالات ہیں اس کا کوئی تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔ 140کلو میڑ کے اس چھوٹے سے علاقے میں نو ہزار یہودی 21بستیوں میں آباد تھے۔ یہ یہودی بستیاں 13فلسطینیوں کے گنجان آباد علاقوں میںگھری ہوئی ہیں۔ وہ فلسطین جس کا ذکر قرآن مقدس میں موجود ہے۔وہاں سے یہودیوں کے انخلائ سے پہلے امریکی و برطانوی صدر نے کہا تھا کہ فلسطین یہودیوں ہی کا علاقہ وہاںسے انہیں نکالا نہیںجانا چاہئے ، یہ بیان بالکل ایسے ہی ہیں کہ جب 27اگست 189 ئکو سوئز لینڈ کے شہر سبیل میں یہودیوں کا پہلا اجلاس ہوا ؛۔ جس میںمختلف ممالک کے یہودیوں نے شرکت کی۔اس کانفرنس میں طے کیا گیا کہ فلسطین کو یہود کا قومی وطن بنایاجائے ،یہ تحریک ناکام ہوگئی۔ 1902میں ڈاکٹر تھیورڈ ور ہزل کا انتقال ہوا ،اپنی وفات سے قبل وہ ’’یہود نو آبادتی بینک ‘‘ اور یہودی بیت المال قائم کرگیا۔ان اداروں نے بعد میں یہود کے لئے فلسطین میں زمین کی خریداری اورنوآبادیوں کی تعمیر میںا ہم رول ادا کیا اور سالانہ خرچ دیا کرتے ہیں۔ یہودیوں کی صیہونیت اور عیسا ئیوں کی صلیبیت یا امریکہ کی سی آئی اے اور اسرائیل کی موساد کے درمیان ایک عملی یا خاموش معاہدہ ہے کہ اپنے تاریخی اختلافات سے قطع نظر کرتے ہوئے اور ملکی مفادات کو ایک حد تک نظر انداز کرتے ہوئے ہمیں اس وقت صر ف اور صرف عالم اسلام کو نشانہ بنانا ہے۔قرآن کو مشق ستم بناناہے۔ مسلمانوں کو خائف اور مرعوب کرنا ہے۔ افغانوں کی غیرت ملی کو کچلنا ہے ،عراقیوں کی حمیت قومی کوخاک میںملانا ہے۔ فلسطینیوں کو یہود سے لڑا کر فلسطین کویہودیوں کے حوالے کرنا ہے۔عربوں کی توہین و تذلیل کرنی ہے اور جس طرح بھی ہوسکے سارے عالم اسلام کو سرنگوں کر کے شوکت اسلام کا جنازہ نکال دینا ہے۔ کبھی آپ نے یہ سوچا کہ آخر غزہ پٹی سے یہودیوں کا انخلاکیوں ہورہا ہے ؟ اس کاجواب اس کے علاوہ کچھ اورنہیں ہو سکتا ہے کہ اسرائیل و امریکہ نے کوئی چال چلی ہوگی کہ اس انخلا کے بعد فلسطینیوں کو آرام سے ان کے علاقوں سے نکالا جا سکتاہے۔ اپنے ساتھیوں کو نکال دینے کے بعد وہاں سے ان کا صفایا ہوجائے گا جس سے اگر ہم ان سے لڑیں تو اپنے ساتھیوں کی بستیاں اور یہودیوں پر کوئی آنچ نہ آئے۔اس انخلا کے پیچھے کیا چھپا ہے اور اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ امن یادہشت گرد ی۔ بیت المقدس …کسی ایوبی کے انتظار میں

آج جس فلسطین کے لئے خیر وشر اور حق و باطل کی قوتیں باہم ستیزہ کار ہیں،یہ کوئی نئی بات نہیں ہے اس مقدس شہر کی تاریخ ایسی ہنگامہ آرائی اور معرکہ خیزیوں سے بھری پڑی ہے جس میں تین آسمانی مذاہب کے مقدس مقامات و آثار پائے جاتے ہیں۔ اسی متبرک سرزمین کی با بت اس کے صحیح حقداروں اور اس کے جھوٹے دعویداروں کے درمیان ایک مستقل آویزش اور کشمکش چل رہی ہے۔ طاغوتی قوتیں شب و روز اسے نقصان پہنچانے پر تلی ہوئی ہیں۔ انہوں نے اسرائیل کو اپنا آلۂ کار بنا کراسلام کی مقدس ترین مسجد ’’مسجد اقصیٰ ‘‘ کو نذر آتش کیا۔ جس کا مقصد سوائے اس کے اور کچھ نہیں ہے کہ بتد ریج اس مقدس سرزمین سے اسلام اور مسلمانوں کا نام و نشان مٹادیا جائے۔ اس مقدس سرزمین کا تعارف بیان کرتے ہوئے فاتح اعظم سلطان صلاح الدین ایوبی ‘‘ اپنے سپاہیوں سے کہتے ہیں :’’ اے میرے رفیقو!16ہجری کا ربیع الاول یادکرو جب عمر و بن العاص اور ان کے ساتھیوں نے بیت المقدس کو کفار سے آزاد کرایا تھا۔ حضرت عمر ? اس وقت خلیفہ تھے ، وہ بیت المقدس گئے۔حضرت بلال ? ان کے ساتھ تھے۔ حضرت بلال ? رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد ایسے خاموش ہوئے تھے کہ لوگ ان کی پر سوز آواز کو ترس گئے ، انہوں نے اذان دینی چھوڑدی تھی۔ لیکن مسجد اقصیٰ میں آکر حضرت عمر ? نے انہیں کہا کہ بلا ل! مسجد اقصیٰ اور بیت المقدس کے درودیوار نے بڑی لمبی مدت سے اذان نہیں سنی۔ آزادی کی پہلی اذان تم نہ دو گے ؟‘‘ حضور اکرم ? کی وفات کے بعد پہلی با حضرت بلا ل ? نے اذان دی ، اور جب انہوں نے کہا کہ اشھد ان محمد رسول اللہ۔تو مسجد اقصیٰ میں سب کی دھا ڑیں نکل گئی تھیں۔ ہمارے دور میں ایک بار پھر مسجد اقصیٰ اذان کو ترس رہی ہے۔ 90برسوں سے اس عظیم مسجد کے دوردیوار کسی مؤذن کی راہ دیکھ رہے ہیں۔یاد رکھو۔مسجد اقصیٰ کی اذانیں ساری دنیا میں سنائی دیتی ہیں۔ صلیبی ان اذانوں کو گلا گھونٹ رہے ہیں ، اس عظیم مقصد کو سامنے رکھو۔ ہم کوئی عام سی جنگ لڑنے نہیں جارہے ہیں ،ہم اپنے خون سے تاریخ کا وہ باب پھرلکھنے جارہے ہیں جو عمروبن العاص ? اور ان کے ساتھیوں نے لکھا تھا اور ان کے بعد آنے والوں نے اس درخشاں باب پر سیاہی پھیر دی تھی۔ اگر چاہتے ہوکہ خدا کے حضور ماتھوں پرروشنی لے کر جاؤ ،اور اگر چاہتے ہو کہ آنے والی نسلیں تمہاری قبروں پر آکر پھول چڑھا یا کریں تو تمہیں بیت المقدس میں یہ منبر رکھنا ہوگا جو بیس سال گزرے نورالدین زنگی ? و مغفور نے وہاں رکھنے کے لئے بنوایا تھا۔‘‘ بیت المقدس آج بھی ایک بہترین یا دگار کے طور پر موجود ہے۔قرون اولیٰ میں بھی وہ ایک قدیم شہر تھا۔ یہاں حضرت دادؤ علیہ السلام کی محراب اور حضرت سلیمان علیہ السلام کا تخت تھا ، اور اس میں وہ عظیم مسجد بھی تھی جس کا ذکر قرآن مقدس کے اندر موجود ہے اور جس میںامام الا نبیا ئ صلی اللہ علیہ وسلم اس رات کو تشریف لے گئے جس رات کو معراج ہوئی تھی۔ اسی مسجد کانام مسجد اقصیٰ (بیت المقدس ) ہے۔ جہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمام پیغمبروں کی امامت فرمائی۔اللہ رب العزت قرآن کریم میں اس واقعہ کو اس طرح بیان فرماتا ہے کہ :’’ پاکی ہے اسے جو اپنے بندے کوراتوں رات لے گیا، مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ تک ‘‘ آج اسی بیت المقدس پر یہودی قابض ہیں، مسجد اقصیٰ کے دروازے مسلمانوں کے لئے بند ہیں۔ محراب و منبر کی بے حرمتی ہورہی ہے۔ مسجد عمر فاروق ? کے بلند و بالا مینار ان کی آواز کو ترس رہے ہیں۔مقامات مقدسہ کا احترام ختم ہو چکا ہے ہے۔ بیت المقدس کے صحن میں ظالم یہودی خون خرابہ کررہے ہیں۔مسلمانوں کے قبلہ اول میںداخل ہونے والے مسلمانوں کو گولیوں سے چھلنی کیا جا رہاہے۔ اور آج فلسطین ،بیت المقدس کے دوردیوار ایک نئے صلاح الدین ایوبی‘‘ کا انتظار کررہے ہیں۔ بیت المقدس کو یہودیوں کے ناپاک تسلط سے رہا کرنے کے لئے حضرت خالد بن ولید ? نے سب سے پہلی جنگ کی تھی ،یہ جنگ آج بھی جاری ہے اور اس وقت تک جاری رہے گی جب تک دنیا سے ظلم و ستم اور بے انصافی کا خاتمہ نہ ہوجائے گا۔ الحاد اور بے دینی ختم نہ ہوجائے گی۔ اور طاغوتی طاقتیں اپنی شکست نہ تسلیم نہ کرلیں گی۔ آخر فلسطینیوںکا صبر و تحمل ، ایثار و قربانی رنگ لایا اور فلسطین کی سرزمین سے ناپاک یہودی بستیوں کا اجاڑ اور یہودیوں کا انخلا ئ شروع ہو گیا ہے۔ فلسطینیوں کی جس زمین پر یہودی اپنا پیدائشی دعویٰ سمجھتے تھے اب اس زمین سے خود اسرائیل کی فوجییںہی انہیں نکال رہی ہیں۔ اسرائیل نے 1961میں غز ہ کی پٹی پر قبضہ کیا تھا۔ اب وہاں جو حالات ہیں اس کا کوئی تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔ 140کلو میڑ کے اس چھوٹے سے علاقے میں نو ہزار یہودی 21بستیوں میں آباد تھے۔ یہ یہودی بستیاں 13فلسطینیوں کے گنجان آباد علاقوں میںگھری ہوئی ہیں۔ وہ فلسطین جس کا ذکر قرآن مقدس میں موجود ہے۔وہاں سے یہودیوں کے انخلائ سے پہلے امریکی و برطانوی صدر نے کہا تھا کہ فلسطین یہودیوں ہی کا علاقہ وہاںسے انہیں نکالا نہیںجانا چاہئے ، یہ بیان بالکل ایسے ہی ہیں کہ جب 27اگست 189 ئکو سوئز لینڈ کے شہر سبیل میں یہودیوں کا پہلا اجلاس ہوا ؛۔ جس میںمختلف ممالک کے یہودیوں نے شرکت کی۔اس کانفرنس میں طے کیا گیا کہ فلسطین کو یہود کا قومی وطن بنایاجائے ،یہ تحریک ناکام ہوگئی۔ 1902میں ڈاکٹر تھیورڈ ور ہزل کا انتقال ہوا ،اپنی وفات سے قبل وہ ’’یہود نو آبادتی بینک ‘‘ اور یہودی بیت المال قائم کرگیا۔ان اداروں نے بعد میں یہود کے لئے فلسطین میں زمین کی خریداری اورنوآبادیوں کی تعمیر میںا ہم رول ادا کیا اور سالانہ خرچ دیا کرتے ہیں۔ یہودیوں کی صیہونیت اور عیسا ئیوں کی صلیبیت یا امریکہ کی سی آئی اے اور اسرائیل کی موساد کے درمیان ایک عملی یا خاموش معاہدہ ہے کہ اپنے تاریخی اختلافات سے قطع نظر کرتے ہوئے اور ملکی مفادات کو ایک حد تک نظر انداز کرتے ہوئے ہمیں اس وقت صر ف اور صرف عالم اسلام کو نشانہ بنانا ہے۔قرآن کو مشق ستم بناناہے۔ مسلمانوں کو خائف اور مرعوب کرنا ہے۔ افغانوں کی غیرت ملی کو کچلنا ہے ،عراقیوں کی حمیت قومی کوخاک میںملانا ہے۔ فلسطینیوں کو یہود سے لڑا کر فلسطین کویہودیوں کے حوالے کرنا ہے۔عربوں کی توہین و تذلیل کرنی ہے اور جس طرح بھی ہوسکے سارے عالم اسلام کو سرنگوں کر کے شوکت اسلام کا جنازہ نکال دینا ہے۔ کبھی آپ نے یہ سوچا کہ آخر غزہ پٹی سے یہودیوں کا انخلاکیوں ہورہا ہے ؟ اس کاجواب اس کے علاوہ کچھ اورنہیں ہو سکتا ہے کہ اسرائیل و امریکہ نے کوئی چال چلی ہوگی کہ اس انخلا کے بعد فلسطینیوں کو آرام سے ان کے علاقوں سے نکالا جا سکتاہے۔ اپنے ساتھیوں کو نکال دینے کے بعد وہاں سے ان کا صفایا ہوجائے گا جس سے اگر ہم ان سے لڑیں تو اپنے ساتھیوں کی بستیاں اور یہودیوں پر کوئی آنچ نہ آئے۔اس انخلا کے پیچھے کیا چھپا ہے اور اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ امن یادہشت گرد ی۔
सदस्यता लें
संदेश (Atom)

