शुक्रवार, 15 जुलाई 2011

شب برات کی حقیقت ،فضیلت اور عبادت

       شب برات کی حقیقت ،فضیلت اور عبادت
                                                                ترتیب  ۔ محّمد شاہد علی حبیبی 
شب ِ برات کے بارے میں یہ کہنا بالکل غلط ہے کہ اس کی کوئی فضیلت حدیث سے ثابت نہیں ، حقیقت یہ ہے کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے احادیث مروی ہیں جن میں نبی کریم ﷺ نے اس رات کی فضیلت بیان فرمائی ۔ ام المومنین حضرت  عائشہ صدّیقہ فرماتی ہیں کہ نبی کریم ؑﷺ کو شعبان سے زیادہ کسی مہینے میں روزہ  رکھتے ہوئے نہیں دیکھا۔ نبی کریم ﷺ  فرماتے ہیںمجھے جبرئیل  علیہ السلا م نے خبر دی کہ ماہ شعبان میں اﷲ تعالیٰ رحمت کے ۳۰۰ دروازے کھول دیتا ہے۔ حضرت انس نے بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ سے سوال کیا گیا کہ سب سے افضل نفلی روزے کون سے ماہ کے ہیں؟ آپﷺ نے فرمایا شعبان کے، فرمایا جو شخص شعبان میں تین روزے رکھتا ہے اور پھر مجھ پر صلوٰۃ و سلام پڑھتا ہے اﷲ تعالیٰ اس کے تمام پچھلے گُناہ معاف کر دیتا ہےاور اس کے رزق میں برکت عطا فرماتا ہے۔
شب برات میں عبادت :۔امت مسلمہ کے جو خیرالقرون ہیں یعنی صحابہ کرام کا دور ، تابعین کا دور، تبع تابعین کادور، اس میں بھی اس رات کی فضیلت سے فائدہ اٹھانے کا اہتمام کیا جاتا رہا ہے،لوگ اس رات میں عبادت کا خصوصی اہتمام کرتے رہے ہیں، لہٰذا اس کو بدعت کہنا، یا بے بنیاد اور بے اصل کہنا درست نہیں ، صحیح بات یہی ہے کہ یہ فضیلت والی رات ہے، اس رات میں عبادت کرنا باعث ِ اجر و ثواب ہے اور اسکی خصوصی اہمیت ہے۔ کچھ خوصوصی عبادات حسب ذیل ہیں:(۱)  بعد نماز مغرب  ۶ رکعت نماز نفل ۲۔۲ رکعت کر کے پڑھیں ،ہر ۲ رکعت کے بعد سورہ یٰسین شریف کی تلاوت کریںاس کی برکت سے انشاء اﷲ پورے سال صحت اور کاروبار،روزی مین برکت رہیگی
(۲)  ۱۲ رکعت نفل نماز اس طرح  پڑھیں کہ ہر رکعت میں سورہ فاتحہ ایک بار، سورہ اخلاص ۱۰ بار نماز سے فراغت کے بعد  تیسرا کلمہ ۱۰ بار، چوتھا کلمہ ۱۰ بار، درود شریف ۱۰۰بار پڑھیں۔(۳)  ۸ رکعت نماز اس طرح پڑھیں کہ ہر رکعت میں سورہ فاتحہ کے بعد سورہ اخلاص ۱۱ بار پڑھیں۔  جو شخص ماہ شعبان کے مکمل روزے رکھتا ہےاﷲ تعالیٰ اسے سکرات موت سے اسے نجات دیتا ہےاور وہ شخص قبر کی تاریکی اورمنکر نکیر کی دہشت و ہیبت سے محفوظ ہو جاتا ہے۔ البتہ یہ بات درست ہے کہ اس رات میں عبادت کا کوئی خاص طریقہ مقرر نہیں کہ فلاں طریقے سے عبادت کی جائے ،  بلکہ نفلی عبادت جس قدر ہوسکے وہ اس رات میں انجام دی جائے، نفل نماز پڑھیں ، قرآن کریم کی تلاوت کریں ، ذکرکریں ، تسبیح پڑھیں ، دعائیں کریں ، یہ ساری عبادتیں اس رات میں کی جاسکتی ہیں لیکن کوئی خاص طریقہ ثابت نہیں۔
شبِ برات میں قبرستان جانا:۔ اس رات میں ایک اور عمل ہے جو ایک روایت سے ثابت ہے وہ یہ ہے کہ حضور نبی کریم ﷺ جنت البقیع میں تشریف لے گئے، اب چونکہ حضور ﷺ اس رات میں جنت البقیع میں تشریف لے گئے اس لئے مسلمان اس بات کا اہتمام کرنے لگے کہ شبِ برات میں قبرستان جائیں ، ایک مسئلہ شب برات کے بعد والے دن یعنی پندرہ شعبان کے روزے کاہے، کہ شب برات کے بعد والے دن روزہ رکھو  پورے شعبان کے مہینے میں روزہ رکھنے کی فضیلت ثابت ہے لیکن 28اور29 شعبان کو حضور ﷺ نے روزہ رکھنے سے منع فرمایا ہے، کہ رمضان سے ایک دو روز پہلے روزہ مت رکھو، تاکہ رمضان کے روزوں کےلئے انسان نشاط کے ساتھ تیا ر رہے۔

कोई टिप्पणी नहीं:

एक टिप्पणी भेजें