सोमवार, 8 अगस्त 2011

اسکولی طالب علموں پر چھا رہا ہے بالی وڈ اور مغربیت کا اثر




جون کا مہینہ آتے ہی اسکول کھلنے کی دھوم مچ جاتی ہے۔ اسکولی طالب علم جہاں اسکول جانے کیلئے بیتاب ہوتے ہیں‘ اس سے بھی زیادہ انہیں نئی کاپیاں‘ کتابیں اور اسکول بیگ وغیرہ خریدنے کی خوشی رہتی ہے۔کیونکہ تعلیمی سال کے آغاز میں بچوں کی اصلی خوشی یہی ہوتی ہے۔ وہ نیا اسکول ڈریس‘ نئے بستے ‘ واٹر باٹل ‘ کمپاس وغیرہ پاکر خوش ہوجاتے ہیں۔ اور یہ خوشی کیا ہوتی ہے‘ اس کے بارے میں ان کے والدین بھی جانتے ہیں۔ کیونکہ کسی زمانے میں وہ بھی تعلیمی سال کے آغاز کے وقت ایسے ہی خوش ہوجایا کرتے تھے۔ لیکن کچھ سال پہلے تک اسٹیشنری کی دکانوں پر اس طرح کی نت نئی چیزیں نہیں سجی ہوتی تھیں۔ کچھ عرصہ پہلے مشترکہ خاندان یعنی جوائنٹ فیملی کا چلن عام تھا اسلئے کئی طالب علموں کو تو نئی کتابیں ملتی ہی نہیں تھیں۔ انہیں ان کے بڑے بھائیوں کی پرانی کتابیں ہی ملتی تھیں۔ لیکن یہ لوگ نئی کاپیاں ‘ کمپاس اور بستہ پاکر خوش ہوجاتے تھے۔ اس وقت ماں باپ بچوں کی کاپیاں اور کتابیں بھی خود ہی لا لیتے تھے۔ بچوں کی پسند ناپسند کو ملحوظ نہیں رکھا جاتا تھا۔ اور بچے بھی ماں باپ کی لائی ہوئی نئی چیزیں پاکر خوش ہوجاتے تھے۔
لیکن آج کل زمانہ بدل گیا ہے۔ جوائنٹ فیملی کا نظام ختم ہوتا جارہا ہے اسلئے اب بچوںکو ہر سال سبھی چیزیں نئی ہی مل جاتی ہیں۔ اسکے علاوہ اب ماں باپ بچوں کے بغیر جاکر اسکول کی چیزیں اب نہیں خریدتے ۔ کیونکہ اب اسٹیشنری کی دکانوں پر بھانت بھانت کی چیزیںموجود ہیں۔ اسلئے ماں باپ اگر کوئی چیز اپنی پسند سے لا بھی لیں‘ تو اکثر بچوںکو وہ چیزیں پسند نہیں آتیں۔ اسلئے اب اسکول کا کوئی بھی سامان خریدنا ہو‘ بچے ماں باپ کے ساتھ ہی دکانوں پر آتے ہیں اور اپنی من پسند چیز خریدتے ہیں۔ اگر ماں باپ انہیں کوئی چیز خریدنے سے منع بھی کردیں تو ضد کرکے وہ اپنی من پسند چیز حاصل کرلیتے ہیں۔ فی الحال اسٹیشنری کی دکانوں پر بچوں کی پسند پر جو چیزیںکھری اتر رہی ہیں وہ ہیں ’ہانا مونٹانا ‘ اسپائڈر مین‘ ہیری پاٹر اور پوکے مان کے اسکول بیگ‘ واٹر باٹل‘ اسٹیکر وغیرہ ہیں۔ اگر آپ اپنے بچے کو سادہ بیگ خریدنے کیلئے کہیں گے‘ یا کوئی ایسا بیگ خریدنے کیلئے کہیں گے جو مضبوط اور عمدہ ہو‘ لیکن اس پر کوئی تصویر نا ہو‘ تو ہو سکتا ہے کہ آپ کا لاڈلا یا لاڈلی فوراً نا کردے ۔ اگر انہیںڈانٹا جائے تو پھروہیں پر رونا بھی شروع ہوجاتا ہے ۔ اسلئے ماں باپ بھی بچوں کی ضد کی وجہ سے مجبور ہوکر انہیں بیکار کیوں نا ہو‘ لیکن ان کا من پسند بیگ اور دیگر چیزیں دلا ہی دیتے ہیں۔
اسکول کا سامان خریدتے وقت بچے جس طرح سے مغربی کارٹونوں سے متاثر نظر آرہے ہیں اس سے صاف ظاہر ہورہا ہے کہ‘ آہستہ آہستہ مغربیت نے ہماری زندگی میں کتنی جگہ بنالی ہے۔ ہمارے لاڈلوں کے دلوںمیں ان بیکار قسم کے کارٹون کیرکٹروں کے لئے کتنی محبت اورجنون ہے۔ ٹی وی کے ذریعے کیسے ہمارے نونہالوں کے ذہنوں کو دھیرے دھیرے کیسے متاثر کیا جارہا ہے۔ آج کے دورمیں کسی عام بچے سے اسپائڈر مین یا ہیری پاٹر کے بارے میں پوچھیں گے تو وہ اسکے بارے میں بہت کچھ بتائے گا ۔ لیکن اس سے ڈاکٹر ذاکر حسین اور سوامی وویکانند کے کے بارے میں پوچھیں گے تو شائد ہی وہ کچھ خاص بتا سکے۔ مغربی تہذیب ہمارے بچوں کو بری طرح متاثر کررہی ہے ۔ ہمارے عظیم رہنما جو ان خیالی کارٹون نما ہیرئووں سے لاکھ درجہ بہتر ہیں اور انہوں نے کئی عظیم کارنامے انجام دیئے تھے۔ لیکن بچوں کو ان کے بارے میںکچھ پتہ نہیں ۔ بچوں کے بستوں سے جو کاپیاں اوررجسٹر بھی برامد ہورہے ہیں تو ان کے اوپر شاہ رخ خان‘ ایشوریہ رائے اورنا جانے کون کونسے فلمی ستارے نظر آتے ہیں۔ اوراکثر فلمی ستارے  بیحد واہیات لباس میں نظرآتے ہیں۔ لیکن ہماری نئی نسل ان فلمی ہیرو ‘ ہیروئنوں کی پرستار بنتی جارہی ہے۔ ان کی نقالی کرنے میں ہماری نئی نسل فخر محسوس کرتی ہے۔ ایسا کیوں ہورہا ہے؟
دراصل اس سست رفتار بدلائو کیلئے سب سے زیادہ ذمہ دار ہم ہی ہیں! اس میں کوئی شک نہیں کہ‘ اسکول میں اساتذہ بھی اسکے لئے ذمہ دار ہیں۔ کیونکہ ہماری نوجوان نسل یہ نہیں جانتی کہ ہمارے بزرگوں نے کیسے کیسے عظیم کارنامے انجام دیئے ہیں۔ انہیں اس بات کی جانکاری اور احساس دلانا ضروری ہے۔ یہ صرف اسکول کے اساتذہ کا ہی کام نہیں ہے بلکہ گھرمیں طالب علموں کے سرپرست اور والدین کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ بچوں کو جھوٹی کہانیوں اور قصوں کے اثر سے بچائیں اور بالی وڈ کی بے شرم دنیا کا اثر اپنے لاڈلوں پر نا پڑنے دیں۔ کیونکہ اگر بچے کم لباس کی فلمی ہیروئن اور بغیر شرٹ کے ہیرو وکو اپنا آئیڈیل ماننے لگے تو پھر ہوچکی پڑھائی! (م۔ع۔رحیم)

शनिवार, 16 जुलाई 2011

Qayadat July 2011 issue

Qaumi Qayadat Jadeed July 2011-Front

शुक्रवार, 15 जुलाई 2011

شب برات کی حقیقت ،فضیلت اور عبادت

       شب برات کی حقیقت ،فضیلت اور عبادت
                                                                ترتیب  ۔ محّمد شاہد علی حبیبی 
شب ِ برات کے بارے میں یہ کہنا بالکل غلط ہے کہ اس کی کوئی فضیلت حدیث سے ثابت نہیں ، حقیقت یہ ہے کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے احادیث مروی ہیں جن میں نبی کریم ﷺ نے اس رات کی فضیلت بیان فرمائی ۔ ام المومنین حضرت  عائشہ صدّیقہ فرماتی ہیں کہ نبی کریم ؑﷺ کو شعبان سے زیادہ کسی مہینے میں روزہ  رکھتے ہوئے نہیں دیکھا۔ نبی کریم ﷺ  فرماتے ہیںمجھے جبرئیل  علیہ السلا م نے خبر دی کہ ماہ شعبان میں اﷲ تعالیٰ رحمت کے ۳۰۰ دروازے کھول دیتا ہے۔ حضرت انس نے بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ سے سوال کیا گیا کہ سب سے افضل نفلی روزے کون سے ماہ کے ہیں؟ آپﷺ نے فرمایا شعبان کے، فرمایا جو شخص شعبان میں تین روزے رکھتا ہے اور پھر مجھ پر صلوٰۃ و سلام پڑھتا ہے اﷲ تعالیٰ اس کے تمام پچھلے گُناہ معاف کر دیتا ہےاور اس کے رزق میں برکت عطا فرماتا ہے۔
شب برات میں عبادت :۔امت مسلمہ کے جو خیرالقرون ہیں یعنی صحابہ کرام کا دور ، تابعین کا دور، تبع تابعین کادور، اس میں بھی اس رات کی فضیلت سے فائدہ اٹھانے کا اہتمام کیا جاتا رہا ہے،لوگ اس رات میں عبادت کا خصوصی اہتمام کرتے رہے ہیں، لہٰذا اس کو بدعت کہنا، یا بے بنیاد اور بے اصل کہنا درست نہیں ، صحیح بات یہی ہے کہ یہ فضیلت والی رات ہے، اس رات میں عبادت کرنا باعث ِ اجر و ثواب ہے اور اسکی خصوصی اہمیت ہے۔ کچھ خوصوصی عبادات حسب ذیل ہیں:(۱)  بعد نماز مغرب  ۶ رکعت نماز نفل ۲۔۲ رکعت کر کے پڑھیں ،ہر ۲ رکعت کے بعد سورہ یٰسین شریف کی تلاوت کریںاس کی برکت سے انشاء اﷲ پورے سال صحت اور کاروبار،روزی مین برکت رہیگی
(۲)  ۱۲ رکعت نفل نماز اس طرح  پڑھیں کہ ہر رکعت میں سورہ فاتحہ ایک بار، سورہ اخلاص ۱۰ بار نماز سے فراغت کے بعد  تیسرا کلمہ ۱۰ بار، چوتھا کلمہ ۱۰ بار، درود شریف ۱۰۰بار پڑھیں۔(۳)  ۸ رکعت نماز اس طرح پڑھیں کہ ہر رکعت میں سورہ فاتحہ کے بعد سورہ اخلاص ۱۱ بار پڑھیں۔  جو شخص ماہ شعبان کے مکمل روزے رکھتا ہےاﷲ تعالیٰ اسے سکرات موت سے اسے نجات دیتا ہےاور وہ شخص قبر کی تاریکی اورمنکر نکیر کی دہشت و ہیبت سے محفوظ ہو جاتا ہے۔ البتہ یہ بات درست ہے کہ اس رات میں عبادت کا کوئی خاص طریقہ مقرر نہیں کہ فلاں طریقے سے عبادت کی جائے ،  بلکہ نفلی عبادت جس قدر ہوسکے وہ اس رات میں انجام دی جائے، نفل نماز پڑھیں ، قرآن کریم کی تلاوت کریں ، ذکرکریں ، تسبیح پڑھیں ، دعائیں کریں ، یہ ساری عبادتیں اس رات میں کی جاسکتی ہیں لیکن کوئی خاص طریقہ ثابت نہیں۔
شبِ برات میں قبرستان جانا:۔ اس رات میں ایک اور عمل ہے جو ایک روایت سے ثابت ہے وہ یہ ہے کہ حضور نبی کریم ﷺ جنت البقیع میں تشریف لے گئے، اب چونکہ حضور ﷺ اس رات میں جنت البقیع میں تشریف لے گئے اس لئے مسلمان اس بات کا اہتمام کرنے لگے کہ شبِ برات میں قبرستان جائیں ، ایک مسئلہ شب برات کے بعد والے دن یعنی پندرہ شعبان کے روزے کاہے، کہ شب برات کے بعد والے دن روزہ رکھو  پورے شعبان کے مہینے میں روزہ رکھنے کی فضیلت ثابت ہے لیکن 28اور29 شعبان کو حضور ﷺ نے روزہ رکھنے سے منع فرمایا ہے، کہ رمضان سے ایک دو روز پہلے روزہ مت رکھو، تاکہ رمضان کے روزوں کےلئے انسان نشاط کے ساتھ تیا ر رہے۔

बुधवार, 13 जुलाई 2011

اسلام اور دہشت گردی




دہشت گردی ایک ایسا فعل یا عمل ہےجس سے معاشرہ میں دہشت و بد امنی کا راج ہو اور لوگ خوف زدہ ہوں،وہ دہشت گردی کہلاتی ہے۔ دہشت گردی کو قرآن کریم کی زبان میں فساد فی الارض کہتے ہیں۔ دہشت گردی لوگ چھوٹے اور بڑےمقا صد کےلئے کرتے ہیں۔ اسے کوئی فرد واحد بھی انجام دے سکتا ہے اور کوئی گروہ اور تنظیم بھی۔
یہ حقیقت ا ظہر من الشمس ہے کہ دہشت گردی اور اسلام دو متضاد چیزیں ہیں۔ جس طرح رات اور دن ایک نہیں ہو سکتے، اسی طرح دہشت گردی اور اسلام کا ایک جگہ اور ایک ہونا، نا ممکنات میں سے ہے۔ لھذا جہاں دہشت گردی ہو گی وہاں اسلام نہیں ہو گا اور جہاں اسلام ہو گا وہاں دہشت گردی نہیں ہو گی۔
اسلام کے معنی ہیں سلامتی کے۔ چونکہ ہم مسلمان ہین اور امن اور سلامتی کی بات کرتے ہین۔ ‘ ہمارا دین ہمیں امن اور سلامتی کا درس دیتا ہے‘ ہم چاہتے ہیں کہ دنیا بھر کے لوگوں کو امن اور سلامتی نصیب ہو اور امن اور چین کی بنسری بجے۔ آ نحضرت صلعم دنیا میں رحمت العالمین بن کر آ ئے۔
یہ امر شک اور شبہے سے بالا ہےکہ اس وقت دنیا کا سب سے بڑا مسئلہ دہشت گردی ہے اور پاکستان دہشت گردوں کے نشانے پر ہے‘ جس کی وجہ سے پاکستان عرصہ سے دہشت گردوں کا شکار بنا ہوا ہے‘ پاکستان میں دہشت گردی کی وجہ سے بہت سارے مالی و جانی نقصانات ہوئے ہیں‘ اور ترقی کے میدان میں ہم بہت پیچہے رہ گئے ہیں۔ میرے خیال کے مطابق دہشت گردی کے عمل کو کسی بھی مذہب یا قوم کے ساتھ منسلک کرنا درست نہیں ہے۔
اسلام امن وسلامتی کا دین ہے اور اس حد تک سلامتی کا داعی ہے کہ اپنے ماننے والے کو تو امن دیتا ہی ہے نہ ماننے والے کے لیے بھی ایسے حق حقوق رکھے ہیں کہ جن کے ساتھ اس کی جان ،مال اور عزت محفوظ رہتی ہے۔طالبان اور القائدہ دہشت گردوں کا ایک گروہ ہے جو اسلام کے نفاز کے نام پر اور شریعتِ محمدی کے نام پر، لوگوں کی املاک جلا رہا ہے اورقتل و غارت کا ارتکاب کر رہا ہے۔
کسی بھی حکومت کی بنیادی ذمہ داری ملک میں امن و امان قائم رکھنا اور شہریوں کی جان و املاک کی حفاظت کرنا ہوتی ہے۔دہشت گرد، دہشت گردی کے ذریعے ملک میں امن و امان کی صورتحال پیدا کر کے اور شہریوں کے جان و مال کو نقصان پہنچا کر خوف و ہراس کی صورتحال پیدا کر دیتے ہیں تاکہ حکو مت کو دباو میں لا کرحکومت سےاپنے مطالبات منوا لیں۔
اسلام خود کشی کو حرام قرار دیتا ہے جو کہ دہشت گردی کی ایک شکل ہے۔ یہ گمراہ گروہ اسلام کے نام پر خود کش حملہ آور کی فوج تیار کر رہا ہے۔اسلام دوسروں کی جان و مال کی حفاظت کا حکم دیتا ہے یہ دوسروں کا مال لوٹنے اور بے گناہوں کی جان سے کھیلنے کو ثواب کا نام دیتے ہیں۔اسلام خواتین کا احترام سکھاتا ہے یہ دہشت گرد ،عورتوں کو بھیڑ بکریوں سے بھی برا سمجھتے ہیں۔بچیوں کے اسکول جلاتے ہیں۔
کسی بھی انسا ن کی نا حق جان لینا اسلام میں حرام ہے۔ دہشت گردی قابل مذمت ہے، اس میں دو آراء نہیں ہو سکتیں۔دہشت گردی کا کوئی مذہب نہیں یہ بھی مسلم ہے۔ اور نہ ہی کوئی مذہب اس کی اجازت دے سکتا ہے۔
اس وقت دنیا کو سب سے بڑا درپیش چیلنج دہشت گردی ہے اس پر سب متفق ہیں۔ دہشت گردی کا اسلام سے کوئی تعلق نہ ہے اور یہ قابل مذمت ہے۔ اسلام میں دہشت گردی اور خودکش حملوں کی کوئی گنجائش نہیں اور طالبان اور القاعدہ دہشت گرد تنظیمیں ہولناک جرائم کے ذریعہ اسلام کے چہرے کو مسخ کررہی ہیں۔ برصغیرسمیت پُوری دنیا میں اسلام طاقت سے نہیں،بلکہ تبلیغ اور نیک سیرتی سے پھیلاجبکہ دہشت گرد طاقت کے ذریعے اسلام کا چہرہ مسخ کررہے ہیں۔
ایک مُسلم معاشرے اور مُلک میں ایک مُسلمان دوسرے مُسلمان کی جان کا دُشمن ۔مُسلمانیت تو درکنار انسا نیت بھی اسکی متحمل نہیں ہو سکتی کہ کسی بھی بے گناہ کا خون کیا جائے۔
چند برسوں سے وطن عزیز پاکستان مسلسل خود کش حملوں کی زد میں ہے۔ بے گناہ لوگوں کا قتل اور املاک کی بے دریغ تباہی ہو رہی ہے۔ الللہ کے فرامین کو پس پشت ڈال دیا جائے اور احکام قرانی کا اتباع نہ کیا جائےتو ایسے حالات پیدا ہو جاتے ہیں کہ مسلمان آپس میں ایک دوسرے کو قتل کرنا شروع کر دیں، یہ عذاب الہی کی ایک شکل ہے۔ اللہ تعالہ فرماتاہے:  ’’جس نے کسی شخص کو بغیر قصاص کے یا زمین میں فساد (پھیلانے کی سزا) کے (بغیر، ناحق) قتل کر دیا تو گویا اس نے (معاشرے کے) تمام لوگوں کو قتل کر ڈالا۔‘‘) المائدة، 5 : 32(
کہو، وہ (اللہ) اس پر قادر ہے کہ تم پر کوئی عذاب اوپر سے نازل کر دے، یا تمہارے قدموں کے نیچے سے برپا کر دے، یا تمہیں گروہوں میں تقسیم کر کے ایک گروہ کو دوسرے گروہ کی طاقت کا مزہ چکھوا دے۔(سورۃ الانعام ۶۵)
وہ شخص جو کسی مومن کو جان بوجھ کر قتل کرے تو اس کی سزا جہنم ہے جس میں وہ ہمیشہ رہے گا۔ اس پر اللہ کا غضب اور لعنت ہے اور الللہ نے اُسکے لیے سخت عذاب مہیا کر رکھا ہے۔(سورۃ النساء۔۹۳)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے خطبہ حجۃ الوداع میں فرمایا۔
تم (مسلمانوں) کے خون، اموال اور عزتیں ایکدوسرے پر حرام ہیں، اِس دن (عرفہ)، اس شہر (ذوالحجۃ) اور اس شہر(مکہ) کی حرمت کی مانند۔ کیا میں نے تم تک بات پہنچا دی؟ صحابہ نے کہا ”جی ہاں۔
”مسلمان کو گالی دینا فسق ہے اور اس سے قتال کرنا کفر ہے۔”
مسلمان کو قتل کر دینا جہنم میں داخلے کا سبب ہے لیکن اس کا مصمم ارادہ بھی آگ میں داخل کر سکتا ہے۔
” جب دو مسلمان اپنی تلواریں لے کر ایک دوسرے سے لڑ پڑیں تو وہ دونوں جہنم میں جائیں گے۔” صحابہ نے دریافت کیا کہ اے اللہ کے رسول! ایک تو قاتل ہے (اس لیے جہنم میں جائے گا) لیکن مقتول کا کیا قصور؟ فرمایا ” اس لیے کہ اس نے اپنے (مسلمان) ساتھی کے قتل کا ارادہ کیا تھا۔”
مندرجہ آیت اور احادیث کی روشنی میں کسی مسلمان کو شک نہیں ہونا چاہیے کہ  مسلمانوں اور بے گناہ لوگوں پر خود کش حملے کرنے والے گمراہ لوگ ہیں جن کا دین اسلام کے ساتھ کوئی تعلق اور واسطہ نہیں ہے۔ ان کی یہ حرکت دشمنان اسلام اور کے لیے خوشیاں لے کر آئی ہے۔ اسلام کے دشمن چاہتے ہیں کہ جہاں کا امن تباہ کر دیا جائے اور بدامنی کی آگ بڑھکا کرمُسلمانوںکو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا جائے۔ یہ لوگ پوری انسانیت کے قاتل ہیں اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے۔ جس نے کسی انسان کو خون کے بدلے یا زمین میں فساد پھیلانے کے سوا کسی اور وجہ سے قتل کیا گویا اس نے سارے انسانوں کو قتل کر دیا اور جس نے کسی کی جان بچائی اس نے گویا تمام انسانوں کو زندگی بخش دی۔(المائدۃ۔۳۲)
تمام اہل دانش اور علمائے کرام کی ذمے داری ہے کہ وہ لوگوں کو اسلام اور جہاد کے صحیح اسلامی عقیدے سے آگاہ کریں اور انہیں طالبان اور القائدہ کے ہاتھوں میں کھلونا بننے سے بچائیں جو نہ کسی حرمت کا لحاظ کر رہے ہیں نہ قرآن و حدیث کے واضح فرامین کا پاس رکھتے ہیں ۔ قرآن و حدیث کی ان نصوص پر غور کر کے ہمیں اپنی آخرت کی فکر کرنی چاہیے۔ دُشمنوں کے ہاتھوں کھلونا بننے والوں کو بھی، اور جوش انتقام میں اندھا ہو جانے والوں کو بھی۔
ہمیں روم کے نیرو کی طرح، بنسری بجاتے ہوئے اپنے مذہبکو جلتا اور تباہ ہوتا نہیں دیکھنا چاہیے بلکہ آ گے بڑہ کر مردانہ وار اسلام کے دشمنوں کا مقابلہ کرنا چاہیے۔
سید مُحمد شاہد علی حبیبی

गुरुवार, 7 जुलाई 2011

Qaumi Qayadat Jadeed July 2011 Issue

Qayadat June-July 2011-3-4th Issue

نئے سعودی قانون کے چلتے سعودی شہریوں کیلئے غیر ملکی خواتین سے شادی کرنا ہوا مشکل ہماری دوشیزائوں کو غیر ملکی عیاشوں سے بچانے کیلئے کب بنے گا قانون؟ م۔ع۔رحیم ۔ اورنگاباد

نئے سعودی قانون کے چلتے
سعودی شہریوں کیلئے غیر ملکی خواتین سے شادی کرنا ہوا مشکل
ہماری دوشیزائوں کو غیر ملکی عیاشوں سے بچانے کیلئے کب بنے گا قانون؟
    شادیوں کو لیکرآج کل کے نوجوان کافی حساس ہوچکے ہیں۔ وہ جب تک اپنے پیروں پر کھڑے نہیں ہوتے‘تب تک شادی کے بارے میں سوچتے بھی نہیں۔ اور مقابلہ آرائی کے اس دور میں اپنے پیروں پرکھڑا رہنا بھی کوئی آسان کام نہیں۔ اب ’سیٹ ‘ ہونے کیلئے جوانی کا کافی بڑا حصہ خرچ ہونے لگا ہے اسلئے نوجوانوں میں عموماً شادیاں بھی دیر سے ہونے لگی ہے۔ سچ کہیں تو اب زیادہ تر شادیاں ’نوجوانی‘ نہیں نہیں بلکہ جوانی میں ہورہی ہے کیونکہ اپنے پیروں پرکھڑے رہتے رہتے عمر کے ۲۸؍ سے ۳۰؍ سال نکل جاتے ہیں۔ اسکے علاوہ لڑکیوں کی شادیاں بھی ’جہیز ‘ کی لعنت کے چلتے دیر سے ہورہی ہیں۔ ہمارے ہندوستان میں جہاں لڑکیوں سے جہیز لیا جاتا ہے اسکے برعکس سعودی میں شادی کیلئے لڑکوں کو ایک کثیر رقم لڑکی کے ماں باپ کو دینی ہوتی ہے۔ ان دونوں ہی معاملات میں نوجوانوں کا نقصان ہورہا ہے اور ان کی شادیاں جہاں تاخیر سے ہورہی ہیں وہیں ان کی ’گولڈن ایج‘ کے کئی سال یونہی برباد ہورہے ہیں۔
     اسلئے سعودی عرب میں بیرون ملک سے لڑکی بیاہ کر لانے کا چلن کافی بڑھ گیا تھا۔ اس سلسلے میں سعودی کے شہریوں کی پہلی پسند ہندوستان تھی جہاں کی لڑکیاں وفاداری کے معاملے میں ساری دنیا میں مشہور ہیں۔ اسلئے ہندوستان میں سعودی عرب کے کئی شہری آکر یہاں کی لڑکیوں سے شادیاں رچا لیتے تھے۔ سعودی کے باشندوں کیلئے یہاں پر شادی کرنا اسلئے بھی بیحد آسان اور سستا تھا کیونکہ یہاںپر کئی گھرانوں میں لڑکیوں کو جہیز کی لعنت کی وجہ سے بوجھ سمجھا جاتا ہے اور ان سے جلد از جلد چھٹکارہ پانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ ایسے میں کوئی غیر ملکی شخص بغیر کسی جہیز کے لڑکی سے شادی کیلئے تیار ہو‘ بلکہ کئی بار تو کچھ پیسے بھی لڑکی والوں کو دینے کیلئے تیارہو تو پھر ایسی ’آفر‘کو کون ٹھکرائے؟ اسلئے یہاںپر آکر شادی رچانے والے بھی کثیر تعداد میں موجود تھے اور شادیوں کیلئے لڑکیاں بھی بکثرت مل جاتی تھیں۔ حیدرآباد شہر تو اس معاملے میں سارے ہندوستان میں مشہور تھا۔ کئی عیاش قسم کے سعودی بوڑھے یہاں آکر شادی جیسے مقدس رشتے کو بدنام بھی کرتے رہتے تھے اور اکثر و بیشتر اخبارات میں اس قسم کے واقعات پڑھنے کو ملتے تھے۔ غیر ممالک سے دلہنیں بیاہ کر لانے کا چلن بڑھنے کی وجہ سے سعودی میں ایک نیا سماجی مسئلہ پیدا ہوگیا تھا ۔
     کیونکہ یہاںپر شادی کے قابل لڑکیاں موجود ہونے کے باوجود سعودی شہری بیرون ملک جاکر شادی کرنا چاہتے تھے۔ اسلئے اس نئے مسئلے کوحل کرنے کیلئے سعودی حکومت نے نیا قانون تشکیل دیا جس کی رو سے سعودی شہریوں کو غیر ملکی خواتین سے شادی پر پابندی عائد کردی گئی۔ اس قانون کی خلاف ورزی کرنے پر انہیں ایک لاکھ سعودی ریال بطور جرمانہ ادا کرنے ہونگے ۔ سعودی حکومت جہاں معاشرے میں شادی کے قابل لڑکیوں کی بڑھتی تعداد سے پریشان تھی‘ وہیں غیر ملکی خواتین جنہوں نے سعودی شہریوں سے شادی کی ‘ ان کی شہریت کی مانگ کو لیکر بھی نالاں تھی۔ اکثر سعودی شہریوں کی جائز بیویاں شہریت نا ہونے کے باعث اپنے شوہر سے ہزاروں میل دور اپنے اپنے ممالک میںرہنے پر مجبور ہیں۔ ایسی خواتین مطالبہ کررہی ہیں کہ انہیںسعودی کی شہریت دی جائے تاکہ وہ اپنے شوہروں کے ساتھ زندگی گذار سکیں۔اسکے علاوہ ایسی خواتین اپنے بچوں کو بھی سعودی کی شہریت دلوانے کیلئے کوشاں ہیں۔
    عیاش اور دولتمند بوڑھوں کی عیاشیوں پر روک لگانے کیلئے سعودی حکومت نے قانون میں ایک شق یہ بھی جوڑ دی ہے کہ‘ شادی کے وقت دولہا اور دولہن کی عمروں میں ۲۵؍ سال سے زیادہ کا فرق نا ہو۔ حالانکہ پچیس سال کا فرق بھی کوئی کم نہیں ‘ لیکن پھر بھی غنیمت ہے۔کیونکہ حیدرآباد میںایسے کئی واقعات گذر چکے ہیں جن میں عمر دراز عیاش اور دولتمند غیر ملکی بوڑھوں نے اپنی پوتیوں کے برابر عمر والی لڑکیوں سے شادیاں کیں اور محض چند دن‘ چند ہفتے عیاشی کرنے کے بعد انہیںطلاق دیکر ہمیشہ کیلئے چھوڑگئے۔ موجودہ قانون کا مقصد سعودی شہریوںکو بیرون ملک میںشادی کرنے سے روکنا ہے۔ لیکن اگر کوئی سعودی شہری شادی کرکے چند ہفتوں میں طلاق دیدے تو ایسے شخص کے خلاف قانون میں کسی قسم کی کاروائی نہیں کی جاسکتی۔ چونکہ سعودی حکومت آئے دن کے شہریت کے مطالبوں سے تنگ آچکی ہے اسلئے اس نے جو قانون بنایا ہے ‘اس کابنیادی مقصد شہریت کیلئے درخواستوںمیں کمی لانا ہے۔لیکن عیاش دولتمندوں کی عیاشی پر روک لگانے کیلئے بھی حکومت کو اس قانون میں گنجائش رکھنی چاہئے تھی۔شادی اور کچھ وقفے کے بعد طلاق کی وجہ سے کوئی لڑکی سعودی حکومت کو شہریت کی عرضی نہیںدے سکتی‘ اسلئے ایسا کرنے والوں کو چھوٹ مل رہی ہے۔ لیکن ایسے عیاش افراد کو ہمارے ملک کی دوشیزائوں سے کھیلنے کی اجازت نہیں ملنی چاہئے۔ اگر سعودی حکومت اپنے شہریوں کے حقوق کی حفاظت کیلئے قانون بنا سکتی ہے تو ہماری حکومت کو بھی چاہئے کہ وہ ایسا کوئی قانون بنائے جس کے چلتے ہمارے ملک کی خواتین غیر ممالک کے عیاشوں کیلئے ترنوالہ نا ثابت ہوسکیں۔
                                              (م۔ع۔رحیم ۔  اورنگاباد)

सोमवार, 20 जून 2011

خواجہ اجمیری کا مشن اور ہمارا کردار



سب سے محبت،سب کی خدمت یہ ہے خواجئہ اجمیری کی تعلیمات و فرمودات کا وہ نقتہ جس کے سبب اپنے اور بیگانے خواجہ کی عظمت اور رفعت کے گیت گاتے نظر آتے ہیں۔ سلطان الہند،عطائے رسول، غریب نواز جیسے اعزازات سے معزز خواجئہ اجمیری کی بلند پایہ اور عبقری شخصیت کی یہ سحر انگیزی ہی ہے کہ اکناف عالم سے نہ صرف خوش عقیدہ مُسلمان و مومنات بلکہ بزرگانِ دین سے عقیدہ رکھنے والے دیگر مذاہب ومکاتبِ فکر کےحاملین بھی بارگاہ خواجہ غریب نواز اجمیری میں حاضری کو باعث سعادت خیال کرتے ہیں،اجمیر کی مُقدّس دھرتی پر زیرِ زمیں محواستراحت اس صاحبِ دل اور عاشقِ صادق کی بارگاہ تقدیس و تطہیر مین اپنی اپنی عقیدتوں کا خراج پیش کرنے کے لئے غلام حاضر ہیں۔
خواجہ اجمیری اپنے وطن عزیز کو خیرآباد کہہ کرعازم ہندوستان ہوتے ہیں۔ کیونکہ ان کےمولیٰ وکریم رسول عظیم ﷺ کا یہی حکم ہے،جاو! دارالکفروالشرک کو دارلتوحید ورسالت میں تبدیل کرنے،مظلوموں کی گردنوں سے ظلم کا طوق اتارنے ، انھیں غیرانسانی نظام زندگی سے آزاد کرانے اور ایک خدا کی بارگاہ میں سر جھکانے کے لئے کوشیشیں کرو۔ خواجہ اجمیری نہیں ، نہیں ایک نورانی پیکر، قدسی صفت،ریش دراز بزرگ ہندوستان کو اپنے قدوم میمنت لزوم سے مُشرّف کرتا ہے، ذرا اس وقت کے ہندوستان پر بھی ایک نظر ڈالتے چلیں۔ بڑاہی پر آشوب عہد تھا،کفر اور شرک کی خیرات ہول سیل میں گھر گھر مین بٹ رہی تھی،بدعات وخرافات کے سیاہ بادل پورے ملک پر چھائے ہوئے تھے، حیاسوز و انسانیت کوش رسوم کا بول بالا تھا، دکھیاری عورت کی حیثیت پَیر کی جوتی سے بھی بدتر تھی،شراب و شباب کی محفلیں آراستہ و پیراستہ تھیں، غربت و افلاس سماج کی سب سے بڑی لعنت تھی، غریب کا حسن، حسن نی تھا،اس کا وصف وصف نی تھا، امیر کا عیب بھی حسن تھا، اس کا شر بھی خیر تھا ۔ سماج مین دوہرا معیار قائم تھا، برہمن کو سات خون معاف تھے تو بیچارے شودر کو برہمن کے آنگن میں تھوکنے پر اپنی زبان کٹوانے پر ہی امان ملتی تھی۔برہمن کی کنیا کو ایک نظر دیکھنے پر شودر کی آنکھیں پھوڑنے کی سزا منو جی کے آئین نے تجویز کی تھی، شودر کی جورو کو اگر کوئی برہمن اپنی حوس کا نشانہ بناتا تو یہ اس کا حق مالکانہ تھا،شودر کو اس کے خلاف زبان کھولنے کابھی حق نہ تھا، بلکہ اس کی مُکتی(نجات) کے لئے یہی کافی تھا کہ کسی برہمن کی نظر انتخاب اس کی شریک سفر پر پڑی اور اس جنم کےپوتر نے اس ناپاک شودرانی کوپوتر کر دیا۔ ایسا اس دبے کچلے سماج کا ماننا تھا۔غرض یہ کی منوجی کا غیر انسانی نظام حیات پر مشتمل آئین عملی طور پر نافذ تھا۔ایسے میں خواجہ اجمیری کا ورودِ مسعود ہندوستان کے ان دکھیون کے لئے نعمتِ غیر مترقبہ سے کم نہ تھا۔ اپنے چند ایک خادموں کے ساتھ ایک پھتے پرانے ٹات پربیٹھ کر توحید و رسالت کے اسرار ورموز،مودت و اخوت اور سماجی برادری کے آفاقی نظریات ، انہی کی زبان اور انہی کے انداز میں بیان کرنے والے خواجہ اجمیری کی من کو بھانے والی بتیاں ہی کچھ ایسی تھی کہ جو ان کی خدمت میں ایک بار آیا انہی کا ہو رہا، دین چھوڑا، سماج چھوڑا ، ریت چھوڑی،رواج چھوڑے۔ غرض یہ کہ سب کُچھ چھوڑ کر خواجہ اجمیری کے چرنوں میں حیاتِ جاودانی تلاش کرنے لگا۔ خواجہ اجمیری کی زبان سے فیض ترجمان سے نکلے ان کلمات نے سب کو محو کر کے رکھ دیا۔
’’لوگو! تمھارے پالنہارا ایک ہے، اس کا کوئی ساجھی نہیں ،نہ اس کو کسی نے جنا اور نہ وھ کیسی کو جنتا ہے۔ اسی نے تم کو پیدا لیا، وہی تم کو کھانے،پینے کو دیتا ہے، وہی زندگی دیتا ہے، وہی موت دیتا ہے، بیٹابیٹی وہی دیتا ہے، یہ بیجان پتھر جن کو تم پوجتے ہو اپنی مکھی بھی نہیں اڑا سکتے تو تمھاری حاجت روائی کیا خاک کرینگے۔ اور سُنو! یہ سر بڑاہی باعظمت ہے، یہ عظمت والا سر کسی عظمت والے ہی کے در پر جھکنا چاہئے، ہر ایرے غیرے کے مٹھ پر نہیں، ورنہ یہ سر کی توہین ہے،اسکے بنانے والے کی توہین ہے۔لوگو! ایک خدا کو پوجو، اور اسی سے اپنی حاجتیں طلب کرو، اسی کے آگے سروں کو جھکائو،باقی سب سے منہہ موڑ لو، اپنے خالقِ حقیقی سے رشتہ جوڑ لو‘‘
ہند کے ان نامرادوں کے کانوں میں یہ صدائے دلنواز پڑی ہی تھی کہ ان کا خون خشک ہونے لگا، انہیں سمجھ نہیں آرہا تھا کہ ایسا کیسے ہو سکتا ہے کہ اس عظیم کائنات کا نظام ایک ہی شکتی کے ہاتھ میں ہو اور وہی اس کی چالک ہو، ان کی تو سمجھتوشرک و بت پرستی کی نجات سے کنداور کھٹل ہو چکی تھی۔یہ تو خواجہ اجمیری کی ہی ذات تھی کہ ان کی نجاست کو طہارت مین تبدیل کر دیا۔ آپ نے فرمایا’’اے لوگو! تمھارے مالک نے تمھیں یک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا، تم سب آدم علیہ السلام کی اولاد ہو، اور آدم علیہ السلام مٹی سے پیدا کیئے گئے،نہ تم میں کوئی اعلیٰ ہے،نہ کوئی ادنا،نہ اونچ ہے نہ نیچ،نہ کوئی شریف ہے نہ کوئی ذلیل۔ ہاں ،ہاں ،سُنو،غور سے سُنو! تم میں بہتر اور اعلیٰ وہ ہے جس کے کرم اچھّے ہیں، بحیثیت انسان تم سب آپس میں بھائی بھائی ہو۔ ارے بھائی! شریف اور ذلیل،اونچاور نیچ،اعلیٰ اور ادناہے تو کرم سے نہ کہ جنم سے۔ جنم سے تم سب یکساں ہو، اچھا یا برا،شریف یا ذلیل تمھیں تمھارے کرم بناتے ہیں نہ کہ جنم۔ خواجہ اجمیری کے جنم و کرم کے فلسفے کو سمجھنا اتنا آسان تو نہ تھا، جو لوگ برسہا برس سے منوجی کے حیوانی نظام حیات میں حیوانی زندگی گزار رہے تھے،پہلی مرتبہ یہ سماجی برابری کی بات ان کے کانوں میں پڑی تھی، وہ تو یہ سن کر ہکّا بکّا رہ گئے بھلا ایک شودر کا بچّہ برہمن کے بچّےکے برابر ہو سکتا ہے؟انھیں اپنی سماعتوں پر یقین نہیں آرہا تھا کہ ایسی ناممکن اور عقل سے پرے بات بھلا کیسے سہی ہو سکتی ہے۔ مگر قربان جائے خواجہ اجمیری کی فراست پر، ان کے طریقئہ تبلیغ پر کہ انھونےصرف اپدیش ہی نہیں دئے بلکہ عملاً ایسا سلوک اور ویوہار ان جنم کے نیچ اور کمین کہلانے والوں کے ساتھ کیا کہ سرزمینِ ہند پر ایسے سماجی برابری،محبت واخوت اورموت و مروت کے ایمان افروز مناظر چشم فلک نے اس سے پہلے کبھی نہیں دیکھے تھے۔ خواجہ اجمیری ان نامرادوں کو اپنے دسترخوان پر اپنے ساتھ بٹھاکر اپنے ہی برتنوں میں کھلا رہےہیں،اپنے سینے سے لگا رہے ہیں،ان کی نزریں قبول کر کے خود بھی کھا رہے ہیںاور اپنے خدّام کو بھی کھلا رہے ہیں،ایسا کرنےسے ان کا دھرم ناپاک نہیں ہوتا،ان کے برتن ناپاک نہیں ہوتے، وہ خود اپوتر نہیں ہوتے۔ بس پھر کیا تھا ان سب کو اپنی سماعتوں پر یقین ہونے لگا کیونکہ یہان قول و عمل میں تضاد نہ تھا، جو زبان سے کہاوہ عملاً کر کے دکھایا۔یہ تھا خواجہ اجمیری کا وہ اصف جو ہمیشہ ارباب تصوف کا طرہ امتیاز رہا ہے اور اسی سبب سے آج اسلام کا پرچم ہر سو لہرا رہا ہے۔ ابھی تو پیلا ہی سبق خواجہ نے پڑھایا تھا کہ ایک ہنگامہ برپا ہو گیا، برہمنوں اور جنم کے پوتروں کو اپنے پائوں تلے سے اقتدار کا سنگھاسن کھسکتا نظر آنے لگا، وہ تلملا اٹھے، غضب میں آگئے، اور خواجہ اجمیری کو طرح طرح کی اذیتیں دینے لگے،کبھی ان پر پانی بند کیا گیا،کبھی ین کے خیمے اکھاڑے گئے،کبھی انھیں فریضہ تبلیغ سے روکا گیا، مگر وہ مردِ مجاہد ڈٹا رہا،اسے اپنے آقا و مولیٰ ﷺ کاحکم یاد تھا،کیونکہ وہ فرستادہ نبی تھا،اپنی مرضی سے تو آیا نہیں تھا،جس نے بھیجا تھا اسی کا فیض تھا کہ خواجہ اجمیری اپنی بے لوث خدمات اور عظیم تعلیمات سے امر ہو گئے،ایسےامر ہوئے کہ آج تک ان کا آستانہ پاک مرجع خلائق بنا ہوا ہے۔
خواجہ ہند وہ دربار ہے اعلیٰ تیرا
کبھی محروم نہیں مانگنے والا تیرا
خواجہ اجمیری کے دربار کی علویت ،رفعت، عظمت کو تو ہم سر کی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں۔ ان کی بارگاہ میں عالیہ میں دست سوال دراز کرنے والا کبھی محروم نہیں۔ یہ بات کچھ ہضم نہیں ہوتی کیونکہ یہ شان تو خالقِ کاینات کی ہے جو اپنے بندوں کو دیتا ہے اور بہت دیتا ہے، مانگنےپر بھی دیتا ہے اور کبھی کبھی تو اس کی جود و عطا کا یہ عالم ہوتا ہے کہ بن مانگے دیتا ہے۔کیا اس کے سوا بھی کسی ایسی ہستی کا وجود ہے جو اس کے بندوں اور بندیوں کی حاجت روائی اور مشکل کشائی کا فریضہ انجام دے ۔۔۔۔ہاں ہے خدا کے ایسے نیک بندے جنھونے اپنے آپ کو خدا کی وحدانیئت میں اپنےآپ کو فنا کر دیا ایسے بندوں کو خداوندِ عالم یہ اختےار دیتا ہے کہ وہ مشکل کشائی،حاجت روائی کر سکیں۔ خواجہ اجمیری بھی خداوندِ عالم کے ایسے ہی نیک بندے ہیں جو خدا کی عطا سے اس کے بندوں کی حاجت روائی اور مُشکل کُشائی کرتے ہیں ۔۔۔لیکن خواجہ اجمیری کی بارگاہ میں حاضری دینے والے عقیدت مندوں کو یہ بات یاد رکھنی چاہئے کہ وہ ادب کا دامن نہ چھوڑیں اور درگاہ میں بے حرمتی اور بے ادبی سے بچیں۔اعلیٰ حضرت امامِ اہلِ سنّت امام احمد رضا فاضلِ بریلوی نے صاف لفظوں میں اہلاللّٰہ کے آستانوں پر انجام دی جانے والی غیر شرعی رسوماتکی اپنے مخصوص انداز میں بیخ کنی کی ہے۔ مزارات پر عورتوں کی حاضری سے متعلق تو انھونے باقاعدہ ایک رسالہ تصنیف کیا ہے، خواجہ اجمیری کے دیوانو! خواجہ اجمیری کے مشن کو پہچانو اور اس کو پورا کرنے کے لئے کوشاں رہو۔

عطائے رسول خواجہ غریب نواز (رضی اللہ عنہ) کا مختصراً تعارف

عطائے رسول خواجہ غریب نواز (رضی اللہ عنہ) کا مختصراً تعارف
نام ۔۔۔ معین الدین حسن
ولادت ۔۔۔ موضع سنجر شہر خراساں میں 537ھ میں پیدا ہوئے۔
مخصوص خطابات ۔۔۔ نائب رسول فی الہند، سلطان الہند، عطائے رسول، غریب نواز، ہندالولی، خواجہ خواجگان، خواجہ اجمیر، سلطان سنجر
وصال ۔۔۔ 6/ رجب 633ھ
مدفن ۔۔۔ اجمیر شریف
والد ماجد ۔۔۔ حضرت سید غیاث الدین حسن
والدہ محترمہ ۔۔۔ بی بی ام الورع (مگر بی بی ماہ نور سے مشہور تھیں)
ولادت : سلطان الہند، عطاء رسول، خواجہ خواجگان حضرت معین الدین حسن چشتی سنجری رضی اللہ تعالٰی عنہ موضع سنجر خراسان 537ھ میں پیدا ہوئے۔ آپ کے والد ماجد کا اسم گرامی حضرت غیاث الدین حسن ہے۔ یہ آٹھویں پشت میں عارف حق موسٰی کاظم علیہ الرحمۃ کے پوتے ہوتے ہیں۔
والدہ محترمہ کا نام بی بی ام الورع ہے اور بی بی ماہ نور سے مشہور تھیں جو چند واسطوں سے حضرت امام حسن رضی اللہ تعالٰی عنہ کی پوتی تھیں۔ اس لئے آپ والدہ کی طرف سے حسینی اور والدہ کی طرف سے حسنی سید ہیں۔
نسب نامہ پدری یہ ہے : حضرت خواجہ معین الدین حسن چشتی بن خواجہ غیاث الدین بن خواجہ نجم الدین طاہر بن خواجہ سید ابراہیم بن سید ادریس بن امام موسٰی کاظم بن جعفر صادق بن محمد باقر بن زین العابدین بن سیدنا امام حسین بن امیر المومنین حضرت مولٰی علی کرم اللہ وجہہ الکریم رضی اللہ تعالٰی عنہ
نسب نامہ مادری یہ ہے : بی بی ام الورع بنت حضرت سید داؤد بن عبداللہ جنبل بن زاہد بن محمد موسٰی بن سید عبداللہ مخفی بن حسن مثنٰی بن سیدنا امام حسین بن امیر المومنین حضرت سیدنا علی رضی اللہ تعالٰی عنہ
تعلیم و تربیت : ابتدائی تعلیم گھر پر ہوئی۔ آپ کے والد بزرگوار حضرت غیاث الدین حسن ایک بڑے جید عالم تھے۔ خواجہ صاحب نے نو سال کی عمر میں قرآن مجید حفظ فرما لیا اور اس کے بعد سنجر کے ایک مکتب میں داخلہ ہوا۔ آپ نے یہاں ابتدائی طور سے تفسیر، فقہ اور حدیث کی تعلیم پائی اور تھوڑی ہی عرصے میں آپ نے تمام علوم میں مہارت حاصل کرلیا۔
سیدنا غوث اعظم سے آپ کا تعلق : مسالک السالکین سے پتہ چلتا ہے کہ خواجہ غریب نواز اور سیدنا غوث اعظم رضی اللہ تعالٰی عنہما آپس میں خالہ زاد بھائی ہیں۔ اور سیرالاقطاب سے معلوم ہوتا ہے کہ خواجہ غریب نواز ایک رشتے سے حضرت غوث پاک کے ماموں ہوتے ہیں۔ (مسالک السالکین صفحہ 271، 272، سیر الاقطاب صفحہ107)
خطابات و القاب : مخصوص اور مشہور خطاب یہ ہیں:۔ نائب رسول فی الہند، سلطان الہند، عطائے رسول، غریب نواز، ہندالولی، خواجہ خواجگان، خواجہء اجمیر، سلطان سنجر۔ اور القاب یہ ہیں :۔ قدوۃ الاولیاء، مخزن معرفت، دلیل العارفین، برہان الواصلین، تاج العاشقین، سید العادین، تاج المقربین، سلطان العارفین، قطب دوراں، معین الملت والدین، امما شریعت و طریقت، واقف اسرار، صوری و معنوی، معین الحق۔
شجرہء بیعت : پندرہ واسطوں سے امام الاولیاء حضرت مولٰی کرم اللہ وجہہ الکریم تک آپ کا شجرہ ملتا ہے۔ معین الدین از خواجہ عثمان ہارونی از حاجی شریف خدندنی چشتی از قطب الدین مودور چشتی از خواجہ ناصر الدین ابو یوسف چشتی از خواجہ ابو محمد چشتی از خواجہ ابدال چشتی از خواجہ ابو اسحاق چشتی از خواجہ ممشاد علادنیوری از شیخ امین الدین بصری از شیخ سدید الدین حذلقۃ المرعشی از سلطان ابراہیم ادہم بلخی از خواجہ فضیل بن عیاض از خواجہ عبدالواحد بن زید از حضرت حسن بصری از شہنشاہ ولایت حضرت علی۔ (رضی اللہ تعالٰی عنہ)
چشتی کی وجہ تسمیہ : حضرت خواجہ ابو اسحاق شامی بیعت کرنے کی غرض سے گئے۔ خواجہ ممشاد دنیوری نے آپ کو بیعت ارادت سے مشرف کرنے کے بعد فرمایا؛۔ تیرا نام کیا ہے ؟ عرض کیا۔ اس عاجز کو ابو اسحاق کہتے ہیں۔ یہ سن کر خواجہ ممشاد علاد دینوری نے فرمایا۔ آج سے ہم تجھے ابو اسحاق چشتی کہیں گے اور جو تیرے سلسلہء ارادت میں قیامت تک داخل ہوگا وہ چشتی کہلائے گا۔
ابو اسحاق شامی اپنے پیر کے فرمان کے مطابق “چشت“ تشریف لاکر رشد و ہدایت میں مصروف ہوگئے۔ چنانچہ خواجہ معین الدین کے پیران عظام میں سے ہیں اس وجہ سے حضرت خواجہ بھی چشتی مشہور ہوئے۔ (احسن السیر و مسالک السالکین)
ازواج و اولاد : سرکار دو عالم نے خواب میں فرمایا۔ اے معین الدین ! تو ہمارے دین کا معین ہے۔ تجھے شادی کرنا چاہئیے۔ اس فرمان نبوی کے مطابق پہلی شادی بی بی امتہ اللہ سے کی۔ 590ھ میں جن کے بطن سے خواجہ فخرالدین، خواجہ حسام الدین اور بی بی حافظ جمال پیدا ہوئیں۔ دوسری شادی سید وجیہہ الدین شہدی کی صاحبزادی عصمت اللہ سے ہوئی۔ 620ھ میں آپ کے بچن سے شیخ ابو سعید پیدا
خواجہ فخر الدین ابو الخیر : خواجہ صاحب کے سب سے بڑے صاحبزادے 591ھ میں پیدا ہوئے۔ ذریعہ معاش زراعت تھی۔ آپ نے علوم ظاہری و باطنی حاصل کیا۔ بتاریخ 5 شعبان المعظم 661ھ میں واصل بحق ہوئے۔ مزار شریف سرواڑ شریف میں ہے۔ ہر سال عُرس ہوتا ہے۔
خواجہ حسام الدین ابو صالح : آپ خواجہ صاحب کے دوسرے صاحبزادے ہیں۔ زندگی ہی میں لوگوں کی نظروں سے غائب ہوکر ابدالوں میں شامل ہوگئے۔
بی بی حافظ جمال : خواجہ صاحب کی اکلوتی صاحبزادی ہیں۔ آپ کی شادی قاضی حمیدالدین ناگوری کے صاحبزادے شیخ رضی الدین عرف عبداللہ سے ہوئی۔ مزارِ مبارک خواجہ صاحب کے پائیں میں واقع ہے۔
خواجہ ضیاء الدین ابو سعید : خواجہ صاحب کے سب سے چھوٹے صاحبزادے تھے۔ آپ کی عُمر پچاس سال ہوئی۔ آپ کا مزار اپنے والد کی درگاہ میں لب جھالرہ سایہ گھاٹ پر زیارت گاہ خاص و عام ہے۔

خواجہ صاحب کی زندگی
نہادت سادی تھی۔ آپ نے صفات بشری ترک فرما کر روحانیت میں کمال حاصل کیا۔ آپ کے پیرو مُرشد خواجہ عثمان ہارونی کو آپ کی مُریدی پر بڑا ناز تھا۔ وہ فرمایا کرتے تھے۔
ہمارا معین خدا کا محبوب ہے۔ مجھے اس کی مُریدی پر فخر ہے۔ آپ نے سرکار دو عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کے نقش قدم پر چلنا اپنا اُصول بنا رکھا تھا۔ سنت رسول کے پابند تھے۔ آپ فنافی الرسول کے درجہ پر تھے۔ آپ کا کُل وقت ریاضت و مجاہدہ اور عبادت میں گزرتا تھا۔ آپ اکثر باوضو رہتے تھے۔ اور عشاء کے وضو سے فکر کی نماز ادا کرتے تھے۔ دن رات میں قرآن پاک ختم کرتے تھے۔
آپ کی مُرید نوازی بہت مشہور ہے۔ مُریدوں کا خیال بے حد رکھتے تھے۔ آپ کا فرمان اعلٰی ہے کہ معین الدین اس وقت تک جنت میں قدم نہیں رکھے گا جب تک اپنے مُریدوں اور مُریدوں کے مُریدوں کو جو قیامت تک سلسلے میں ہوں گے جنت میں نہ لے جائے گا۔ آپ پر استغراق کی کیفیت رہتی۔ آنکھیں بند رکھتے۔ جب نماز کا وقت ہوتا آنکھیں کھولتے۔ اس وقت آپ کی یہ حالت ہوتی کہ جس شخص پر بھی نظر پڑتی وہ ولی کامل ہو جاتا۔ آپ قطب وحدت پر فائز تھے۔ آپ مرتبہ محبوبیت پر پہنچ گئے تھے۔ احدیت میں فنا ہوکر آپ دوست کے ساتھ ایک رنگ ہو گئے تھے۔

اخلاق و عادات
نہایت تحمل و برباد تھے۔ خطا معاف فرما دیتے۔ بے حد سخی تھے۔ غریبوں اور محتاجوں کی ہر طرح سے امداد کرتے۔ بھوکوں کو کھانا کھلاتے بیماریوں کی خبر گیری کرتے۔ مظلوموں کو ظالم کے پھندے سے نکالتے۔ آپ حلیم اور منکسر المزاج تھے۔

لباس اور کھانا
لباس سادہ تھا کپڑا پر خود پیوند لگا لیتے تھے۔ آپ کی خوراک بہت کم تھی۔

علمی شغل
آپ ایک خدا رسیدہ بزرگ ہونے کے ساتھ ساتھ ایک باکمال مبلغ و مصلح، صاحب طرز مصنف اور خوش گو شاعر تھے۔ مندرجہ ذیل تصنیفات آپ کے ذوق علمی پر شاہد ہیں:۔
(1) انیس الارواح (2) کشف الاسرار (3) گنج الاسرار (4) رسالہ تصوف منظوم (5) رسالہ آفاق و انفس (6) حدیث المعارف (7) رسالہ موجودیہ ( 8 ) دیوان معین۔



حضرت شداد بن اوس سے روایت ہے کہ" موت دنیا کی اور آخرت کی ہولناکیوں میں سب سے زائد ہولناک ہے یہ آروں کے چیرنے سے، قینچیوں کے کاٹنے سے، ہانڈیوں کے ابالنے سے زائد ہے۔ اگر مردہ زندہ ہوکر موت کی سختی لوگوں کو بتادیتا تو ان کا عیش اور نیند سب کچھ ختم ہوجانا"۔ (ابن ابی الدنیا) شرح الصدور ص35)

مدینہ تجھے سلام

शुक्रवार, 27 मई 2011

Qaumi Qayadat Jadeed 2nd Issue May 2011

Qayadat May 2011-2nd Issue

गुरुवार, 5 मई 2011

ماہنامہ قومی قیادت جدید اپریل ٢٠١١ پہلا شمارہ


Qayadat April 2011 New 1 Full

मंगलवार, 3 मई 2011

ملعون امریکی پادری کا قرآن مجید کو (نعوذباللہ) جلانے کا اعلان پوری امت مسلمہ حرمت قرآن و رسولﷺ پر کٹ مرنے کو تیار ہے


ملعون امریکی پادری کا قرآن مجید کو (نعوذباللہ) جلانے کا اعلان
پوری امت مسلمہ حرمت قرآن و رسول پر کٹ مرنے کو تیار ہے


   از          مولانا صابر القادری خطیب و امام مدینہ مسجد، ٹرانزٹ کیمپ،دھارا و  ممبئی۔۱۷

امریکہ پہلے ہی دنیا میں نفرت کی علامت بن چکا ہے اور اگر اب اوبامہ انتظامیہ کی ڈھیل سے ٹیری جونز جیسے ملعون کو اہانت قرآن کی ہلہ شیری مل گئی تو اس خودساختہ مہذب معاشرے کے پتھر کے زمانے کی جانب لوٹنے میں بھی کوئی دیر نہیں لگے گی
چرچ آف فلوریڈا کے عیسائی مبلغ ٹیری جونز کی جانب سے نائن الیون کے واقعہ کے تناظر میں قرآن مجید کو نعوذباللہ جلانے کے اعلان نے دنیا بھر کے مسلمانوں میں زبردست اشتعال پیدا کر دیا ہے  اگر فلوریڈا میں مسلمانوں کی مقدس کتاب قرآن مجید کو (نعوذباللہ) جلانے کے منصوبے پر عمل کیا گیا،تو اسکے بیرون ملک امریکی فوجیوں کی سلامتی پر انتہائی خطرناک اثرات مرتب ہو سکتے ہیں،جبکہ اس سے افغانستان میں ہماری امن کی مجموعی کوششوں کو بھی نقصان پہنچ سکتا ہے۔انہوں نے امریکی انتظامیہ کو باور کرایا کہ یہ دنیا بھر میں امریکہ کے اسلامی کمیونٹی سے تعلقات کیلئے بھی دھچکا ثابت ہو گا۔دریں اثناء جنرل پیٹریاس کے نائب لیفٹیننٹ جنرل ولیم کیلڈول نے بھی واضح کیا کہ اس اقدام سے افغانستان میں امریکی فوج کے اہلکاروں کی سلامتی سخت خطرے میں پڑ سکتی ہے۔ٹیری جونز کے اس مذموم منصوبے پر عملدرآمد کو رکوانے کیلئے فلوریڈا میں اسلام،عیسائیت،یہودیت اور ہندومت کے پیروکاروں نے 10 ستمبر کی رات ایک خصوصی اجتماع برائے امن کا اہتمام کیا ہے،جبکہ ٹیری جونز اپنی ہٹ دھرمی پر قائم ہے،جس کے بقول اسلام اور شریعت ہی نائن الیون کے واقعہ کی ذمہ دار ہے۔وائٹ ہائوس کی جانب سے بھی امریکی ملعون پادری ٹیری جونز کی اس مذموم سازش پر تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔
بے شک قرآن مجید کی حفاظت خدائے بزرگ و برتر نے اپنے ذمہ لی ہوئی ہے اور کسی ملعون سرکش پادری کی گستاخانہ حرکت سے اس الہامی کتاب کی حرمت و تقدس میں کوئی کمی ہو سکتی ہے،نہ قرآن کی تعلیمات کو چار دانگِ عالم میں پھیلنے سے روکا جا سکتا ہے۔قرآن مجید لاکھوں کروڑوں فرزندان توحید کے سینوں میں محفوظ ہے اور یہ آفاقی دین کی وہ روشنی ہے،جس سے دین و دنیا کی فلاح کی ضمانت مل رہی ہے۔حضرت نبی ٔ آخرالزمان صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر نازل ہونے والا یہ صحیفۂ آسمانی درحقیقت ایک مکمل ضابطہ حیات ہے اور بندے کے خدا سے تعلق کی سیڑھی ہے۔جس میں کسی قسم کی ترمیم و تحریف کی کسی کو جرأت ہوئی ہے،نہ رہتی دنیا تک کوئی ایسی گستاخی کا مستوجب ہو سکتا ہے۔بطور مسلمان اور بطور حضور سرورِ کائنات صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے امتی ہمارا عقیدہ ہے کہ جو بھی بدبخت توہینِ قرآن یا شانِ رسالتﷺ  میں گستاخی کا سوچے گا،تباہی و بربادی اور ہمیشہ کی رسوائی اس کا مقدر ہو گا،مگر حرمتِ قرآن کا تحفظ مسلمانوں کا مذہبی فریضہ ہے،اس لئے کوئی بھی مسلمان چاہے وہ دنیا کے کسی بھی کونے میں کیوں نہ موجود ہو،گستاخانِ قرآن و رسالت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کیفرکردار تک پہنچانے کا خود کو پابند سمجھتا ہے،کیونکہ بطور مسلمان ہمارا عقیدہ ہے کہ حرمت قرآن و رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر کٹ مرے بغیر ہمارا ایمان مکمل نہیں ہو سکتا،اس لئے ٹیری جونز جیسے ملعون کا ناپاک وجود کون مسلمان ہو گا جو برداشت کریگا؟اگر یہ ملعون اپنی اس ناپاک سازش کے تحت عالمی امن اور مذہبی ہم آہنگی کو تاراج کرنے کی نیت رکھتا ہے تو خود اوبامہ انتظامیہ کو اسکی سرکوبی کرنی چاہیے اور اس گند سے اپنی دھرتی کو پاک کر لینا چاہیے،ورنہ اسکی مذموم حرکت سے پوری دنیا میں طوفان کھڑا ہو جائیگا اور نائن الیون جیسا کوئی دوسرا واقعہ تو معمولی اقدام ہو گا،پورے امریکہ کی اینٹ سے اینٹ بج سکتی ہے۔
اوبامہ کے پیشرو جنونی بش نے تو نائن الیون کے خودساختہ واقعہ کی آڑ میں مسلم امہ کیخلاف باقاعدہ صلیبی جنگ شروع کر دی تھی،جس کا انکی اپنی زبان سے اظہار ہوا،چنانچہ انسانی حقوق کے اس نام نہاد چیمپئن کے ہاتھوں اس خطہ میں دہشت گردی کے خاتمہ کی آڑ میں جن ننگِ انسانیت جرائم کا ارتکاب ہوا ہے اور شرفِ انسانیت کی دھجیاں بکھیری گئی ہیں،اسکی بنیاد پر امریکہ پہلے ہی دنیا میں نفرت کی علامت بن چکا ہے اور اگر اب اوبامہ انتظامیہ کی ڈھیل سے ٹیری جونز جیسے ملعون کو اہانت قرآن کی ہلہ شیری مل گئی تو اس خودساختہ مہذب معاشرے کے پتھر کے زمانے کی جانب لوٹنے میں بھی کوئی دیر نہیں لگے گی۔ امریکی ویب،ماسٹر وکی لیکس نے پہلے ہی دنیا میں دہشت گرد برآمد کرنے والا مکروہ امریکی چہرہ بے نقاب کر دیا ہے اور دنیا پر واضح ہو چکا ہے کہ عالمی امن کے تحفظ کا راگ الاپتے ہوئے امریکہ خود ہی عالمی امن کے درپے ہے۔چنانچہ عالمی برادری اب اسی تناظر میں امریکہ کے ساتھ تعلقات کے معاملات کا ازسرنو جائزہ لے رہی ہے۔اس حوالے سے عالمی برادری میں پہلے ہی اسکی تنہائی کا اہتمام ہو رہا ہے۔اگر ملعون ٹیری جونز کی ناپاک سازش پر عملدرآمد ہو گیا تو امریکہ مہذب انسانی معاشرے کی فہرست سے بھی خارج ہو جائیگا۔مسلمانانِ عالم تو بلاشبہ حرمتِ قرآن و رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر کٹ مرنا جانتے ہیں،وہ ملعون ٹیری جونز کے ہوش ٹھکانے لگا دینگے،مگر اوبامہ انتظامیہ کو خود بھی عقل کے ناخن لینے چاہئیں کہ اس کا ایک شہری اسلام دشمنی کے جنون میں عالمی برادری میں پورے امریکہ کی سلامتی کو دائو پر لگا رہا ہے،تو اسے کیوں نہ اسکی ناپاک حرکت سے پہلے ہی نکیل ڈالی جائے،اس لئے امریکی صدر کو جن کیلئے انکے خاندان کے اسلامی پس منظر میں مسلمانانِ عالم نرم گوشہ رکھتے تھے،کم از کم امریکی نیٹو افواج کے کمانڈر جنرل پیٹریاس کی وارننگ کی جانب ہی توجہ دے لینی چاہیے،کیونکہ ٹیری جونز کی مذموم حرکت بیرونی دنیا میں صرف امریکی فوجیوں کیلئے نہیں،تمام امریکی باشندوں کی سلامتی کیلئے سنگین نتائج کا باعث بنے گی اور امریکہ کے اندر نائن الیون جیسے واقعات کسی حساب کتاب میں بھی نہیں رہیں گے۔کیا یہ سازش عالمی امن کو تہس نہس کرنے کے مترادف نہیں ہے؟پھر امریکہ کس منہ اور کس زبان سے نائن الیون جیسے واقعات کا ملبہ مسلم امہ پر ڈال کر ان پر دہشت گردی کا لیبل لگوائے گا؟اس لئے اب وقت آگیا ہے کہ صرف ملعون ٹیری جونز کو ہی نکیل نہ ڈالی جائے،ایسی ہذیانی کیفیت میں مبتلا ہر ملعون کے ہوش ٹھکانے پر لگائے جائیں اور ویب سائٹس،فیس بک اور یوٹیوب کے ذریعے توہین قرآن و رسالت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بطور فیشن اپنانے اور فروغ دینے والے تمام بدبختوں کا قلع قمع کیا جائے۔حکومت پاکستان کو بھی ملعون ٹیری جونز کے ناپاک ہاتھ رکوانے کیلئے اوبامہ انتظامیہ پر بھرپور دبائو ڈالنا چاہیے اور انہیں ایسی گستاخی کے سنگین نتائج سے آگاہ کرنا چاہیے۔ملت اسلامیہ تو حرمتِ قرآن و رسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم پر کٹ مرنے کیلئے ویسے ہی تیار بیٹھی ہے،منکرین قرآن و اسلام کو سوچ سمجھ کر قدم اٹھانا چاہیے،تمام الہامی کتب کا تحفظ مسلمانوں کے تو ایمان کا حصہ ہے،اگر وہ دوسری الہامی کتب کی اہانت برداشت نہیں کر سکتے،تو قرآن مجید کی توہین کیسے برداشت کر پائیں گے؟

बुधवार, 20 अप्रैल 2011

اب مجھے ہجر بھی یاروں کی طرح لگتا ہے



جھلملاتے ہوئے تاروں کی طرح لگتا ہے
تو مجھے اجلے نظاروں کی طرح لگتا ہے

ڈال دیتے ہیں کئی درد کٹاؤ اس میں
دل بھی دریا کے کناروں کی طرح لگتا ہے

بے یقینی ہے کہ رہتے ہیں سراب آنکھوں میں
فائدہ مجھ کو خساروں کی طرح لگتا ہے

زندگی جس نے گزاری ہو خوشی میں ساری
اسکو اک غم بھی ہزاروں کی طرح لگتا ہے

بعض اوقات محبت کی تپش میں مجھ کو
عشق بھی جلتے چناروں کی طرح لگتا ہے

مل گئی قرب مسلسل میں طبیعت اس سے
اب مجھے ہجر بھی یاروں کی طرح لگتا ہے
اعجاز توکّل

शुक्रवार, 15 अप्रैल 2011

امریکی ’’مفادات‘‘ کے لئے بحرین میں قتل عام جائز؟


امریکی ’’مفادات‘‘ کے لئے بحرین میں قتل عام جائز؟


محمد احمد کاظمی 
شمالی افریقہ اور مشرقی وسطیٰ میں حالات بدستور کشیدہ ہیں۔ تیونیشیا اور مصر میں عوامی انقلاب کی کامیابی کے بعد لیبیا ،بحرین، یمن، اومان، اردن اور کسی حد تک سعودی عرب میں عوام حکمرانوں کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔ عوامی بیداری کے نتیجہ میں سب سے زیادہ متاثر ہونے والے حکمرانوں اور ان کے سیاسی آقاؤں امریکہ اور اسرائیل کی کوشش ہے کہ حکومتوں کی تبدیلی کا عمل ان ممالک میں کامیاب ہو جہاں وہ چاہتے ہیں یا جہاں کے حالات اب قابو سے باہر ہو چلے ہیں۔ لیبیا میں امریکہ اور اس کے اتحادی ناٹو ممالک نے معمر قذافی حکومت کے خلاف بمباری جاری رکھی ہوئی ہے جبکہ بحرین اور یمن میں عوامی انقلابات کو دبانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ بحرین اور یمن میں امریکہ اور اسرائیل کی اس خواہش کو پورا کرنے میں سعودی عرب تعاون دے رہا ہے۔ بحرین میں سعودی افواج براہ راست عوامی انقلاب کچلنے میں الخلیفہ حکومت کا ساتھ دے رہی ہیں جبکہ یمن میں سعودی خفیہ ایجنسیاں اور ماہرین علی عبد اللہ صالح حکومت کو بچانے کی جی توڑ کوششیں کر رہے ہیں۔
لندن سے شائع ہونے والے اخبار ٹیلی گراف نے امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان ہوئے ایک حالیہ سمجھوتے کا انکشاف کیا ہے جس کے تحت وہ لیبیا اور بحرین میں عوامی قتل عام میں ایک دوسرے کا تعاون کر رہے ہیں۔ اس کے تحت سعودی عرب لیبیا میں امریکہ اور اس کے اتحادی ممالک کے ذریعہ کئے جا رہے حملوں کی حمایت کرے گا۔اس کے بدلے میں امریکہ اور اس کے اتحادی ممالک بحرین میں الخلیفہ حکومت اور خلیجی تعاون کونسل اراکین کے ذریعہ عوامی انقلاب کو کچلنے کی کارروائیوں پر خاموش رہیں گے۔ اخبار نے سعودی حکام کے ذرائع سے لکھا ہے کہ انھوں نے مغربی ممالک کی لیبیا پر کی جا رہی کارروائی کی حمایت اس شرط پر کی ہے کہ وہ بحرین حکومت کے ذریعہ عوامی اطلاعات کے مطابق کویت میں بھی تین وزراء کے خلاف بدعنوانی کے الزامات کے نتیجہ میں سیاسی بحران پیدا ہو گیا ہے اور حکومت کو استعفیٰ دیناپڑا ہے۔
میں نے اس خطہ میں اکثر ممالک کے ایک سے زیادہ سفر کئے ہیں۔ عوام کے جذبات کو نزدیک سے سمجھنے کا موقع ملا ہے۔ عراق اور افغانستان میں امریکی جارحیت، اسی کی حمایت کے نتیجہ میں اسرائیلی مظالم کے جاری رہنے اور ان تمام واقعات سے پر اپنی حکومتوں کی خاموش حمایت کی وجہ سے عوام میں بے حد غصہ ہے۔ شمالی افریقہ اور اکثر عرب حکومتوں نے اپنے قومی مسائل کو امریکہ اور ان کے اتحادیوں کے دربار میں گروی رکھا ہوا ہے۔وہ اپنی شرائط پر ان ممالک کے قدرتی وسائل کا استحصال کرتے ہیں۔عوام کو غریب اور جاہل سازشی طور پر رکھا گیا ہے۔ یہ ممالک مغربی اشیاء کے لئے محض بازار بن کر رہ گئے ہیں۔ ان ممالک میں جو تعلیم یافتہ طبقے کے لوگ ہوتے ہیں انہیں خطے میں کشیدگی پھیلا کر اپنے ممالک میں پناہ لینے پر مجبور کیا جاتا ہے۔ یعنی ان ممالک کے قدرتی اور انسانی وسائل کا مغربی ممالک پوری طرح سے استحصال کرتے ہیں۔
بہرحال اب اکثر ممالک میں اپنے حقوق کے تئیں بیداری پیدا ہو رہی ہے۔ انقلاب کی اس چنگاری کو ختم کرنا فی الحال نا ممکن نظر آ رہا ہے۔ صرف فرق یہ ہے کہ جن ممالک میں بھی امریکہ کو تبدیلی اپنے حق میں نظر آ رہی ہے وہاں مخالفین کی حمایت کی جا رہی ہے۔ جہاں مغربی ممالک انقلابیوں کی مدد نہیں کر رہے وہاں انسانی اور مالی نقصان زیادہ ہوگا۔ آخر کار ظالم اور سازشی طاقتوں کو ناکام ہونا ہے اور عوام کو ان کے حقوق مل کر رہیں گے۔ انقلاب کے خلاف کی جا رہی کارروائیوں پر خاموش رہے سعودی عرب نے بحرین میں حکومت مخالف احتجاجیوں کو کچلنے کے لئے 1000مسلح فوجی بھیجے ہوئے ہیں جبکہ کویت ، اومان اور متحدہ عرب امارات نے بھی بحرین کو فوجی امداد دی ہوئی ہے۔ لیبیا پر امریکہ اور اس کے اتحادی یوروپی ممالک فضائی پابندیاں عائد کرنے کے لئے 350جنگی جہازوں سے حملے کر رہے ہیں۔ لیبیا کی معمر قذافی حکومت نے ان ممالک پر شہریوں کے خلاف حملوں کا الزام لگایا ہے۔ حالانکہ امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے ذریعہ شروع کئے گئے ہوائی حملوں سے پہلے قذافی حکومت نے کم از کم 10ہزار شہریوں کا قتل کیا ہے۔ بین الاقوامی سیاسی ماہرین کا کہنا ہے کہ لیبیا پر ہوائی حملوں کے پیچھے امریکہ کا مقصد وہاں کے تیل ذخائر پر قبضہ کرنا ہے۔
بحرین میں14فروری کو شروع ہوئے الخلیفہ حکومت کے خلاف احتجاجوں میں اب تک درجنوں افراد قتل کئے جا چکے ہیں جبکہ سینکڑوں زخمی اور لاپتہ ہیں۔ جب سے سعودی اور دیگر عرب ممالک کی افواج بحرین پہنچی ہیں تب سے تمام گائوں اور قصبوں تک میں مخالفین کو ایک ایک کر کے زد و کوب کیا جا رہا ہے۔ بحرین میں سب سے بڑی شیعہ جماعت الوفاق کے پاس 112ایسے افراد کی فہرست موجود ہے جو سیکورٹی دستوں کے ہاتھوں غائب ہوئے ہیں اور ان کا شمار مارے جانے والوں یا زخمیوں میں نہیں کیا گیا ہے۔ ان کے علاوہ تقریباً 100افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔
بحرین میں امریکہ کا پانچواں فوجی بیڑا موجود ہے جو کہ اس خطے میں امریکہ کے تمام عزائم کو پورا کرنے میں مدد فراہم کرتا ہے۔ حال ہی میں واشنگٹن میں واقع خلیجی امور کے ادارہ کے سربراہ علی احمد نے ایک ٹیلی ویژن انٹر ویو کے دوران اعتراف کیا تھا کہ اگر بحرین میں عوامی انقلاب کامیاب ہوا تو امریکہ کو یہ فوجی مرکز چھوڑنا پڑے گا کیونکہ اس نے الخلیفہ حکومت کی حمایت کی ہے۔
اس وقت حال یہ ہے کہ بحرین حکومت نے احتجاج کو دبانے کے لئے فوجی طیارے تیار رکھے ہیں۔ جمعہ کو تمام پابندیوں کے باوجود عوام کئی مقامات پر بڑے احتجاج منعقد کر رہے ہیں۔ البتہ منا ما کے پرل اسکوائر پر حکومت نے فوج اور پولس تعینات کی ہوئی ہے تاکہ یہاں مخالفین اکھٹے نہ ہو سکیں۔ لندن میں مقیم بحرین فریڈیم مومنٹ کے رہنماسعیدشہابی نے حال ہی میں کہا تھا کہ اس وقت بحرین میں فوجی حکومت ہے جو احتجاجیوں کو کچلنے کے لئے ہر ممکنہ قدم اٹھا رہی ہے۔ ان کے مطابق بحرین کی فوج اس وقت ملک بھر میں اسپتالوں اور میڈیا پر قابض ہے اور غیر معمولی قانونی پابندیاں نافذ کئے ہوئے ہے۔
ادھر بحرین میں سعودی عرب کی فوجیں بھیجنے کے خلاف سعودی عرب میں ہی مخالفت میں تیزی آ رہی ہے۔ مشرقی صوبے میں شیعہ اکثریتی شہروں قطیف، احساء اور کئی دیگر مقامات پر سیاسی قیدیوں کی رہائی اور بحرین سے فوجیں واپس بلانے کے مطالبے کے حق میں ہونے والے احتجاجوں میں بڑی تعداد میں لوگ شریک ہو رہے ہیں۔
ادھر لیبیا میں امریکہ اور اس کے اتحادی ناٹو ممالک کے ذریعہ کئے جا رہے حملوں کی مدد سے انقلابیوں نے اجدابیہ،بریگہ اور کئی دیگر شہروں پر قبضہ کر لیا ہے۔ تیل کے لئے مشہور شہر راس النوف کئی بار معمر قذافی اور انقلابیوں کے قبضہ میں آ چکا ہے اور وہاںسب سے شدید جنگ جا ری ہے۔ البتہ یہ طے ہے کہ اب معمر قذافی حکومت کے جاری رہنے کے امکانات ختم ہو چکے ہیں۔ ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ ابھی تک لیبیا میں قذافی مخالف رہنمائوں نے امریکہ اور اس کے اتحادی ممالک سے اس احسان کے بدلے میں کوئی خاص وعدہ نہیں کیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ راس لنوف تیل مرکز پر مخالفین کا قبضہ ہونے کے بعد بھی قذافی کے فوجیوں کا پھر سے قبضہ ہونے دیا گیا۔ ورنہ یہ ممکن نہیں ہے کہ اگر زمینی جنگ میں شامل انقلابیوں کو فضائی حمایت مسلسل ملے پھر بھی شہر پر پھر سے قذافی کے فوجی پھر سے قابض ہو سکیں۔
میرا تجزیہ ہے کہ امریکی حکام مصر میں حسنی مبارک مخالف قوتوں کی حمایت کر کے پچھتا رہے ہیں۔ انہیں یہ محسوس ہو گیا ہے کہ خطے کے ممالک میں اٹھنے والی تحریکوں کی کامیابی کے نتیجہ میں ان کے ’’مفادات‘‘ کو نقصان پہنچے گا۔ مصر میں ابھی کوئی جمہوری حکومت قائم نہیں ہوئی ہے پھر بھی وہاں کی عبوری حکومت نے عوام کی مرضی کے مطابق ایرانی فوجی جہازوں کو سوینر نہر سے گزرنے کی اجازت دے کر اور غزہ اور مصر کے درمیان سرحدی چوکی کھول کر یہ واضح اشارہ دیا ہے کہ وہ اب اسرائیل اور امریکہ کی مرضی کے مطابق فیصلے نہیں کریں گے۔ لیبیا کے معمر قذافی 2003سے پہلے تک امریکہ کے شدید مخالف سمجھے جاتے تھے۔قذافی صدام حسین کی حکومت کا تختہ پلٹتے ہی خوفزدہ ہو کر امریکہ پر ایمان لے آئے تھے اور اپنے جوہری پروجیکٹ کا تمام ساز و سامان پانی کے جہاز میں لاد کر امریکہ کے لئے روانہ کر دیا تھا۔ اس کے بعد امریکہ اور اس کے اتحادی ممالک نے لیبیا کے تیل پر ایک طرح سے قبضہ کر لیا۔ لیبیا میں معمر قذافی کے خلاف احتجاجات کے شروع میں امریکہ نے قذافی مظالم پر طویل خاموشی رکھی جس کے نتیجہ میں تقریباً 10ہزار افراد لقمۂ اجل بن گئے۔ اب تک لیبیا کی حکومت سے کم از کم ایک درجن ممالک میں سفراء نے علیحدگی اختیار کر لی ہے۔ حال ہی میں لیبیا کی وزیر خارجہ موسیٰ کو سانے برطانیہ میں پناہ لی ہے۔ حالات روزبروز خراب ہو رہے ہیں۔ اکثر شہر مخالفین کے زیر کنٹرول ہیں اور کئی شہروں میں دونوں طرف سے جنگ جاری ہے لیکن اب بھی مخالفین کو پوری طرح مغربی حمایت نہیں مل رہی ۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو تیل سے مالامال شہر راس النوف دوبارہ حکومت کے فوجیوں کے قبضہ میں نہیں جاتا۔
یمن میں فوج کے کئی بڑے حکام اور قبائلی رہنمائوں نے علی عبد اللہ صالح کی حکومت سے علیحدگی اختیار کر کے انقلابیوں کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔ امریکہ کا اتحادی سعودی عرب یمن کی حکومت بچانے کے لئے عوام مخالف کارروائیوں کی حمایت کر رہا ہے۔ میرا تجزیہ ہے کہ بحرین اور یمن میں امریکہ کی خاموشی کی وجہ سے انقلاب کی کامیابی سے پہلے بڑی تعداد میں لوگ مارے جائیں گے۔ ان ممالک میں عوامی کامیابی کے بعد سعودی عرب اور دیگر عرب ممالک میں بھی انقلاب پھیلے گا۔
) بشکریہ  چوتھی دنیا ) (مضمون نگار میڈیا اسٹارنیوز اینڈ فیچرس کے چیف ایڈیٹر ہیں)