शनिवार, 16 जुलाई 2011
शुक्रवार, 15 जुलाई 2011
شب برات کی حقیقت ،فضیلت اور عبادت
شب برات کی حقیقت ،فضیلت اور عبادتترتیب ۔ محّمد شاہد علی حبیبی
شب ِ برات کے بارے میں یہ کہنا بالکل غلط ہے کہ اس کی کوئی فضیلت حدیث سے ثابت نہیں ، حقیقت یہ ہے کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے احادیث مروی ہیں جن میں نبی کریم ﷺ نے اس رات کی فضیلت بیان فرمائی ۔ ام المومنین حضرت عائشہ صدّیقہ فرماتی ہیں کہ نبی کریم ؑﷺ کو شعبان سے زیادہ کسی مہینے میں روزہ رکھتے ہوئے نہیں دیکھا۔ نبی کریم ﷺ فرماتے ہیںمجھے جبرئیل علیہ السلا م نے خبر دی کہ ماہ شعبان میں اﷲ تعالیٰ رحمت کے ۳۰۰ دروازے کھول دیتا ہے۔ حضرت انس نے بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ سے سوال کیا گیا کہ سب سے افضل نفلی روزے کون سے ماہ کے ہیں؟ آپﷺ نے فرمایا شعبان کے، فرمایا جو شخص شعبان میں تین روزے رکھتا ہے اور پھر مجھ پر صلوٰۃ و سلام پڑھتا ہے اﷲ تعالیٰ اس کے تمام پچھلے گُناہ معاف کر دیتا ہےاور اس کے رزق میں برکت عطا فرماتا ہے۔
شب برات میں عبادت :۔امت مسلمہ کے جو خیرالقرون ہیں یعنی صحابہ کرام کا دور ، تابعین کا دور، تبع تابعین کادور، اس میں بھی اس رات کی فضیلت سے فائدہ اٹھانے کا اہتمام کیا جاتا رہا ہے،لوگ اس رات میں عبادت کا خصوصی اہتمام کرتے رہے ہیں، لہٰذا اس کو بدعت کہنا، یا بے بنیاد اور بے اصل کہنا درست نہیں ، صحیح بات یہی ہے کہ یہ فضیلت والی رات ہے، اس رات میں عبادت کرنا باعث ِ اجر و ثواب ہے اور اسکی خصوصی اہمیت ہے۔ کچھ خوصوصی عبادات حسب ذیل ہیں:(۱) بعد نماز مغرب ۶ رکعت نماز نفل ۲۔۲ رکعت کر کے پڑھیں ،ہر ۲ رکعت کے بعد سورہ یٰسین شریف کی تلاوت کریںاس کی برکت سے انشاء اﷲ پورے سال صحت اور کاروبار،روزی مین برکت رہیگی
(۲) ۱۲ رکعت نفل نماز اس طرح پڑھیں کہ ہر رکعت میں سورہ فاتحہ ایک بار، سورہ اخلاص ۱۰ بار نماز سے فراغت کے بعد تیسرا کلمہ ۱۰ بار، چوتھا کلمہ ۱۰ بار، درود شریف ۱۰۰بار پڑھیں۔(۳) ۸ رکعت نماز اس طرح پڑھیں کہ ہر رکعت میں سورہ فاتحہ کے بعد سورہ اخلاص ۱۱ بار پڑھیں۔ جو شخص ماہ شعبان کے مکمل روزے رکھتا ہےاﷲ تعالیٰ اسے سکرات موت سے اسے نجات دیتا ہےاور وہ شخص قبر کی تاریکی اورمنکر نکیر کی دہشت و ہیبت سے محفوظ ہو جاتا ہے۔ البتہ یہ بات درست ہے کہ اس رات میں عبادت کا کوئی خاص طریقہ مقرر نہیں کہ فلاں طریقے سے عبادت کی جائے ، بلکہ نفلی عبادت جس قدر ہوسکے وہ اس رات میں انجام دی جائے، نفل نماز پڑھیں ، قرآن کریم کی تلاوت کریں ، ذکرکریں ، تسبیح پڑھیں ، دعائیں کریں ، یہ ساری عبادتیں اس رات میں کی جاسکتی ہیں لیکن کوئی خاص طریقہ ثابت نہیں۔
شبِ برات میں قبرستان جانا:۔ اس رات میں ایک اور عمل ہے جو ایک روایت سے ثابت ہے وہ یہ ہے کہ حضور نبی کریم ﷺ جنت البقیع میں تشریف لے گئے، اب چونکہ حضور ﷺ اس رات میں جنت البقیع میں تشریف لے گئے اس لئے مسلمان اس بات کا اہتمام کرنے لگے کہ شبِ برات میں قبرستان جائیں ، ایک مسئلہ شب برات کے بعد والے دن یعنی پندرہ شعبان کے روزے کاہے، کہ شب برات کے بعد والے دن روزہ رکھو پورے شعبان کے مہینے میں روزہ رکھنے کی فضیلت ثابت ہے لیکن 28اور29 شعبان کو حضور ﷺ نے روزہ رکھنے سے منع فرمایا ہے، کہ رمضان سے ایک دو روز پہلے روزہ مت رکھو، تاکہ رمضان کے روزوں کےلئے انسان نشاط کے ساتھ تیا ر رہے۔
बुधवार, 13 जुलाई 2011
اسلام اور دہشت گردی
دہشت گردی ایک ایسا فعل یا عمل ہےجس سے معاشرہ میں دہشت و بد امنی کا راج ہو اور لوگ خوف زدہ ہوں،وہ دہشت گردی کہلاتی ہے۔ دہشت گردی کو قرآن کریم کی زبان میں فساد فی الارض کہتے ہیں۔ دہشت گردی لوگ چھوٹے اور بڑےمقا صد کےلئے کرتے ہیں۔ اسے کوئی فرد واحد بھی انجام دے سکتا ہے اور کوئی گروہ اور تنظیم بھی۔
یہ حقیقت ا ظہر من الشمس ہے کہ دہشت گردی اور اسلام دو متضاد چیزیں ہیں۔ جس طرح رات اور دن ایک نہیں ہو سکتے، اسی طرح دہشت گردی اور اسلام کا ایک جگہ اور ایک ہونا، نا ممکنات میں سے ہے۔ لھذا جہاں دہشت گردی ہو گی وہاں اسلام نہیں ہو گا اور جہاں اسلام ہو گا وہاں دہشت گردی نہیں ہو گی۔
اسلام کے معنی ہیں سلامتی کے۔ چونکہ ہم مسلمان ہین اور امن اور سلامتی کی بات کرتے ہین۔ ‘ ہمارا دین ہمیں امن اور سلامتی کا درس دیتا ہے‘ ہم چاہتے ہیں کہ دنیا بھر کے لوگوں کو امن اور سلامتی نصیب ہو اور امن اور چین کی بنسری بجے۔ آ نحضرت صلعم دنیا میں رحمت العالمین بن کر آ ئے۔
یہ امر شک اور شبہے سے بالا ہےکہ اس وقت دنیا کا سب سے بڑا مسئلہ دہشت گردی ہے اور پاکستان دہشت گردوں کے نشانے پر ہے‘ جس کی وجہ سے پاکستان عرصہ سے دہشت گردوں کا شکار بنا ہوا ہے‘ پاکستان میں دہشت گردی کی وجہ سے بہت سارے مالی و جانی نقصانات ہوئے ہیں‘ اور ترقی کے میدان میں ہم بہت پیچہے رہ گئے ہیں۔ میرے خیال کے مطابق دہشت گردی کے عمل کو کسی بھی مذہب یا قوم کے ساتھ منسلک کرنا درست نہیں ہے۔
اسلام امن وسلامتی کا دین ہے اور اس حد تک سلامتی کا داعی ہے کہ اپنے ماننے والے کو تو امن دیتا ہی ہے نہ ماننے والے کے لیے بھی ایسے حق حقوق رکھے ہیں کہ جن کے ساتھ اس کی جان ،مال اور عزت محفوظ رہتی ہے۔طالبان اور القائدہ دہشت گردوں کا ایک گروہ ہے جو اسلام کے نفاز کے نام پر اور شریعتِ محمدی کے نام پر، لوگوں کی املاک جلا رہا ہے اورقتل و غارت کا ارتکاب کر رہا ہے۔
کسی بھی حکومت کی بنیادی ذمہ داری ملک میں امن و امان قائم رکھنا اور شہریوں کی جان و املاک کی حفاظت کرنا ہوتی ہے۔دہشت گرد، دہشت گردی کے ذریعے ملک میں امن و امان کی صورتحال پیدا کر کے اور شہریوں کے جان و مال کو نقصان پہنچا کر خوف و ہراس کی صورتحال پیدا کر دیتے ہیں تاکہ حکو مت کو دباو میں لا کرحکومت سےاپنے مطالبات منوا لیں۔
اسلام خود کشی کو حرام قرار دیتا ہے جو کہ دہشت گردی کی ایک شکل ہے۔ یہ گمراہ گروہ اسلام کے نام پر خود کش حملہ آور کی فوج تیار کر رہا ہے۔اسلام دوسروں کی جان و مال کی حفاظت کا حکم دیتا ہے یہ دوسروں کا مال لوٹنے اور بے گناہوں کی جان سے کھیلنے کو ثواب کا نام دیتے ہیں۔اسلام خواتین کا احترام سکھاتا ہے یہ دہشت گرد ،عورتوں کو بھیڑ بکریوں سے بھی برا سمجھتے ہیں۔بچیوں کے اسکول جلاتے ہیں۔
کسی بھی انسا ن کی نا حق جان لینا اسلام میں حرام ہے۔ دہشت گردی قابل مذمت ہے، اس میں دو آراء نہیں ہو سکتیں۔دہشت گردی کا کوئی مذہب نہیں یہ بھی مسلم ہے۔ اور نہ ہی کوئی مذہب اس کی اجازت دے سکتا ہے۔
اس وقت دنیا کو سب سے بڑا درپیش چیلنج دہشت گردی ہے اس پر سب متفق ہیں۔ دہشت گردی کا اسلام سے کوئی تعلق نہ ہے اور یہ قابل مذمت ہے۔ اسلام میں دہشت گردی اور خودکش حملوں کی کوئی گنجائش نہیں اور طالبان اور القاعدہ دہشت گرد تنظیمیں ہولناک جرائم کے ذریعہ اسلام کے چہرے کو مسخ کررہی ہیں۔ برصغیرسمیت پُوری دنیا میں اسلام طاقت سے نہیں،بلکہ تبلیغ اور نیک سیرتی سے پھیلاجبکہ دہشت گرد طاقت کے ذریعے اسلام کا چہرہ مسخ کررہے ہیں۔
ایک مُسلم معاشرے اور مُلک میں ایک مُسلمان دوسرے مُسلمان کی جان کا دُشمن ۔مُسلمانیت تو درکنار انسا نیت بھی اسکی متحمل نہیں ہو سکتی کہ کسی بھی بے گناہ کا خون کیا جائے۔
چند برسوں سے وطن عزیز پاکستان مسلسل خود کش حملوں کی زد میں ہے۔ بے گناہ لوگوں کا قتل اور املاک کی بے دریغ تباہی ہو رہی ہے۔ الللہ کے فرامین کو پس پشت ڈال دیا جائے اور احکام قرانی کا اتباع نہ کیا جائےتو ایسے حالات پیدا ہو جاتے ہیں کہ مسلمان آپس میں ایک دوسرے کو قتل کرنا شروع کر دیں، یہ عذاب الہی کی ایک شکل ہے۔ اللہ تعالہ فرماتاہے: ’’جس نے کسی شخص کو بغیر قصاص کے یا زمین میں فساد (پھیلانے کی سزا) کے (بغیر، ناحق) قتل کر دیا تو گویا اس نے (معاشرے کے) تمام لوگوں کو قتل کر ڈالا۔‘‘) المائدة، 5 : 32(
کہو، وہ (اللہ) اس پر قادر ہے کہ تم پر کوئی عذاب اوپر سے نازل کر دے، یا تمہارے قدموں کے نیچے سے برپا کر دے، یا تمہیں گروہوں میں تقسیم کر کے ایک گروہ کو دوسرے گروہ کی طاقت کا مزہ چکھوا دے۔(سورۃ الانعام ۶۵)
وہ شخص جو کسی مومن کو جان بوجھ کر قتل کرے تو اس کی سزا جہنم ہے جس میں وہ ہمیشہ رہے گا۔ اس پر اللہ کا غضب اور لعنت ہے اور الللہ نے اُسکے لیے سخت عذاب مہیا کر رکھا ہے۔(سورۃ النساء۔۹۳)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے خطبہ حجۃ الوداع میں فرمایا۔
تم (مسلمانوں) کے خون، اموال اور عزتیں ایکدوسرے پر حرام ہیں، اِس دن (عرفہ)، اس شہر (ذوالحجۃ) اور اس شہر(مکہ) کی حرمت کی مانند۔ کیا میں نے تم تک بات پہنچا دی؟ صحابہ نے کہا ”جی ہاں۔
”مسلمان کو گالی دینا فسق ہے اور اس سے قتال کرنا کفر ہے۔”
مسلمان کو قتل کر دینا جہنم میں داخلے کا سبب ہے لیکن اس کا مصمم ارادہ بھی آگ میں داخل کر سکتا ہے۔
” جب دو مسلمان اپنی تلواریں لے کر ایک دوسرے سے لڑ پڑیں تو وہ دونوں جہنم میں جائیں گے۔” صحابہ نے دریافت کیا کہ اے اللہ کے رسول! ایک تو قاتل ہے (اس لیے جہنم میں جائے گا) لیکن مقتول کا کیا قصور؟ فرمایا ” اس لیے کہ اس نے اپنے (مسلمان) ساتھی کے قتل کا ارادہ کیا تھا۔”
مندرجہ آیت اور احادیث کی روشنی میں کسی مسلمان کو شک نہیں ہونا چاہیے کہ مسلمانوں اور بے گناہ لوگوں پر خود کش حملے کرنے والے گمراہ لوگ ہیں جن کا دین اسلام کے ساتھ کوئی تعلق اور واسطہ نہیں ہے۔ ان کی یہ حرکت دشمنان اسلام اور کے لیے خوشیاں لے کر آئی ہے۔ اسلام کے دشمن چاہتے ہیں کہ جہاں کا امن تباہ کر دیا جائے اور بدامنی کی آگ بڑھکا کرمُسلمانوںکو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا جائے۔ یہ لوگ پوری انسانیت کے قاتل ہیں اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے۔ جس نے کسی انسان کو خون کے بدلے یا زمین میں فساد پھیلانے کے سوا کسی اور وجہ سے قتل کیا گویا اس نے سارے انسانوں کو قتل کر دیا اور جس نے کسی کی جان بچائی اس نے گویا تمام انسانوں کو زندگی بخش دی۔(المائدۃ۔۳۲)
تمام اہل دانش اور علمائے کرام کی ذمے داری ہے کہ وہ لوگوں کو اسلام اور جہاد کے صحیح اسلامی عقیدے سے آگاہ کریں اور انہیں طالبان اور القائدہ کے ہاتھوں میں کھلونا بننے سے بچائیں جو نہ کسی حرمت کا لحاظ کر رہے ہیں نہ قرآن و حدیث کے واضح فرامین کا پاس رکھتے ہیں ۔ قرآن و حدیث کی ان نصوص پر غور کر کے ہمیں اپنی آخرت کی فکر کرنی چاہیے۔ دُشمنوں کے ہاتھوں کھلونا بننے والوں کو بھی، اور جوش انتقام میں اندھا ہو جانے والوں کو بھی۔
ہمیں روم کے نیرو کی طرح، بنسری بجاتے ہوئے اپنے مذہبکو جلتا اور تباہ ہوتا نہیں دیکھنا چاہیے بلکہ آ گے بڑہ کر مردانہ وار اسلام کے دشمنوں کا مقابلہ کرنا چاہیے۔
سید مُحمد شاہد علی حبیبی
रविवार, 10 जुलाई 2011
गुरुवार, 7 जुलाई 2011
نئے سعودی قانون کے چلتے سعودی شہریوں کیلئے غیر ملکی خواتین سے شادی کرنا ہوا مشکل ہماری دوشیزائوں کو غیر ملکی عیاشوں سے بچانے کیلئے کب بنے گا قانون؟ م۔ع۔رحیم ۔ اورنگاباد
نئے سعودی قانون کے چلتےسعودی شہریوں کیلئے غیر ملکی خواتین سے شادی کرنا ہوا مشکل
ہماری دوشیزائوں کو غیر ملکی عیاشوں سے بچانے کیلئے کب بنے گا قانون؟
شادیوں کو لیکرآج کل کے نوجوان کافی حساس ہوچکے ہیں۔ وہ جب تک اپنے پیروں پر کھڑے نہیں ہوتے‘تب تک شادی کے بارے میں سوچتے بھی نہیں۔ اور مقابلہ آرائی کے اس دور میں اپنے پیروں پرکھڑا رہنا بھی کوئی آسان کام نہیں۔ اب ’سیٹ ‘ ہونے کیلئے جوانی کا کافی بڑا حصہ خرچ ہونے لگا ہے اسلئے نوجوانوں میں عموماً شادیاں بھی دیر سے ہونے لگی ہے۔ سچ کہیں تو اب زیادہ تر شادیاں ’نوجوانی‘ نہیں نہیں بلکہ جوانی میں ہورہی ہے کیونکہ اپنے پیروں پرکھڑے رہتے رہتے عمر کے ۲۸؍ سے ۳۰؍ سال نکل جاتے ہیں۔ اسکے علاوہ لڑکیوں کی شادیاں بھی ’جہیز ‘ کی لعنت کے چلتے دیر سے ہورہی ہیں۔ ہمارے ہندوستان میں جہاں لڑکیوں سے جہیز لیا جاتا ہے اسکے برعکس سعودی میں شادی کیلئے لڑکوں کو ایک کثیر رقم لڑکی کے ماں باپ کو دینی ہوتی ہے۔ ان دونوں ہی معاملات میں نوجوانوں کا نقصان ہورہا ہے اور ان کی شادیاں جہاں تاخیر سے ہورہی ہیں وہیں ان کی ’گولڈن ایج‘ کے کئی سال یونہی برباد ہورہے ہیں۔
اسلئے سعودی عرب میں بیرون ملک سے لڑکی بیاہ کر لانے کا چلن کافی بڑھ گیا تھا۔ اس سلسلے میں سعودی کے شہریوں کی پہلی پسند ہندوستان تھی جہاں کی لڑکیاں وفاداری کے معاملے میں ساری دنیا میں مشہور ہیں۔ اسلئے ہندوستان میں سعودی عرب کے کئی شہری آکر یہاں کی لڑکیوں سے شادیاں رچا لیتے تھے۔ سعودی کے باشندوں کیلئے یہاں پر شادی کرنا اسلئے بھی بیحد آسان اور سستا تھا کیونکہ یہاںپر کئی گھرانوں میں لڑکیوں کو جہیز کی لعنت کی وجہ سے بوجھ سمجھا جاتا ہے اور ان سے جلد از جلد چھٹکارہ پانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ ایسے میں کوئی غیر ملکی شخص بغیر کسی جہیز کے لڑکی سے شادی کیلئے تیار ہو‘ بلکہ کئی بار تو کچھ پیسے بھی لڑکی والوں کو دینے کیلئے تیارہو تو پھر ایسی ’آفر‘کو کون ٹھکرائے؟ اسلئے یہاںپر آکر شادی رچانے والے بھی کثیر تعداد میں موجود تھے اور شادیوں کیلئے لڑکیاں بھی بکثرت مل جاتی تھیں۔ حیدرآباد شہر تو اس معاملے میں سارے ہندوستان میں مشہور تھا۔ کئی عیاش قسم کے سعودی بوڑھے یہاں آکر شادی جیسے مقدس رشتے کو بدنام بھی کرتے رہتے تھے اور اکثر و بیشتر اخبارات میں اس قسم کے واقعات پڑھنے کو ملتے تھے۔ غیر ممالک سے دلہنیں بیاہ کر لانے کا چلن بڑھنے کی وجہ سے سعودی میں ایک نیا سماجی مسئلہ پیدا ہوگیا تھا ۔
کیونکہ یہاںپر شادی کے قابل لڑکیاں موجود ہونے کے باوجود سعودی شہری بیرون ملک جاکر شادی کرنا چاہتے تھے۔ اسلئے اس نئے مسئلے کوحل کرنے کیلئے سعودی حکومت نے نیا قانون تشکیل دیا جس کی رو سے سعودی شہریوں کو غیر ملکی خواتین سے شادی پر پابندی عائد کردی گئی۔ اس قانون کی خلاف ورزی کرنے پر انہیں ایک لاکھ سعودی ریال بطور جرمانہ ادا کرنے ہونگے ۔ سعودی حکومت جہاں معاشرے میں شادی کے قابل لڑکیوں کی بڑھتی تعداد سے پریشان تھی‘ وہیں غیر ملکی خواتین جنہوں نے سعودی شہریوں سے شادی کی ‘ ان کی شہریت کی مانگ کو لیکر بھی نالاں تھی۔ اکثر سعودی شہریوں کی جائز بیویاں شہریت نا ہونے کے باعث اپنے شوہر سے ہزاروں میل دور اپنے اپنے ممالک میںرہنے پر مجبور ہیں۔ ایسی خواتین مطالبہ کررہی ہیں کہ انہیںسعودی کی شہریت دی جائے تاکہ وہ اپنے شوہروں کے ساتھ زندگی گذار سکیں۔اسکے علاوہ ایسی خواتین اپنے بچوں کو بھی سعودی کی شہریت دلوانے کیلئے کوشاں ہیں۔
عیاش اور دولتمند بوڑھوں کی عیاشیوں پر روک لگانے کیلئے سعودی حکومت نے قانون میں ایک شق یہ بھی جوڑ دی ہے کہ‘ شادی کے وقت دولہا اور دولہن کی عمروں میں ۲۵؍ سال سے زیادہ کا فرق نا ہو۔ حالانکہ پچیس سال کا فرق بھی کوئی کم نہیں ‘ لیکن پھر بھی غنیمت ہے۔کیونکہ حیدرآباد میںایسے کئی واقعات گذر چکے ہیں جن میں عمر دراز عیاش اور دولتمند غیر ملکی بوڑھوں نے اپنی پوتیوں کے برابر عمر والی لڑکیوں سے شادیاں کیں اور محض چند دن‘ چند ہفتے عیاشی کرنے کے بعد انہیںطلاق دیکر ہمیشہ کیلئے چھوڑگئے۔ موجودہ قانون کا مقصد سعودی شہریوںکو بیرون ملک میںشادی کرنے سے روکنا ہے۔ لیکن اگر کوئی سعودی شہری شادی کرکے چند ہفتوں میں طلاق دیدے تو ایسے شخص کے خلاف قانون میں کسی قسم کی کاروائی نہیں کی جاسکتی۔ چونکہ سعودی حکومت آئے دن کے شہریت کے مطالبوں سے تنگ آچکی ہے اسلئے اس نے جو قانون بنایا ہے ‘اس کابنیادی مقصد شہریت کیلئے درخواستوںمیں کمی لانا ہے۔لیکن عیاش دولتمندوں کی عیاشی پر روک لگانے کیلئے بھی حکومت کو اس قانون میں گنجائش رکھنی چاہئے تھی۔شادی اور کچھ وقفے کے بعد طلاق کی وجہ سے کوئی لڑکی سعودی حکومت کو شہریت کی عرضی نہیںدے سکتی‘ اسلئے ایسا کرنے والوں کو چھوٹ مل رہی ہے۔ لیکن ایسے عیاش افراد کو ہمارے ملک کی دوشیزائوں سے کھیلنے کی اجازت نہیں ملنی چاہئے۔ اگر سعودی حکومت اپنے شہریوں کے حقوق کی حفاظت کیلئے قانون بنا سکتی ہے تو ہماری حکومت کو بھی چاہئے کہ وہ ایسا کوئی قانون بنائے جس کے چلتے ہمارے ملک کی خواتین غیر ممالک کے عیاشوں کیلئے ترنوالہ نا ثابت ہوسکیں۔
(م۔ع۔رحیم ۔ اورنگاباد)
सोमवार, 20 जून 2011
خواجہ اجمیری کا مشن اور ہمارا کردار
سب سے محبت،سب کی خدمت یہ ہے خواجئہ اجمیری کی تعلیمات و فرمودات کا وہ نقتہ جس کے سبب اپنے اور بیگانے خواجہ کی عظمت اور رفعت کے گیت گاتے نظر آتے ہیں۔ سلطان الہند،عطائے رسول، غریب نواز جیسے اعزازات سے معزز خواجئہ اجمیری کی بلند پایہ اور عبقری شخصیت کی یہ سحر انگیزی ہی ہے کہ اکناف عالم سے نہ صرف خوش عقیدہ مُسلمان و مومنات بلکہ بزرگانِ دین سے عقیدہ رکھنے والے دیگر مذاہب ومکاتبِ فکر کےحاملین بھی بارگاہ خواجہ غریب نواز اجمیری میں حاضری کو باعث سعادت خیال کرتے ہیں،اجمیر کی مُقدّس دھرتی پر زیرِ زمیں محواستراحت اس صاحبِ دل اور عاشقِ صادق کی بارگاہ تقدیس و تطہیر مین اپنی اپنی عقیدتوں کا خراج پیش کرنے کے لئے غلام حاضر ہیں۔
خواجہ اجمیری اپنے وطن عزیز کو خیرآباد کہہ کرعازم ہندوستان ہوتے ہیں۔ کیونکہ ان کےمولیٰ وکریم رسول عظیم ﷺ کا یہی حکم ہے،جاو! دارالکفروالشرک کو دارلتوحید ورسالت میں تبدیل کرنے،مظلوموں کی گردنوں سے ظلم کا طوق اتارنے ، انھیں غیرانسانی نظام زندگی سے آزاد کرانے اور ایک خدا کی بارگاہ میں سر جھکانے کے لئے کوشیشیں کرو۔ خواجہ اجمیری نہیں ، نہیں ایک نورانی پیکر، قدسی صفت،ریش دراز بزرگ ہندوستان کو اپنے قدوم میمنت لزوم سے مُشرّف کرتا ہے، ذرا اس وقت کے ہندوستان پر بھی ایک نظر ڈالتے چلیں۔ بڑاہی پر آشوب عہد تھا،کفر اور شرک کی خیرات ہول سیل میں گھر گھر مین بٹ رہی تھی،بدعات وخرافات کے سیاہ بادل پورے ملک پر چھائے ہوئے تھے، حیاسوز و انسانیت کوش رسوم کا بول بالا تھا، دکھیاری عورت کی حیثیت پَیر کی جوتی سے بھی بدتر تھی،شراب و شباب کی محفلیں آراستہ و پیراستہ تھیں، غربت و افلاس سماج کی سب سے بڑی لعنت تھی، غریب کا حسن، حسن نی تھا،اس کا وصف وصف نی تھا، امیر کا عیب بھی حسن تھا، اس کا شر بھی خیر تھا ۔ سماج مین دوہرا معیار قائم تھا، برہمن کو سات خون معاف تھے تو بیچارے شودر کو برہمن کے آنگن میں تھوکنے پر اپنی زبان کٹوانے پر ہی امان ملتی تھی۔برہمن کی کنیا کو ایک نظر دیکھنے پر شودر کی آنکھیں پھوڑنے کی سزا منو جی کے آئین نے تجویز کی تھی، شودر کی جورو کو اگر کوئی برہمن اپنی حوس کا نشانہ بناتا تو یہ اس کا حق مالکانہ تھا،شودر کو اس کے خلاف زبان کھولنے کابھی حق نہ تھا، بلکہ اس کی مُکتی(نجات) کے لئے یہی کافی تھا کہ کسی برہمن کی نظر انتخاب اس کی شریک سفر پر پڑی اور اس جنم کےپوتر نے اس ناپاک شودرانی کوپوتر کر دیا۔ ایسا اس دبے کچلے سماج کا ماننا تھا۔غرض یہ کی منوجی کا غیر انسانی نظام حیات پر مشتمل آئین عملی طور پر نافذ تھا۔ایسے میں خواجہ اجمیری کا ورودِ مسعود ہندوستان کے ان دکھیون کے لئے نعمتِ غیر مترقبہ سے کم نہ تھا۔ اپنے چند ایک خادموں کے ساتھ ایک پھتے پرانے ٹات پربیٹھ کر توحید و رسالت کے اسرار ورموز،مودت و اخوت اور سماجی برادری کے آفاقی نظریات ، انہی کی زبان اور انہی کے انداز میں بیان کرنے والے خواجہ اجمیری کی من کو بھانے والی بتیاں ہی کچھ ایسی تھی کہ جو ان کی خدمت میں ایک بار آیا انہی کا ہو رہا، دین چھوڑا، سماج چھوڑا ، ریت چھوڑی،رواج چھوڑے۔ غرض یہ کہ سب کُچھ چھوڑ کر خواجہ اجمیری کے چرنوں میں حیاتِ جاودانی تلاش کرنے لگا۔ خواجہ اجمیری کی زبان سے فیض ترجمان سے نکلے ان کلمات نے سب کو محو کر کے رکھ دیا۔
’’لوگو! تمھارے پالنہارا ایک ہے، اس کا کوئی ساجھی نہیں ،نہ اس کو کسی نے جنا اور نہ وھ کیسی کو جنتا ہے۔ اسی نے تم کو پیدا لیا، وہی تم کو کھانے،پینے کو دیتا ہے، وہی زندگی دیتا ہے، وہی موت دیتا ہے، بیٹابیٹی وہی دیتا ہے، یہ بیجان پتھر جن کو تم پوجتے ہو اپنی مکھی بھی نہیں اڑا سکتے تو تمھاری حاجت روائی کیا خاک کرینگے۔ اور سُنو! یہ سر بڑاہی باعظمت ہے، یہ عظمت والا سر کسی عظمت والے ہی کے در پر جھکنا چاہئے، ہر ایرے غیرے کے مٹھ پر نہیں، ورنہ یہ سر کی توہین ہے،اسکے بنانے والے کی توہین ہے۔لوگو! ایک خدا کو پوجو، اور اسی سے اپنی حاجتیں طلب کرو، اسی کے آگے سروں کو جھکائو،باقی سب سے منہہ موڑ لو، اپنے خالقِ حقیقی سے رشتہ جوڑ لو‘‘
ہند کے ان نامرادوں کے کانوں میں یہ صدائے دلنواز پڑی ہی تھی کہ ان کا خون خشک ہونے لگا، انہیں سمجھ نہیں آرہا تھا کہ ایسا کیسے ہو سکتا ہے کہ اس عظیم کائنات کا نظام ایک ہی شکتی کے ہاتھ میں ہو اور وہی اس کی چالک ہو، ان کی تو سمجھتوشرک و بت پرستی کی نجات سے کنداور کھٹل ہو چکی تھی۔یہ تو خواجہ اجمیری کی ہی ذات تھی کہ ان کی نجاست کو طہارت مین تبدیل کر دیا۔ آپ نے فرمایا’’اے لوگو! تمھارے مالک نے تمھیں یک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا، تم سب آدم علیہ السلام کی اولاد ہو، اور آدم علیہ السلام مٹی سے پیدا کیئے گئے،نہ تم میں کوئی اعلیٰ ہے،نہ کوئی ادنا،نہ اونچ ہے نہ نیچ،نہ کوئی شریف ہے نہ کوئی ذلیل۔ ہاں ،ہاں ،سُنو،غور سے سُنو! تم میں بہتر اور اعلیٰ وہ ہے جس کے کرم اچھّے ہیں، بحیثیت انسان تم سب آپس میں بھائی بھائی ہو۔ ارے بھائی! شریف اور ذلیل،اونچاور نیچ،اعلیٰ اور ادناہے تو کرم سے نہ کہ جنم سے۔ جنم سے تم سب یکساں ہو، اچھا یا برا،شریف یا ذلیل تمھیں تمھارے کرم بناتے ہیں نہ کہ جنم۔ خواجہ اجمیری کے جنم و کرم کے فلسفے کو سمجھنا اتنا آسان تو نہ تھا، جو لوگ برسہا برس سے منوجی کے حیوانی نظام حیات میں حیوانی زندگی گزار رہے تھے،پہلی مرتبہ یہ سماجی برابری کی بات ان کے کانوں میں پڑی تھی، وہ تو یہ سن کر ہکّا بکّا رہ گئے بھلا ایک شودر کا بچّہ برہمن کے بچّےکے برابر ہو سکتا ہے؟انھیں اپنی سماعتوں پر یقین نہیں آرہا تھا کہ ایسی ناممکن اور عقل سے پرے بات بھلا کیسے سہی ہو سکتی ہے۔ مگر قربان جائے خواجہ اجمیری کی فراست پر، ان کے طریقئہ تبلیغ پر کہ انھونےصرف اپدیش ہی نہیں دئے بلکہ عملاً ایسا سلوک اور ویوہار ان جنم کے نیچ اور کمین کہلانے والوں کے ساتھ کیا کہ سرزمینِ ہند پر ایسے سماجی برابری،محبت واخوت اورموت و مروت کے ایمان افروز مناظر چشم فلک نے اس سے پہلے کبھی نہیں دیکھے تھے۔ خواجہ اجمیری ان نامرادوں کو اپنے دسترخوان پر اپنے ساتھ بٹھاکر اپنے ہی برتنوں میں کھلا رہےہیں،اپنے سینے سے لگا رہے ہیں،ان کی نزریں قبول کر کے خود بھی کھا رہے ہیںاور اپنے خدّام کو بھی کھلا رہے ہیں،ایسا کرنےسے ان کا دھرم ناپاک نہیں ہوتا،ان کے برتن ناپاک نہیں ہوتے، وہ خود اپوتر نہیں ہوتے۔ بس پھر کیا تھا ان سب کو اپنی سماعتوں پر یقین ہونے لگا کیونکہ یہان قول و عمل میں تضاد نہ تھا، جو زبان سے کہاوہ عملاً کر کے دکھایا۔یہ تھا خواجہ اجمیری کا وہ اصف جو ہمیشہ ارباب تصوف کا طرہ امتیاز رہا ہے اور اسی سبب سے آج اسلام کا پرچم ہر سو لہرا رہا ہے۔ ابھی تو پیلا ہی سبق خواجہ نے پڑھایا تھا کہ ایک ہنگامہ برپا ہو گیا، برہمنوں اور جنم کے پوتروں کو اپنے پائوں تلے سے اقتدار کا سنگھاسن کھسکتا نظر آنے لگا، وہ تلملا اٹھے، غضب میں آگئے، اور خواجہ اجمیری کو طرح طرح کی اذیتیں دینے لگے،کبھی ان پر پانی بند کیا گیا،کبھی ین کے خیمے اکھاڑے گئے،کبھی انھیں فریضہ تبلیغ سے روکا گیا، مگر وہ مردِ مجاہد ڈٹا رہا،اسے اپنے آقا و مولیٰ ﷺ کاحکم یاد تھا،کیونکہ وہ فرستادہ نبی تھا،اپنی مرضی سے تو آیا نہیں تھا،جس نے بھیجا تھا اسی کا فیض تھا کہ خواجہ اجمیری اپنی بے لوث خدمات اور عظیم تعلیمات سے امر ہو گئے،ایسےامر ہوئے کہ آج تک ان کا آستانہ پاک مرجع خلائق بنا ہوا ہے۔
خواجہ ہند وہ دربار ہے اعلیٰ تیرا
کبھی محروم نہیں مانگنے والا تیرا
خواجہ اجمیری کے دربار کی علویت ،رفعت، عظمت کو تو ہم سر کی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں۔ ان کی بارگاہ میں عالیہ میں دست سوال دراز کرنے والا کبھی محروم نہیں۔ یہ بات کچھ ہضم نہیں ہوتی کیونکہ یہ شان تو خالقِ کاینات کی ہے جو اپنے بندوں کو دیتا ہے اور بہت دیتا ہے، مانگنےپر بھی دیتا ہے اور کبھی کبھی تو اس کی جود و عطا کا یہ عالم ہوتا ہے کہ بن مانگے دیتا ہے۔کیا اس کے سوا بھی کسی ایسی ہستی کا وجود ہے جو اس کے بندوں اور بندیوں کی حاجت روائی اور مشکل کشائی کا فریضہ انجام دے ۔۔۔۔ہاں ہے خدا کے ایسے نیک بندے جنھونے اپنے آپ کو خدا کی وحدانیئت میں اپنےآپ کو فنا کر دیا ایسے بندوں کو خداوندِ عالم یہ اختےار دیتا ہے کہ وہ مشکل کشائی،حاجت روائی کر سکیں۔ خواجہ اجمیری بھی خداوندِ عالم کے ایسے ہی نیک بندے ہیں جو خدا کی عطا سے اس کے بندوں کی حاجت روائی اور مُشکل کُشائی کرتے ہیں ۔۔۔لیکن خواجہ اجمیری کی بارگاہ میں حاضری دینے والے عقیدت مندوں کو یہ بات یاد رکھنی چاہئے کہ وہ ادب کا دامن نہ چھوڑیں اور درگاہ میں بے حرمتی اور بے ادبی سے بچیں۔اعلیٰ حضرت امامِ اہلِ سنّت امام احمد رضا فاضلِ بریلوی نے صاف لفظوں میں اہلاللّٰہ کے آستانوں پر انجام دی جانے والی غیر شرعی رسوماتکی اپنے مخصوص انداز میں بیخ کنی کی ہے۔ مزارات پر عورتوں کی حاضری سے متعلق تو انھونے باقاعدہ ایک رسالہ تصنیف کیا ہے، خواجہ اجمیری کے دیوانو! خواجہ اجمیری کے مشن کو پہچانو اور اس کو پورا کرنے کے لئے کوشاں رہو۔
सदस्यता लें
संदेश (Atom)



