نئے سعودی قانون کے چلتےسعودی شہریوں کیلئے غیر ملکی خواتین سے شادی کرنا ہوا مشکل
ہماری دوشیزائوں کو غیر ملکی عیاشوں سے بچانے کیلئے کب بنے گا قانون؟
شادیوں کو لیکرآج کل کے نوجوان کافی حساس ہوچکے ہیں۔ وہ جب تک اپنے پیروں پر کھڑے نہیں ہوتے‘تب تک شادی کے بارے میں سوچتے بھی نہیں۔ اور مقابلہ آرائی کے اس دور میں اپنے پیروں پرکھڑا رہنا بھی کوئی آسان کام نہیں۔ اب ’سیٹ ‘ ہونے کیلئے جوانی کا کافی بڑا حصہ خرچ ہونے لگا ہے اسلئے نوجوانوں میں عموماً شادیاں بھی دیر سے ہونے لگی ہے۔ سچ کہیں تو اب زیادہ تر شادیاں ’نوجوانی‘ نہیں نہیں بلکہ جوانی میں ہورہی ہے کیونکہ اپنے پیروں پرکھڑے رہتے رہتے عمر کے ۲۸؍ سے ۳۰؍ سال نکل جاتے ہیں۔ اسکے علاوہ لڑکیوں کی شادیاں بھی ’جہیز ‘ کی لعنت کے چلتے دیر سے ہورہی ہیں۔ ہمارے ہندوستان میں جہاں لڑکیوں سے جہیز لیا جاتا ہے اسکے برعکس سعودی میں شادی کیلئے لڑکوں کو ایک کثیر رقم لڑکی کے ماں باپ کو دینی ہوتی ہے۔ ان دونوں ہی معاملات میں نوجوانوں کا نقصان ہورہا ہے اور ان کی شادیاں جہاں تاخیر سے ہورہی ہیں وہیں ان کی ’گولڈن ایج‘ کے کئی سال یونہی برباد ہورہے ہیں۔
اسلئے سعودی عرب میں بیرون ملک سے لڑکی بیاہ کر لانے کا چلن کافی بڑھ گیا تھا۔ اس سلسلے میں سعودی کے شہریوں کی پہلی پسند ہندوستان تھی جہاں کی لڑکیاں وفاداری کے معاملے میں ساری دنیا میں مشہور ہیں۔ اسلئے ہندوستان میں سعودی عرب کے کئی شہری آکر یہاں کی لڑکیوں سے شادیاں رچا لیتے تھے۔ سعودی کے باشندوں کیلئے یہاں پر شادی کرنا اسلئے بھی بیحد آسان اور سستا تھا کیونکہ یہاںپر کئی گھرانوں میں لڑکیوں کو جہیز کی لعنت کی وجہ سے بوجھ سمجھا جاتا ہے اور ان سے جلد از جلد چھٹکارہ پانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ ایسے میں کوئی غیر ملکی شخص بغیر کسی جہیز کے لڑکی سے شادی کیلئے تیار ہو‘ بلکہ کئی بار تو کچھ پیسے بھی لڑکی والوں کو دینے کیلئے تیارہو تو پھر ایسی ’آفر‘کو کون ٹھکرائے؟ اسلئے یہاںپر آکر شادی رچانے والے بھی کثیر تعداد میں موجود تھے اور شادیوں کیلئے لڑکیاں بھی بکثرت مل جاتی تھیں۔ حیدرآباد شہر تو اس معاملے میں سارے ہندوستان میں مشہور تھا۔ کئی عیاش قسم کے سعودی بوڑھے یہاں آکر شادی جیسے مقدس رشتے کو بدنام بھی کرتے رہتے تھے اور اکثر و بیشتر اخبارات میں اس قسم کے واقعات پڑھنے کو ملتے تھے۔ غیر ممالک سے دلہنیں بیاہ کر لانے کا چلن بڑھنے کی وجہ سے سعودی میں ایک نیا سماجی مسئلہ پیدا ہوگیا تھا ۔
کیونکہ یہاںپر شادی کے قابل لڑکیاں موجود ہونے کے باوجود سعودی شہری بیرون ملک جاکر شادی کرنا چاہتے تھے۔ اسلئے اس نئے مسئلے کوحل کرنے کیلئے سعودی حکومت نے نیا قانون تشکیل دیا جس کی رو سے سعودی شہریوں کو غیر ملکی خواتین سے شادی پر پابندی عائد کردی گئی۔ اس قانون کی خلاف ورزی کرنے پر انہیں ایک لاکھ سعودی ریال بطور جرمانہ ادا کرنے ہونگے ۔ سعودی حکومت جہاں معاشرے میں شادی کے قابل لڑکیوں کی بڑھتی تعداد سے پریشان تھی‘ وہیں غیر ملکی خواتین جنہوں نے سعودی شہریوں سے شادی کی ‘ ان کی شہریت کی مانگ کو لیکر بھی نالاں تھی۔ اکثر سعودی شہریوں کی جائز بیویاں شہریت نا ہونے کے باعث اپنے شوہر سے ہزاروں میل دور اپنے اپنے ممالک میںرہنے پر مجبور ہیں۔ ایسی خواتین مطالبہ کررہی ہیں کہ انہیںسعودی کی شہریت دی جائے تاکہ وہ اپنے شوہروں کے ساتھ زندگی گذار سکیں۔اسکے علاوہ ایسی خواتین اپنے بچوں کو بھی سعودی کی شہریت دلوانے کیلئے کوشاں ہیں۔
عیاش اور دولتمند بوڑھوں کی عیاشیوں پر روک لگانے کیلئے سعودی حکومت نے قانون میں ایک شق یہ بھی جوڑ دی ہے کہ‘ شادی کے وقت دولہا اور دولہن کی عمروں میں ۲۵؍ سال سے زیادہ کا فرق نا ہو۔ حالانکہ پچیس سال کا فرق بھی کوئی کم نہیں ‘ لیکن پھر بھی غنیمت ہے۔کیونکہ حیدرآباد میںایسے کئی واقعات گذر چکے ہیں جن میں عمر دراز عیاش اور دولتمند غیر ملکی بوڑھوں نے اپنی پوتیوں کے برابر عمر والی لڑکیوں سے شادیاں کیں اور محض چند دن‘ چند ہفتے عیاشی کرنے کے بعد انہیںطلاق دیکر ہمیشہ کیلئے چھوڑگئے۔ موجودہ قانون کا مقصد سعودی شہریوںکو بیرون ملک میںشادی کرنے سے روکنا ہے۔ لیکن اگر کوئی سعودی شہری شادی کرکے چند ہفتوں میں طلاق دیدے تو ایسے شخص کے خلاف قانون میں کسی قسم کی کاروائی نہیں کی جاسکتی۔ چونکہ سعودی حکومت آئے دن کے شہریت کے مطالبوں سے تنگ آچکی ہے اسلئے اس نے جو قانون بنایا ہے ‘اس کابنیادی مقصد شہریت کیلئے درخواستوںمیں کمی لانا ہے۔لیکن عیاش دولتمندوں کی عیاشی پر روک لگانے کیلئے بھی حکومت کو اس قانون میں گنجائش رکھنی چاہئے تھی۔شادی اور کچھ وقفے کے بعد طلاق کی وجہ سے کوئی لڑکی سعودی حکومت کو شہریت کی عرضی نہیںدے سکتی‘ اسلئے ایسا کرنے والوں کو چھوٹ مل رہی ہے۔ لیکن ایسے عیاش افراد کو ہمارے ملک کی دوشیزائوں سے کھیلنے کی اجازت نہیں ملنی چاہئے۔ اگر سعودی حکومت اپنے شہریوں کے حقوق کی حفاظت کیلئے قانون بنا سکتی ہے تو ہماری حکومت کو بھی چاہئے کہ وہ ایسا کوئی قانون بنائے جس کے چلتے ہمارے ملک کی خواتین غیر ممالک کے عیاشوں کیلئے ترنوالہ نا ثابت ہوسکیں۔
(م۔ع۔رحیم ۔ اورنگاباد)
कोई टिप्पणी नहीं:
एक टिप्पणी भेजें